آج اسلام آباد میں میدان لگے گا، کچھ حاصل بھی ہوگا؟

آج اسلام آباد میں میدان لگے گا، کچھ حاصل بھی ہوگا؟
آج اسلام آباد میں میدان لگے گا، کچھ حاصل بھی ہوگا؟

  

پاکستانی سیاست کی اگر کوئی بنیادی خصوصیت ہے تو وہ ہے اس کے اندر رکھ دی گئی دائمی بے یقینی۔ کوئی بھی حکومت دیکھ لیں جو ماضی کے ادوار میں گزری ہو، اسے یہ دھڑکا ہی لگا رہا کہ اب گئی یا تب گئی۔ آئین کی شقیں ہوں یا قانون کی روایات،وہ سب اس بے یقینی کے آگے ڈھیر ہو جاتی ہیں، حکومت گرانے کی کوشش ہمارے ہاں ہمیشہ ہی سے اپوزیشن کا مرغوب ترین مشغلہ رہا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اسے نام بھی جمہوریت کا دیا جاتا ہے۔ آج پھر اسلام آباد میں ایک میدان لگنے والا ہے۔ امیدوں اور خواہشوں کے انبار لے کر پی ڈی ایم اسلام آباد الیکشن کمیشن آفس کے باہر پہنچے گی۔ سب کی تمنا یہی ہوگی کہ الیکشن کمیشن فارن فنڈنگ کیس میں تحریک انصاف کو کالعدم قرار دے دے۔ اس کے نتیجے میں کیا آئینی و سیاسی بحران پیدا ہو سکتا ہے، اس کی کسی کو کوئی پروا نہیں، ویسے بھی یہ کون سا قانونی و آئینی طریقہ ہے کہ آپ ہزاروں افراد لے کر کسی عدالت، کسی کمیشن کے سامنے بیٹھ جائیں اور مرضی کا فیصلہ چاہیں، لیکن کوئی مانے نہ مانے ہمارے ہاں یہ طریقہ ہمیشہ سے چلا آ رہا ہے۔ دھرنے دیئے جاتے ہیں، ریلیاں نکالی جاتی ہیں، معمول کے طریقہء کار کی بجائے شارٹ کٹ سے مقاصد حاصل کرنے کی کوششیں جاری رکھی جاتی ہیں۔

عقل حیران اس لئے ہوتی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن میں ایسے فاصلے کون پیدا کر دیتا ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتے، دونوں کے پیروں میں ایسی زنجیریں کون ڈال دیتا ہے کہ آگے بڑھنا ان کے لئے ممکن ہی نہیں رہتا۔ دنیا بھر میں بڑے سے بڑا مسئلہ ملکوں کے درمیان ہو یا سیاسی جماعتوں کے بیچ، وہ مذاکرات ہی سے حل ہوتا ہے۔ یہاں مذاکرات شجر ممنوعہ بن جاتے ہیں، ان کا کوئی نام بھی لے تو غدار، موقع پرست اور مفاداتی کہلاتا ہے۔ تاریخ میں تو یہ بھی ہو چکا ہے کہ جب بھٹو اور اپوزیشن میں مذاکرات کامیاب ہو گئے اور صرف دستخط ہونا باقی رہ گئے تھے، فوجی آمریت نے شب خون مار کے سب تتر بتر کر دیا۔ یہ بے یقینی کی تلوار آخر کیسے لٹک جاتی ہے، کون لٹکاتا ہے؟ پھر یہ کیا ضد ہے کہ کبھی اپوزیشن بات کرنے کو تیار نہیں ہوتی اور کبھی حکومت والے انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں، جہاں مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے بھی حکومت اس خوف میں مبتلا ہو کہ اس کی ساکھ تباہ ہو جائے گی وہاں حالات میں استحکام کیسے پیدا ہو سکتا ہے، پھر تو ساری باتیں، ساری کوششیں اور سارے احتجاج سڑکوں پر ہی ہوں گے۔ ایک بے یقینی میں ڈوبا ہوا نظام عوام کو کیا ریلیف دے سکتا ہے۔ ہر وقت کچھ ہو جائے گا، کھٹکا تو انسان کو مضطرب رکھتا ہے، حکومت تو ایسے حالات میں اپنا اعتبار اور ساکھ کھو دیتی ہے۔

مان لیتے ہیں آج کچھ نہیں ہوگا، احتجاج ہوگا، تقریریں ہوں گی، چھوٹا موٹا دھرنا دیا جائے گا اور شام تک معاملہ ختم ہو کر قصہء  پارینہ بن جائے گا۔ لیکن کیا اس کے بعد ملک میں ٹھہراؤ آئے گا، کیا اپوزیشن کی مہم جوئی ختم ہو جائے گی۔ کیا یہ جو روز کی کل کل ہے، اس کا اختتام ہوگا، نہیں صاحب نہیں ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ اگلے دن سے پھر وہی اپوزیشن ہو گی اور پھر وہی حکومت، اِدھر سے کوئی مانے گا نہ اُدھر سے کوئی باز آئے گا۔ اس جھگڑے میں نقصان صرف عوام کا ہوگا۔

ان کے مسائل بڑھتے جائیں گے اور سیاسی لڑائی میں وہ شہید کی طرح پستے رہیں گے۔ جہاں حکومت کی ساری توجہ اور توانائیاں اس بات پر مرکوز ہوں کہ اپوزیشن کے داؤ پیچ کو کس طرح ناکام بنانا ہے۔ وہاں عوام کو ریلیف دینے کے بارے میں سوچنے کی کسی کے پاس فرصت ہی کہاں رہتی ہے۔ یہ سوال ہمیشہ سے جواب طلب رہا ہے کہ ہمارے جمہوری حکمرانوں کے پاس آخر وہ صلاحیت یا دوسرے لفظوں میں وہ اختیار کیوں نہیں ہوتا کہ وہ اپوزیشن کو مذاکرات کی میز پر لا سکیں۔ چلیں ایک لمحے کے لئے یہ مان لیتے ہیں کہ اپوزیشن صرف وزیراعظم سے مذاکرات کرنا چاہتی ہے اور مذاکرات بھی اس ایجنڈے پر کہ وہ استعفا دیں۔ تو مذاکرات کرنے میں حرج کیا ہے۔ ایک بار تو قوم کے سامنے یہ بات آنی چاہیے کہ مذاکرات کی میز پر اپوزیشن حکومت کو اس نکتے پر قائل کرنے میں کامیاب رہی یا ناکام کہ اسے مستعفی ہو جانا چاہیے۔

بنیادی اصلاحات کی بجائے ہر دور میں بس حکومت گرانے کا ایجنڈا ہی ہماری اپوزیشن کا منشور رہا ہے۔ حالانکہ معاملات کو سلجھانے کے لئے اصلاحات کی ضرورت ہوتی ہے، مثلاً فرض کرتے ہیں کہ پی ڈی ایم کی تحریک کے نتیجے میں حکومت ختم ہو جاتی ہے اور نئے انتخابات کا اعلان کر دیا جاتا ہے تو اب عام آدمی بھی یہ سوال کرتا ہے کیا ان کے نتائج ہارنے والے کھلے دل سے قبول کریں گے؟ اس کا اثبات میں جواب دینا مشکل ہے پہلے دن سے دھاندلی کے الزامات لگنا شروع ہو جائیں گے، پھر وہی اسٹیبلشمنٹ اور فوج کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا اور اس کے بعد حکومت گرانے کی تحریک شروع ہو جائے گی۔ یہ کیسا شیطانی چکر ہے جس میں سے قوم نکل نہیں پا رہی۔

زندہ قوموں کا وطیرہ وہ ہوتا ہے جو امریکہ میں ہوا، ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی نتائج تسلیم نہ کئے اور کانگریس کے اجلاس پر اپنے حامیوں کو حملہ کرنے پر اکسایا تو آج انہیں مواخذے کا سامنا ہے۔ حالانکہ ان کی آئینی مدت ختم ہو رہی ہے، مگر کانگریس ان کا مواخذہ چاہتی ہے، تاکہ آئندہ کسی کو امریکی نظامِ انتخاب کے خلاف ہرزہ سرائی کی جرات نہ ہو۔ہم کیا کرتے ہیں، انتخابات کے اگلے ہی روز دھاندلی کا واویلا شروع ہو جاتا ہے اور پھر پانچ سال تک وہی ڈھولکی بجتی رہتی ہے۔ چاہیے تو یہ کہ شفاف انتخابات کے لئے حکومت اور اپوزیشن مل بیٹھیں۔ ایسی اصلاحات لائیں کہ کسی کو انتخابات کے نتائج پر انگلی اٹھانے کی جرات نہ ہو، مگر اس کی بجائے پہلا ہدف حکومت کو گرانے کا بنا کر ایک ایسے انتشار کی بنیاد رکھ دی جاتی ہے، جو قوم کے اعصاب شل کر دیتا ہے۔ سڑکوں پر تحریکیں چلتی ہیں اور قوم اپنے مسائل کے حل کی راہ تکتی رہ جاتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -