"سانحہ مری کی رات 50 سے  60 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوا چلی ، ڈی سی نے لا پرواہی کی" لاہور ہائیکورٹ کے ریمارکس

"سانحہ مری کی رات 50 سے  60 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوا چلی ، ڈی سی نے لا پرواہی ...

  

راولپنڈی ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سانحہ مری پر تین درخواستوں کی لاہور ہائیکورٹ  راولپنڈی بینچ میں سماعت ہوئی ،  عدالت نے ریمارکس دیے کہ سانحہ مری کی رات 50 سے 60 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوا چلی ، ڈی سی نے لا پرواہی کی ۔

سانحہ مری سے متعلق درخواستوں پر راولپنڈی بینچ لاہور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی ، کمشنر ، ڈپٹی کمشنر ، آر پی او ، سی پی او ، اے سی مری اور چیف ٹریفک آفسر عدالت پیش  ہوئے ۔  عدالت نے استفسار کیا کہ کمشنر صاحب بتائیں کس کی ذمہ داری تھی ،کیا برفباری کی الرٹ تھی ، کیا آپ نے تحقیقاتی رپورٹ دیکھی ، مسئلہ کب شروع ہوا ۔

کمشنر راولپنڈی نے عدالت کو بتایا کہ رپورٹ دیکھی ہے ، 7 اور 8 جنوری کی درمیانی شب برفانی طوفان آیا ،پانچ تاریخ کو محکمہ موسمیات نے الرٹ جاری کیا تھا ،  ہماری  29 میں سے 16 مشینیں آپریشنل تھیں ۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا سردیوں میں مری کے لئے کوئی ایس او پیز ہیں  ؟،  ہم ایک سانحے کے بعد دوسرے کا انتظار کیوں کرتے ہیں ؟،  یہ آرمڈ فورسز کا کام نہیں کہ آکر ٹریفک چلائیں ، سانحہ مری کے وقت ضلعی ایمرجنسی کمیٹی کہاں تھی ، مری کے ہوٹل  کون ریگولیٹ کرتا ہے ، مری میں پچاس سے اٹھ یل فی گھنٹہ رفتار سے ہو چلی ، ڈی سی صاحب آپ نے لاپروائی کی ۔ڈپٹی کمشنر نے عدالت کو بتایا کہ محکمہ موسمیات نے مری میں تیز برفباری کی پیشوئی کی  تھی ، برفانی طوفان کی نہیں۔

عدالت نے سی ٹی او سے استفسار کیا کہ مری میں ٹریفک کنٹرول کرنے کیلئے کتنی مو ٹرسائیکلز ہیں، سی ٹی او نے جواب دیاکہ ہمارے  پاس مری میں 4 سنو بائیکس ہیں،  عدالت نے اگلی پیشی پر مری میں موجود سُنو بائیکس کا ریکارڑ طلب کرلیا۔ 

عدالت نے ریمارکس دیے کہ  مری میں لوگوں کو جہاں جگہ ملتی ہے عمارتیں کھڑی کردیتے ہیں، ڈی سی راولپنڈی نے جواب دیا کہ  ہوٹلوں کو محکمہ سیاحت پنجاب ریگولیٹ کرتا ہے جو مری میں نہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ  انتظامیہ ہوٹل ایسوسی ایشن کے ساتھ بیٹھ کر معاملہ طے کرے، ہوٹلوں کی سہولیات کے مطابق انکی درجہ بندی کی جائے۔ 

دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ کیا وجہ ہے 3 سال میں 7 اے سی مری تبدیل ہوئے، ذمہ داری بیوروکریسی پر ڈال دیتے ہیں اور انہیں کام نہیں کرنے دیتے، کیا کوئی سیاسی طاقتور ادھر ہے؟ ۔عدالت نے کیس کی مزید  سماعت 26 جنوری تک ملتوی کردی۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -