پنجاب اسمبلی شرمین عبید کی رخسانہ سے وعدہ خلافی کی باز گشت ، ثناءاللہ نے نظر انداز کر دیا

پنجاب اسمبلی شرمین عبید کی رخسانہ سے وعدہ خلافی کی باز گشت ، ثناءاللہ نے نظر ...

  

لاہور( نواز طاہرسے )پنجاب سمبلی میں حکومت نے آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ’سیونگ فیس‘کی ”ہیروئن“ کی مدد سے انکار کرتے ہوئے عدالت کا راستہ دکھا دیا ہے جبکہ اس کے مراعات یافتہ وزیر اور پارلیمانی سیکرٹری اسمبلی اور سرکاری امور میں عدم دلچسپی کے جھنڈے گاڑتے ہوئے یہ تک انکشاف کرگئے گڈ گورن کا نعرہ لگانے والی شہباز حکومت کے ایسے ادارے اور محکمے بھی موجود ہیں جن کی بیلنس شیٹ ہی نہیں بنتی ۔ارالیکن کی غیر سنجیدگی کے سات دو گھنٹے چھتیس منٹ کی معمولی تاخیر سے اجلاس کا آغاپیپلز پارٹی کی ’معصوم ‘رکن ساجدہ میرکی پارلیمانی نالائقی اور بنا پر سپیکر کی ڈانٹ سے ہوا۔اجلاس کے آغاز میں جب سپیکر نے بات شروع کی تو ساجدہ میر بول اٹھیں جو سپیکر کے منع کرنے کے باوجود بولتی رہیں جس پر سپیکر نے تنبہیہ کی کہ جس وقت سپیکر ایوان سے مخاطب ہو اس وقت اراکین کو خاموش رہ کر بات سننا چاہئے ۔ سپیکر نے ہدائت کی کہ کل کے اجلاس میں جو غیر مہذب الفاظ استعمال کئے گئے ہیں انہیں کاررروائی سے حذف کردیا جائے تو ساجدہ میرنے کہا کہ جب وہ سارے الفاظ میڈیا پر رپورٹ اور بے عزتی ہو چکی تو اب یہ الفاظ حذف کرانے کا کیا فائدہ ہے۔ صرف ساجدہ میر ہی نہیں ان کے پارلیمانی لیڈر کی بات پر بھی سپیکر نے افسوس اور بے بسی کا اظہار کیا ۔ پی پی پی کے پارلیمانی لیڈر ذوالفقار گوندل نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرنا چاہی تو سپیکر نے پارلیمانی لیڈروں کے اتفاقِ رائے سے ہونے والے فیصلے سے انہیں آگا کیا تو بھی وہ بضد رہے اور کہامیں ایسی کوئی بات نہیں کہوں گا جس سے سپیکر کیلئے امبیرس منٹ ہو تو سپیکر نے جواب دیا کہ میں مجھے امبیرس کیوں کرینگے ، میں توصرف افسوس کا اظہار ہی کرسکتا ہوں ۔ایسی ہی روایت پارلیمانی سیکرٹری رانا ارشد نے بھی جاری رکھی جو بلا اجازت بولتے رہے ۔وقفہ سوالات میں پارلیمانی سیکرٹری رانا تنویر تاحر ہر سوال پر پریشان رہے ۔ جبکہ وزیرخزانہ مجتبی شجاع الرحمان کنفوژ دکھائی دیئے، رانا تنویر کے ساتھ بیٹھے وزیر احسان الدین قریشی نے انہیں پریشانی سے نجات کا نسخہ کیمیا بتایا تو انہوں نے ہر سوال پر کہا”یہ تو فریش سوال بنتا ہے‘۔ایک سوال پر انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ محکمہ آئی ٹی میں بیلنس شیٹ ہی تیار نہیں کی گئی تو سپیکر نے انہیں ایک سے زائد بار ہدایت کی کہ وہ سوچ سمجھ کر مکمل انفارمیشن کے ساتھ جواب دیں لیکن وہ اپنی بات پر مصر رہے۔شیخ علاﺅالدین نے تیزاب سے جھلسنے والی خواتین پر بنائی جانے والی آسکر ایوارڈ یافتہ فلم’سیونگ فیس ‘ کے حقیقی کردار رخسانہ کو اس فلم کی پروڈیوسر شرمین عبید کی جانب سے طے شدہ رقم ادا نہ کرنے کا معاملہ التوا کی تحریک کے ذریعے اٹھایا۔ان کاموقف تھا کہ شوہر کے ہاتھوںتیزاب سے جھلسنے والے رخسانہ کا معاملہ بھی مختار مائی کی طرح عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے اٹھایا گیا ۔ ایسی این جی اوز کے پس پردہ مقاصد اور ان کی فنڈنگ کی جانچ کی جانا چاہئے ۔ اس مرحلہ پر مطالبہ کیا گیا کہ رخسانہ کی امداد کی جائے اور شرمین عبید سے ادائیگی کیلئے اقدامات کئے جائیں تو حکومت کی جانب سے وزیرقانون رانا ثناءاللہ نے تحریک کے مقاصد نظر انداز کرتے ہوئے صرف یہی کہہ کر جان چھڑا لی کہ بنیادی طور پر یہ لین دین اور دو فریقین کا نجی معاملہ ہے اس میں حکومتی کردار کے بجائے متاثرہ فریق کے پاس عدالت سے رجوع کرنے کا حق محفوظ ہے۔ قانون سازی میں بھی کس قدر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا گیا اس بات اکا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہت کہ ویزراعلیٰ کے سیکرٹری کی جانب سے اراکین کی حاضری لگانے کے باوجود دو بار کورم ٹوٹ گیا ۔قانونی نکات کا جواب بھی محض لڑاکا خواتین کی طرح طعنوں میں دیا گیا ۔مجموعی طور پر بدھ کے اجلاس کی اہم ترین بات میاں رفیق سمیت پندرہ سے زائد اراکین کا ایوان میں اونگھنا ، ٹیلی فون میں مصروفیت اور باہم گپ شپ کے علاوہ خواتین اراکین میں جھگڑاا نہ ہو نا قراردیا جاسکتاہے ور نہ پارلیمانی ریفرنس کیلئے تو کچھ نہیں ملتاحالانکہ ایک رکن نے اتنا اہم سوال بھی اٹھایا تھا کہ ر مضان اور عید پر سرکاری ملازمین کو وقت پر تنخواہ ملنے کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔

مزید :

صفحہ آخر -