پنجاب اسمبلی ‘سستی روٹی‘فوڈ سٹیمپ‘پنجاب حکومت سکینڈ لز پر گرما گرم بحث :تسلی بخش جواب نہ ملنے پر اپوزیشن کا احتجاج

پنجاب اسمبلی ‘سستی روٹی‘فوڈ سٹیمپ‘پنجاب حکومت سکینڈ لز پر گرما گرم بحث ...

  

لاہور(این این آئی) پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں پنجاب بینک، سستی روٹی اور فوڈ سٹیمپ پروگرام سکینڈل کے معاملے پرحکومت اور اپوزیشن کے درمیان لفظی جنگ ہوئی جبکہ اپوزیشن اور حکومتی اراکین کی طرف سے پارلیمانی سیکرٹری برائے منصوبہ بندی و ترقیات رانا تنویر ناصر کی طرف سے تسلی بخش جوابات نہ دیئے جانے پر احتجاج کیاگیا اپوزیشن نے مطالبہ کیا کہ محکمہ منصوبہ بندی کو ختم کرکے اس کے معاملات بھی وزیراعلیٰ کے سپرد کردیئے جائیں وزیر خزانہ نے ایوان کو بتایا جکہ سابقہ دور حکومت میں پنجاب بینک پر 50 ارب کا ڈالہ ڈالاگیا جبکہ موجودہ حکومت کی کوششوں کی وجہ سے پنجاب بینک کو سال 2011ءمیں 35 کروڑ روپے منافع ہوا جبکہ پرویزالٰہی دور حکومت کی کروڑ پتی سکیم میں اشتہارات کی مد میں 21 کروڑ کی ڈبل ادائیگیاں کی گئیں اور اس حوالے وہ تحقیقاتی رپورٹ آج ایوان میں پیش کردینگے مسلم لیگ ق کا کہناتھا کہ وزیر خزانہ جس تحقیقات کی بات کررہے ہیں 8 سال گزرنے کے باوجود اس میں کچھ برآمد نہیں ہوسکا بتایا جائے شریف برادران سے قرج اتارو ملک سنواروں سکیم کے اربوں روپے کب واپس لئے جائیں گے؟ پنجاب اسمبلی کا اجلاس گزشتہ روز بھی مقررہ وقت دس بجے کی بجائے 2 گھنٹے 35 منٹ کی تاخیر سے سپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال کی صدارت میں شروع ہوا اجلاس میں گزشتہ روز صوبائی وزیر مجتبیٰ شجاع الرحمن نے محکمہ خزانہ اور پارلیمانی سیکرٹری رانا تنویر ناصر نے منصوبہ بندی و ترقیات سے متعلق سوالات کے جوابات دیئے شیخ علاﺅالدین نے ایک ضمنی سوال میں کہا کہ مالکان سے فیسیں وصول کئے جانے کے باوجود نومبر 2011ءکے بعد سے گاڑیوں کی کمپیوٹرائزڈ نمبر پلیٹوں کا اجراءنہیں کیا جارہا جس پر پارلیمانی سیکرٹری رانا تنویر ناصر نے کہا کہ یہ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی ذمہ داری ہے تاہم شیخ علاﺅالدین کی طرف سے مطمئن نہ ہونے پر سپیکر نے ہدایت کی کہ اس کا جواب آج ایوان میں پیش کیاجائے شیخ علاﺅالدین نے ایک اور ضمنی سوال میں انٹرنل آڈٹ رپورٹ میں سستی روٹی سکیم اور فوڈ سٹیمپ پروگرام میں کرپشن کے بارے میں بھی بات کی جس پر ثمینہ خاور حیات نے کہا کہ حکومت کے اپنے رکن کی طرف سے یہ معاملہ اٹھائے جانے کے بعد حکومت کی نالائقی سامنے آگئی ہے پنجاب حکومت نے ان سکیموں کی مد میں اربوں روپے کھائے ہیں انہیں اس کاجواب دینا چاہیے بلکہ اس پر بحث کے لئے ایک دن مقرر کیا جائے اس موقع پر ساجدہ میر اور رفعت سلطانہ ڈار نے بھی ثمینہ خاور حیات کا ساتھ دیا تو حکومتی رکن رانا ارشد نے کہا کہ یہ لوگ پنجاب بینک میں اربوں روپے کھا گئے ہیں یہ نہیں چاہتے کہ غریب آدمی کو دو روپے کی روٹی میسر آئے رانا محمد افضل کے ایک سوال کے جواب میں میں صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ طریق کار کے مطابق محکمہ منصوبہ بندی جن منصوبے بارے کہتا ہے محکمہ خزانہ ان کے لئے فنڈز ریلیز کرتا ہے اور جس سکیم کے لئے رانا محمد افضل کہہ رہے ہیں اس کی اجازت نہ ملنے پر فنڈز ریلیز نہیں ہوئے اور رانا محمد افضل کے مطمئن نہ ہونے پر سپیکر نے اس کے تسلی بخش جواب بارے آج ایوان کو آگاہ کرنے کی ہدایت کردی۔ پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر نے کہا کہ یہاں سکیموں کے لئے فنڈز ایلوکیٹ کئے جاتے ہیں لیکن انہیں ریلیز نہیں کیاجاتا وزیراعلیٰ نے سارے فنڈز بلاک ایلوکیشن میں رکھے ہیں۔ اس لئے ہمارا مطالبہ ہے کہ محکمہ منصوبہ بندی کو ختم کرکے اس کے معاملات سیون کلب میں وزیراعلیٰ کے سپرد کردیئے جائیں کروڑ پتی سکیم میں اشتہارات کی مد میں ڈبل ادائیگیوں کے حوالے سے وزیر خزانہ نے بتایا کہ 2008-09 میں اڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق 21 کروڑ روپے کی ڈبل ادائیگیاں کی گئی لیکن ان تحقیقات کو ماننے سے انکار کردیاگیا اور اب اس کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جارہا ہے جس پر رانا محمد افضل نے کہا جکہ یہ معاملہ آٹھ سالوں سے حل نہیں ہوسکا اس کے لئے ہاﺅس کی کمیٹی بنائی جائے وزیرخزانہ نے مزید بتایا کہ پنجاب بینک میں سابقہ دور حکومت میں ڈائریکٹرز نے 21 ارب روپے کے قرضے اپنی کمپنیوں یا رشتہ داروں، عزیزوں کو دیئے اب پنجاب بینک میں پروفیشنل مینجمنٹ لائی گئی ہے اور قرضوں کے اجراءکے حوالے سے فول پروف اقدامات اٹھائے گئے ہین اور بورڈ کا کوئی بھی ڈائریکٹر اپنے یا اپنے کسی عزیز کو قرضہ نہیں دلواسکتا۔ صوبے کی عوام اورانتظامی معاملات چلانے میں حکومتی اور اپوزیشن کے ارکان کس قدر سنجیدہ ہیں اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ روز شروع ہونے والا پنجاب اسمبلی کا اجلاس مقررہ وقت صبح 10بجے کی بجائے 12بجکر 38منٹ پر شروع ہوا جب اجلاس شروع ہوا تو ایوان میں 30 ارکان موجود تھے جن میں 19 حکومتی ارکان جبکہ 11اپوزیشن کے ارکان موجود تھے اس سے قبل 12بجکر 20منٹ پر ایوان میں صرف 18ارکان موجود تھے جن میں 11حکومتی اور اپوزیشن کے 7 ارکان شامل تھے جن میں خواتین کی تعداد 7تھی جن میں 1حکومتی اور 6 اپوزیشن کی ارکان خواتین شامل تھیں۔ جبکہ اجلاس کی کارروائی کی کوریج کرنے کیلئے پریس گیلری میں بیٹھے ہوئے صحافیوں کی تعداد ان ارکان سے کئی گنا زیادہ تھی جس سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جو ارکان اسمبلی اجلاس چلانے کیلئے اتنے غیر سنجیدہ ہیں وہ صوبے کے انتظامی معاملات چلانے کیلئے کس قدر سنجیدہ ہوں گے۔

مزید :

صفحہ آخر -