وزیراعظم نے فوجداری قوانین میں تبدیلی کی منظوری دیدی

وزیراعظم نے فوجداری قوانین میں تبدیلی کی منظوری دیدی
وزیراعظم نے فوجداری قوانین میں تبدیلی کی منظوری دیدی

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر اعظم  عمران خان نے  فوجداری مقدمات کا قانون بدلنے کی منظوری دیتے ہوئے کہا ہے کہ   اصلاحات کے نفاذ سے حکومت کے قانون کی بالادستی کےمنشور کوعملی جامہ پہنایاجاسکےگا،قانون کی بالادستی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے،وقت کےساتھ ساتھ فوجداری نظام میں انتہائی اہم تبدیلیاں نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں امیر اور غریب کیلئے قانون میں فرق بڑھتا گیا۔

تفصیلات کے مطابق  وفاقی کابینہ نے امریکہ اور برطانیہ طرز کا آزاد پراسیکیوشن سروس کا نیا قانون لانے کا فیصلہ کیا ہے۔فوجداری قوانین میں تبدیلی سے پولیس اور عدالتی نظام میں انقلابی تبدیلی آئے گی۔ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ ہم اس حوالے سے  آرڈیننس نہیں لا رہے، اس سے عام آدمی کا فائدہ ہوگا، اپوزیشن حکومت کا ساتھ دے۔

کابینہ اجلاس میں  فروغ نسیم نے 600 سے زیادہ نکات میں ترمیم پر بریفنگ دی جو آئندہ ہفتے منظوری کے لیے کابینہ میں پیش ہوں گی اور بدھ کو پارلیمنٹ میں پیش کی جائیں گی۔

اجلاس میں وزیرِ اعظم کو فوجداری نظامِ انصاف میں اصلاحات پرتفصیلی بریفنگ دیتےہوئےبتایا گیا کہ حکومت ملک کی 70سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ اس نظام میں بڑی تبدیلیاں لے کر آرہی ہے جس کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر اتفاقِ رائے سے فیصلہ سازی کی گئی ہے،اسکے علاوہ قانون میں تبدیلی کیلئے بین الاقوامی سطح پر رائج بیسٹ پریکٹسس کو بھی ملحوظِ خاطر رکھا گیا ہے۔نئے نظام میں ایف آئی آر کی ڈیجٹلائزیشن، ٹرائل کے طریقہ کار، اپیل، الیکٹرانک و ڈیجیٹل ذرائع سے شواہد اکٹھا کرنے، فوجداری نظام میں بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ جدید آلات کا استعمال، پلی بارگین کے طریقہ کار میں تبدیلی، وڈیو کو شواہد کے طور پر استعمال کرنا شامل ہیں۔

اجلاس کو  بتایا گیا کہ فوجداری قانون میں نئے جرائم و دفعات تجویز کی گئی ہیں جن میں خواتین کے تحفظ کے قوانین بھی شامل ہیں، پی پی سی اور سی آر پی سی میں ترامیم بھی ان اصلاحات کا حصہ ہیں،مجوزہ ترامیم کا بل جلد پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا جس کی منظوری کے بعد نہ صرف جرائم کی روک تھام میں بہتری آئے گی بلکہ ایسے جرائم پیشہ لوگ جو جدت آنے کے بعد پرانے نظام میں سزائیں نہ ہونے کے باعث قانوں کی گرفت سے باہر تھے ان کے خلاف بھی موثر کارروائی ممکن ہو سکے گی۔نئی ترامیم کے مطابق ملک بھر میں ایس ایچ اوز، سب انسپکٹرز کے لیے گریجوایشن کی ڈگری لازمی قرار دے دی گئی ہے،ایف آئی آر درج نہ کرنے پر ایس پی کو درخواست دی جا سکے گی اور ایس پی عمل درآمد کا پابند ہوگا،نو ماہ میں مقدمات کا فیصلہ لازمی قرار دیا گیا ہے، ورنہ متعلقہ ججز ہائیکورٹ کو جواب دہ ہوں گے، نو ماہ میں ٹرائل مکمل نہ کرنے پر ججز کے خلاف ہائیکورٹ انضباطی کارروائی کرے گا۔

ترامیم کے مطابق تھانوں کو سٹیشنری، ٹرانسپورٹ، ضروری اخراجات کے فندز ملیں گے، سچا ثابت کرنے کے لیے آگ، کوئلے پر چلنا جیسی روایات قابل سزا ہوں گی، عام جرائم کے مقدمات میں پانچ سال تک سزا کے لیے پلی بارگین ہو سکے گی، عام جرائم کی سزا پانچ سال سے کم ہو کر صرف چھ  ماہ رہ جائے گی۔قتل، زیادتی، دہشت گردی، غداری، سنگین مقدمات میں پلی بارگین نہیں ہوگی۔ موبائل فوٹیجز، تصاویر، آواز ریکارڈنگز کو بطور شہادت قبول کیا جا سکے گا، ماڈرن ڈیوائسز کو بھی بطور شہادت قبول کیا جا سکے گا، فرانزک لیبارٹری سے ٹیسٹ کی سہولت دی جائے گی۔

مزید :

قومی -