کراچی میں کورونا وائرس کے پھیلاو کا تناسب کہاں تک پہنچ گیا ؟انتہائی تشویش ناک خبر آ گئی 

کراچی میں کورونا وائرس کے پھیلاو کا تناسب کہاں تک پہنچ گیا ؟انتہائی تشویش ...
کراچی میں کورونا وائرس کے پھیلاو کا تناسب کہاں تک پہنچ گیا ؟انتہائی تشویش ناک خبر آ گئی 

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایڈمنسٹریٹر کراچی،مشیر قانون و ترجمان حکومت سندھ بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کا تیزی سے پھیلاو ہورہا ہے ،صوبے میں مجموعی طور پر 24 گھنٹے کے دوران مثبت کیسز کا تناسب ایک فیصد سے بڑھ کر 19 فیصد ہوگیا ہے، کراچی میں کورونا وائرس کے پھیلاو کا تناسب 39فیصد تک پہنچ گیا ہے،شہری لازمی ویکسی نیشن کروائیں اور ماسک پہنیں، 24 جنوری سے ان ڈور تقریبات پر پابندی ہوگی، وفاقی حکومت کے منی بجٹ کے باعث معاشی صورتحال سنگین ہو رہی ہے ،وفاقی حکومت نے اپنے اے ٹی ایمز کو نوازنے کے لیے صحت کارڑز کا اجرا کیا،عام پاکستانی مہنگائی کے حوالے سے شدید کشمکش کا شکار ہے ۔

سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےبیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ کورونا وائرس کے پھیلاو کی وجہ سے ہسپتالوں پر بھی دباو بڑھنا شروع ہوگیا ہے، لوگوں نے معمولات زندگی میں ماسک پہننا چھوڑ دیا ہے اور ایس او پیز پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا ، یہی کورونا کے پھیلاو کی وجہ ہے، صورتحال میں تبدیلی کہ وجہ سے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (این سی او سی) نے کچھ فیصلے کئے ہیں اور اس حوالے سے تجاویز دی ہیں جن لوگوں نے ویکسی نیشن کرا لی ہے وہ بوسٹر شاٹ لگوائیں جس کے لئے ویکسین موجود ہے، سماجی تقریبات اور شادی بیاہ کے موقع پر ماسک پہنیں اور ایک دوسرے کو بچائیں۔

انہوں نے کہا کہ منی بجٹ منظور ہوتے ہی بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا،منی بجٹ کے بعد ادویات کی قیمتوں میں 20 فیصد تک اضافہ کیا جا رہا ہے، یہ بہت بڑا انسانی المیہ ہے ، غریب آدمی مجبور ہے، اندرون سندھ اور ملک کے دیگر حصوں میں مہنگائی کے باعث لوگ سخت مشکل زندگی گزار رہے ہیں اور یہ سب وفاقی حکومت کی نااہلی کے باعث ہے، ان لوگوں نے ہر چیز میں عوام کا استحصال کیا ہے، پاکستان کے عوام اس حکومت سے چھٹکارا چاہتے ہیں اور عوام دشمن حکومت سے بلاول بھٹو زرداری چھٹکارا دلائیں گے۔

ایڈمنسٹریٹر کراچی نے کہا کہ وفاقی حکومت گرمی میں بجلی اور سردیوں میں گیس نہیں دیتی، منی بجٹ پاس ہوتے ہی بجلی اور پٹرول سمیت ادویات کی قیمتیں بڑھا دی گئی ہیں ، ادویات اور خام مال درآمد کرنے کے باعث فارما کمپنیاں صارفین سے رقم وصول کریں گی ،عمران خود کو ماحولیات کا چیمپئن کہتے ہیں حالانکہ سندھ سمیت پورے ملک میں بجلی اور گیس کے مسائل ہیں اور زراعت سمیت ہر شعبے میں موجودہ حکومت نے عوام کا استحصال کیا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے صوبے میں علاج کی سہولیات دیگر صوبوں سے بہتر ہیں، آج دیگر صوبوں سے لوگ مفت اور اچھا علاج کرانے سندھ آتے ہیں جو اس حقیقت کا ثبوت ہے،صحت کارڑز کا مقصد ان دوستوں، یاروں کو نوازنا ہے جن کے اپنے ہسپتال ہیں، انفیکشیز ڈیزیز اور حادثات کا علاج صحت کارڑز کے تحت نہیں کیا جارہا، لوگ پوچھ رہے ہیں صحت کارڈ کا مقصد آخر کیا ہے؟ایکسیڈنٹ اور دیگر حادثات میں صحت کارڈ مسئلہ حل نہیں کر پائے گا، سولر پینل پر ٹیکس سے غریب آدمی پر مزید مہنگائی کا اثر ہوگا جو پہلے ہی زبردست دباو میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں تین بڑی سیاسی جماعتوں نے محض چند سو لوگ جمع کرکے دھرنا اور ریلی نکالی جبکہ شہریوں کے اصل مسائل کو پس پشت ڈال دیا گیا ،پھر بھی ہم ان کے پاس گئے ہیں اور ہر معاملے پر بات چیت ہوسکتی ہے مگر پہلے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں رائج قانون تو پڑھ لیں، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں مقابلے میں سندھ حکومت نے عوامی مسائل کے حل کے لئے ایک بہتر اور جامع قانون پیش کیا ہے،آئین میں پارلیمانی طرز حکومت کی بات کی گئی ہے، پارلیمانی لیڈر عوام کے چنے ہوئے ہوتے ہیں مگر یہاں جمہوریت پر شب خون مارنے کی کوشش کی جا رہی ہے جسے عوام کامیاب نہیں ہونے دیں گے، عددی اکثریت اہمیت کی حامل ہے، دیکھنا یہ ہے کہ سندھ کے عوام کے لئے کیا بہتر ہے اور اسی حوالے سے سندھ اسمبلی کے اراکین نے اپنا فیصلہ دیا ہے، سیاسی جماعت جسے عوام نے مسترد کردیا ہے وہ اس طرح فیصلہ نہیں کراسکی۔

مزید :

کورونا وائرس -