'براڈ شیٹ کی کارروائیاں پبلک کر دی گئیں' 

'براڈ شیٹ کی کارروائیاں پبلک کر دی گئیں' 
'براڈ شیٹ کی کارروائیاں پبلک کر دی گئیں' 
سورس:   File

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب و مشیر داخلہ شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ براڈ شیٹ کی کاروائیوں کو پبلک کر دیا گیا ہے، معاملہ جب سامنے آیا تھا تو ہم نے اسی وقت فیصلہ کر لیا تھا کہ اس معاملے کی پوری تحقیقات کی جائیں گی۔ 

مشیر داخلہ سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ براڈ شیٹ کی کہانی مئی 2000 سے شروع ہوئی، مئی 2000کے بعد دسمبر 2000 میں نواز شریف معاہدے کے تحت ملک چھوڑ کر گئے۔ سال  2007 میں براڈ شیٹ اور دوسری کمپنی نے معاہدہ ختم کرنے کا نوٹس کیا جبکہ 2008 میں براڈ شیٹ کے ساتھ دوبارہ معاہدہ کیا گیا۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ براڈ شیٹ نے نیب کے خلاف ثالثہ مقدمہ دائر کیا، 2009میں پتا چلا کہ جس شخص کو ادائیگی کی اسکا تعلق براڈ شیٹ سے نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‏براڈ شیٹ سے متعلق فیصلے کے حوالے سے سوالات کیے جا رہے ہیں جبکہ اسد منیر کی خود کشی کو نیب کے ساتھ منسوب کرنا درست نہیں۔

مشیر داخلہ شہزاد اکبر کا مزید کہنا تھا کہ مئی 2000میں نیب نےبراڈشیٹ اورایک اورکمپنی کوہائرکیا، نیب نے دونوں کمپنیوں کے ساتھ معاہدہ منسوخ کیا جبکہ‏2008 میں ایک کمپنی کو 1.5 بلین ادائیگی کر دی جاتی ہے اور 2009 میں پتا چلتا ہے کہ غلط کمپنی کو ادائیگی کر دی گئی۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -