نائن الیون کے ملزموں کے خلاف کارروائی رمضان کی وجہ سے ملتوی

نائن الیون کے ملزموں کے خلاف کارروائی رمضان کی وجہ سے ملتوی

  

واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) معلوم ہوا ہے کہ گوانتا ناموبے کی جیل میں نائن الیون کے واقعے کے پانچ بنیادی ملزموں کے خلاف عدالتی کارروائی کو ماہ رمضان کے بعد تک ملتوی کردیا گیا ہے۔ اس مقدمے کی پیشی آٹھ سے بارہ اگست تک ہونی تھی لیکن ملزمان کے وکلاءنے اپنے موکلوں کی طرف سے درخواست کی تھی کہ چونکہ وہاس مقدس مہینے میں خصوصی عبادات میں مصروف ہوں گے، اس لئے اس ماہ کے دوران کوئی کارروائی نہ کی جائے۔ آرمی کرنل جیمز پوہل نے، جو اسی جیل کے دوران اس مقدمے کی سماعت کررہے ہیں، ملزمان کی درخواست قبول کرلی ہے اور اب یہ سماعت 22 سے 26 اگست کے درمیان ہوگی۔ نائن الیون کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ اور دیگر چار ملزموں کے خلاف فوجی عدالت میں سزائے موت کے مقدمے کی سماعت ہورہی ہے۔ پنٹاگون کی طرف سے فراہم کردہ صفائی کے اٹارنی جیمز کونل نے بتایا ہے کہ استغاثہ کی مخالفت کے باوجود فوجی جج نے صفائی کا موقف تسلیم کرلیا ہے۔ ادھر اسی جیل میں قید ایک نوجوان کینیڈین باشندے قادر کوکینیڈا منتقل کرکے پیرول پر رہا کرنے کا معاملہ بھی فوجی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔ امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے اپریل میں قادر کی رہائی کا حکم دیا تھا لیکن کینیڈین حکومت کی طرف سے باضابطہ درخواست موصول ہونے میں تاخیر کی وجہ سے اسے کینیڈا منتقل کرکے رہا کرنے کا معاملہ رکا ہوا ہے۔ قادر پر الزام تھا کہ اس نے جولائی 2002ءمیں افغانستان میں ایک امریکی فوجی پر دستی بم پھینکا تھا جو اس وقت القاعدہ کے ایک کمپاﺅنڈ پر دہشت گردوں سے لڑائی میں مصروف تھا۔ قادر اس وقت صرف پندرہ سال کا تھا جواب 25 سال کاہوچکا ہے۔ اس نے 2010ءمیں جرم تسلیم کرلیا تھا جس کے بعد اسے سزا سنائی گئی تھی۔

مزید :

صفحہ اول -