ہماری خوئے غلامی کا علاج؟

ہماری خوئے غلامی کا علاج؟
ہماری خوئے غلامی کا علاج؟

  

کیا پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہے؟…… اس سادہ سے سوال کا جواب پاکستان کے جاری حالات کو دیکھ کر بڑی آسانی سے نفی میں دیا جا سکتاہے۔ لیکن اگر اس کی وجہ پوچھی جائے تو اس کا جواب نہائت مشکل بلکہ پیچ در پیچ ہوگا۔

پاکستانی عوام نے بڑے ارمانوں سے 2018ء کے الیکشن میں ایک تیسری پارٹی کو ووٹ دیا تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ دوپارٹی سسٹم جو جمہوریت کی روحِ رواں سمجھا جاتا ہے ناکام ہو چکا تھا۔ سب سے بڑا دھچکا جو پاکستان کی روائتی سیاست کو لگا وہ اس کی کرپشن کے پول کی بے نقابی تھی۔ اس میں اب کوئی شک نہیں رہا کہ دونوں بڑی پارٹیوں کے لیڈروں نے جمہوری روایات کی روح کچل کر اپنی ذات پر فوکس کرنے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی۔ پاناما لیکس سے بات شروع ہوئی تو نوازشریف کی معزولی تک جا پہنچی۔ لیکن اس گیم پلان میں صرف نوازشریف ہی ننگے نہ ہوئے بلکہ دوسری حریف پارٹی کا بھی یہی حال ہوا۔ اگر نواز لیگ کو پاناما لیکس نے برہنہ کیا تو پی پی پی کو نیب کی تحقیقات نے طشت ازبام کر دیا۔جوں جوں دن گزرے معلوم ہوا کہ دونوں پارٹیوں کے قائدین نے اپنی ذات کو مرکزِ فکر و عمل بنا کر وہ وہ گل کھلائے ہیں کہ بی بی جمہوریت ہزاروں برس سر پیٹتی رہے تو بھی یہ داستان مکمل نہ ہو۔ دونوں پارٹیوں کے کرتا دھرتاؤں نے نہ صرف اپنا ذاتی امیج مستحکم کیا بلکہ اپنی آل اولاد کو بھی جمہوری اقدار کے فروغ کے لبادے میں موروثی حکومت کی راہ پر ڈالا۔ آیئے ذرا تاریخ کے جھروکوں میں جھانکتے ہیں۔

برصغیر میں 1193ء میں پرتھوی راج کی شکست کے بعد باقاعدہ مسلم اقتدار کا آغاز ہوا۔ 711ء میں محمد بن قاسم نے صرف سندھ کو مسخر کیا تھا لیکن اس فتح کے 500سال بعد ہندوستان پر مسلمانوں کی باقاعدہ اور متواتر حکومت اس وقت شروع ہوئی جب قطب الدین ایبک تختِ دہلی پر متمکن ہوا۔ محمد بن قاسم تو دیبل فتح کرنے کے بعد واپس لوٹ گیا تھا لیکن سندھ میں اس کے جانشینوں میں کوئی قطب الدین ایبک نہ تھا۔ اگر ہوتا بھی تو اس کا مرکز تو دمشق (شام) ہوتا جو اموی خلافت کا ہیڈکوارٹر تھا اور جو سندھ سے ہزاروں میل دور تھا۔لیکن 1193ء میں دہلی سے غزنی اور غور کچھ زیادہ مسافت پر نہ تھے، اس لئے وہاں سے باقاعدہ وقفے وقفے سے عسکری کمک آتی رہی اور خاندانِ غلاماں کے بعد خاندان مغلیہ تک تمام خانوادوں کی شخصی اور موروثی حکومت کی تقویت کا باعث بنتی رہی۔ پھر جب برطانویوں نے 1857ء میں دہلی پر قبضہ کیا تو انگریز وائسرائے کا ہیڈکوارٹر بھی اگرچہ لندن سے ہزاروں میل دور تھا لیکن یہ ہزاروں میل زمینی میل نہ تھے، بحری (ناٹیکل) میل تھے۔

یعنی جدید ٹیکنالوجی نے جنگ و جدال کا تمام نقشہ بدل دیا تھا۔ اہلِ ہند کی ذہنیت تو شروع سے ہی غلامانہ تھی اس لئے وہ اس ٹیکنالوجیکل تبدیلی کا ادراک نہ کر سکے۔ آپ حیران ہوں گے کہ ہمارا حال آج بھی وہی ہے۔ برصغیر کے حکمران 1947ء میں آزاد ہو کر بھی 74برس بعد آج غلامی کی دیرینہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ 1947ء میں انگریز تو یہاں سے چلا گیا (اس کے چلا چلاؤ کی وجوہات کا تذکرہ ایک الگ موضوع ہے) لیکن اس کے بعد پاکستان اور بھارت میں جو حکومتیں قائم ہوئیں ان کی ذہنیت میں اسی غلامی کے جراثیم تھے جو ہندو، مسلم اور برٹش دور میں تھے۔ بھارت میں نہرو خاندان نے جمہوریت کے نام پر عشروں تک حکومت کی اور پاکستان بھی یہی کچھ کرتا اگر قائداعظم، صاحبِ اولاد ہوتے!…… ان کی کوئی اولاد بھی تھی تو اس کو بانی ء پاکستان نے سیاست سے دور رکھا!!

قائداعظم کی رحلت کے بعد پاکستان میں قیادت کا اصل بحران شروع ہوا جو 1948ء میں (وفاتِ قائد کے بعد) شروع ہو کر 1988ء میں (ضیاء الحق کے طیارے کے سانحے کے بعد) ختم ہوا۔ ان 40برسوں میں پاکستان نے جمہوریت اور آمریت کے کئی تجربے کئے جو ناکام ثابت ہوئے۔ ایوب خان کا 11سالہ دور جب اختتام کو پہنچا تو انہوں نے بھی حکومت کی باگ ڈور اپنی معنوی اولاد (پاکستان آرمی / جنرل یحییٰ خان) کے حوالے کی۔ مارشل لاؤں کا تسلسل، یحییٰ خان کے بعد بھی جاری رہتا اگر مشرقی پاکستان میں 1971ء کا سانحہ رونما نہ ہوتا۔ اس سانحے نے بچے کھچے پاکستان (مغربی پاکستان) میں فوجی حکمرانی کے علی الرغم جمہوری حکمرانی کے تجربے کا از سر نو آغاز کرنا چاہا، جس کا حشر آپ نے جنرل ضیاء الحق کے ہاتھوں ہوتا ہوا دیکھا، اگر بہاولپور کا سانحہ پیش نہ آتا تو کون جانے ضیاء الحق کی طبعی موت تک ان کا دورِ اقتدار برقرار رہتا۔ 17اگست 1988ء کو ضیاء الحق کی تدفین کا منظر جن لوگوں کی نگاہوں نے دیکھا ہے وہ میرے استدلال کی توثیق کریں گے کہ ہم پاکستانیوں نے ضیاء الحق کو تاحیات صدر تسلیم کرنے کی خُو کا آغاز کر دیا تھا۔

پاکستان نے تیسری چوتھی بار 1988ء میں جمہوریت کے تجربے کا آغاز کیا جو بمشکل 10،11سال (1988ء تا 1999ء) چل سکا اور یہ گاڑی پھر پٹڑی سے اتر گئی۔ 1999ء سے 2008ء تک جنرل پرویز مشرف کا دور رہا۔ اس کا اختتام ہوا تو چونکہ یہ تبدیلی کسی سانحے کی مرہونِ منت نہ تھی اس لئے جمہوری دور نے جڑیں پکڑنے کا آغاز کیا۔ 2008ء سے 2018ء تک جو دو جمہوری ادوار گزرے ان میں جمہوریت نہیں، شخصی حکمرانی مستحکم ہوئی۔ نون لیگ اور پی پی پی کو اپنی اپنی پارٹی سے کوئی ایک بھی ایسی شخصیت نہ ملی جو ان کے بعد اصل جمہوری اقدار کی طرح ڈالتی…… نوازشریف کے بعد ان کے بھائی، بھتیجے اور بیٹی اور بھٹو کے بعد ان کی بیٹی، داماد اور نواسے کی پذیرائی تو آج ہمارے سامنے کی باتیں ہیں۔ یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ ہم برصغیر کے باسیوں میں خوئے غلامی راسخ ہو چکی ہے۔ کیا آپ کو نظر نہیں آتا کہ جب بھی مریم نواز کی کسی عدالت میں پیشی ہوتی ہے تو ان کے لیگی غلام اور کنیزیں کس طرح ان کی کار پر گلاب کی پتیاں نچھاور کرتی ہیں اور جب زرداری کی پیشی کہیں ہوتی ہے تو ان کے جیالے غلام اور کنیزیں بھی کس طرح ان پر قربان ہو ہو جاتے ہیں؟

یہ مناظر کسی بھی پاکستانی نے فوج کے چار مارشل لاؤں کے بانی جرنیلوں ایوب خان، یحییٰ خان، ضیاء الحق اور پرویز مشرف کی کسی آمد و رفت کے مواقع پر نہ دیکھے۔ کیا آپ نے سوچا کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ کیا جمہوریت اسی کا نام ہے؟ دنیا کی کسی ڈکشنری میں جمہوریت کی تعریف (Definition) نکال کر پڑھ لیں۔ آپ کو وہ مفہوم کہیں نہیں ملے گا جو ہم ایک عرصے سے اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں …… اور اگر میڈیا کسی معاشرے کا آئنہ ہے تو اپنے پرائم ٹائم کے ٹاک شوز ہی دیکھ لیں۔تمام اینکرز اور سارے شرکائے مباحثہ نوازشریف، آصف زرداری اور عمران خان کے قصیدے پڑھ رہے ہوں گے یا ان کو کوس رہے ہوں گے…… غلامانہ ذہنیت کا اس سے بڑا مظاہرہ اور کیا ہوگا؟…… فرض کریں اگر عمران خان 2023ء میں دوبارہ وزیراعظم بن جاتے ہیں تو پی ٹی آئی کے لئے 2028ء کے الیکشنوں میں بھی عمران خان ہی نظر آئیں گے۔ ان کی اگر کوئی اولاد پاکستان میں ہوتی تو ہم پاکستانی غلام اس کو تختِ پاکستان کا وارث گردانتے کہ یہی خوئے غلامی ہمیں نسلوں سے اپنے ورثے میں ملی ہے۔

مجھے اگرچہ اس بات کا کوئی امکان نظر نہیں آتا لیکن ہمیں چاہیے کہ آئین میں ایک ترمیم کے ذریعے یہ شق بھی شامل کر لیں کہ پاکستان کی کسی بھی مین سٹریم سیاسی پارٹی کا لیڈر اپنا کوئی خون کا رشتہ دار بھی مسندِ اقتدار پر فائز کروا سکتا ہے۔

پاکستانی آئین میں یہ شق اگرچہ ایک انوکھی شق ہو گی لیکن ہم پاکستانیوں کو کم از کم اس غلامانہ روائت سے باہر نکلنے کا ایک راستہ تو مل جائے گا جو جمہوریت اور بادشاہت کا ملغوبہ کہا جا سکے گا۔ یورپ میں اس کی کئی مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ایشیا میں جاپان کو دیکھ لیں۔سینکڑوں برسوں سے برطانیہ نے بھی یہی کیا ہوا ہے۔ انگریزوں نے اپنی خوئے غلامی کا علاج بادشاہت کو باقاعدہ ایک آئینی ادارہ بنا کر، کردیا ہے۔ وہاں کے عوام Long Live the King کے ساتھ ساتھ اپنے پرائم منسٹر کے حقوق و فرائض کی نگہبانی کرنے کی راہ پر بھی گامزن رہتے ہیں۔ ہم اس راہ کو اپنانے میں اگر مزید پس و پیش کریں گے تو من حیث القوم انتہائی منافقت کا ثبوت دیں گے!……آج الیکشن کمیشن کے سامنے PDM جو مظاہرہ کر رہی ہے اس کا لبِ لباب یہی ہے کہ ’غلام ابنِ غلام‘ یا ’غلام بنتِ غلام‘ والے کلچر کو فروغ دینے کی بنیاد مستحکم کی جائے!

مزید :

رائے -کالم -