حج کرپشن کیس‘عدالتی احکامات کی کب تک روگردانی کی جائے گی ‘اب عمل کرانے کا وقت آگیا:چیف جسٹس

حج کرپشن کیس‘عدالتی احکامات کی کب تک روگردانی کی جائے گی ‘اب عمل کرانے کا ...

  

اسلام آباد(خبرنگار)چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے منگل کے روز حج کرپشن کیس میں سخت ردعمل کااظہارکرتے ہوئے سابق تفتیشی افسراور آئی جی گلگت بلتستان حسین اصغر کی واپسی کے لیے حکام کو 24گھنٹوں کی مہلت دے دی ہے اور ریمارکس دیتے ہوئے کہاہے کہ عدالتی احکامات کی کب تک روگردانی کی جائیگی اب عمل کرانے کا وقت آگیاہے، حسین اصغر پیش نہ ہوئے توانھیں نوکری سے برخاست کردیں گے ،ملک میں آئین وقانون کی عمل داری ہوکر رہے گی چاہے کوئی مانے یانہ مانے ، اب مزید برداشت نہیں کریں گے۔ جبکہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاہے کہ عدالتی حکم عدولی وطیرہ بن گیاہے اور اب حکومت کی بات بھی کوئی نہیں سنتا۔ سول سرونٹ ایکٹ کے سیکشن دس پر عمل درآمد یقینی نہیں بنایاجائے آپ لمبی تان کر سوجائیں ، رٹ کانفاذ ہمیں کرناپڑے گا، وقت ضائع ہورہاہے۔سینئر بیوروکریٹ اگر اسٹیبلشمنٹ کی بات نہیں مان رہا تو پھر کس کے احکامات تسلیم کرے گا۔جسٹس خلجی عارف نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاہے کہ ہمیں اِس کا مطلب یہی سمجھایاجارہاہے کہ لگے رہومنابھائی حسین اصغر کے پیچھے ہاتھ نہ ہوتو وہ اپنی نوکری کیسے داﺅپر لگاسکتاہے؟کسی نے تواس پر ہاتھ رکھاہواہے زیادہ دیر نہیں ہوگی اب سب کچھ سامنے آجائیگا یہ ذاتی انا کا مسئلہ نہیں ہے۔ حکومت سول سرونٹ ایکٹ کے سیکشن دس پر عمل درآمد نہ کروا سکے تو سارا نظام تباہ ہو جائے چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے حج کرپشن کیس کی سماعت کی جہاں آئی جی گلگت بلتستان حسین اصغر بدھ کو بھی پیش نہ ہوئے ۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایاکہ حسین اصغر واپس نہیں آئے جس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہارکرتے ہوئے استفسار کیاکہ کیسے ممکن ہے کہ حکومت بلائے اور ملازم واپس نہ آئے ؟ انہوں نے کہاکہ عدالتی وقار پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، سول جج کی عدالت نہ بنائیں ۔ چیف جسٹس نے انہیں واپس لانے کے لیے حکام کو آخری وارننگ دیتے ہوے کہاکہ آج نہ لایاگیا تو انہیں برخاست کردیاجائے گا۔جسٹس خلجی عارف نے کہاکہ عدالتی حکم کی خلاف کی خلاف ورزی کرنے والا اب حکومت کی بات بھی نہیں مان رہا۔چیف جسٹس کے استفسار پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہاکہ انکوائری افسر کے تقرر کے لیے سمری منظور ہوگئی ہے جبکہ ڈائریکٹر لیگل ایف آئی اے نے بتایاکہ انضباطی کارروائی شروع ہوگئی ہے ۔چیف جسٹس نے کہاکہ آپ خود حسین اصغر کوواپس آنے سے روک رہے ہیں ۔ جسٹس خلجی عارف نے کہاکہ اِس کا مطلب یہی نکالیں گے کہ اِس مطلب ہے کہ کہاجارہاہے لگے رہومنابھائی حسین اصغر کے پیچھے ہاتھ نہ ہوتو وہ اپنی نوکری کیسے داپر لگاسکتاہے؟ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہاکہ عدالتی حکم عدولی وطیرہ بن گیایہ کسی کی انا کامسئلہ نہیں ، بیوروکریسی کا غلط پیغام دیاجارہاہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ سوچتے تھے کہ نیا اٹارنی سوچتے تھے آنے سے کام ہوگا۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہاکہ حکومت سول سرونٹ ایکٹ پر عمل نہ کراسکی تو نظام تباہ ہوجائے گا، سول سرونٹ ایکٹ کے سیکشن دس پر عمل درآمد یقینی نہیں بناتے ۔عدالت نے اٹارنی جنرل کو طلب کرتے ہوئے کہاکہ کل اگر حسین اصغر کے خلاف کارروائی کی رپورٹ نہ لائی گئی تو پھر عدالت اپنی کاررورائی کرے گی ۔

مزید :

صفحہ اول -