خود کو آئین سے بالاتر کہنے والوں کو بھی رخصت ہونا پڑا‘چیف جسٹس

خود کو آئین سے بالاتر کہنے والوں کو بھی رخصت ہونا پڑا‘چیف جسٹس

  

اسلام آباد(خبرنگار) ڈائریکٹر لاہور ایف آئی اے وقار حیدرتوہین عدالت کیس میں گزشتہ روز چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاہے کہ بڑے چھوٹے ،امیر غریب ،آنکھ کے تارے اور عام آدمی میں تفریق کرنے سے گڑبڑ ہوتی ہے ۔ماضی میں بھی قومیں انصاف نہ کرنے کی وجہ سے تباہ ہوچکی ہیں، وقار حیدر نے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ ہم نے مثال قائم کر دی ہے خواہ کسی کا بیٹا ہو یا عزیز کارروائی قانون کے مطابق ہو گی۔چاہے کوئی پاتال میں ہی کیوں چھپ کر بیٹھ جائے اگر مجرم ہے توا س کے خلاف ضرور کارروائی ہوگی ، یہ خیال دل سے نکال دیں کوئی قانون سے بالاتر ہے۔ خودکو آئین وقانون سے بالاتر کہنے والوں کو بھی رخصت ہوناپڑا،چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے مقدمے کی سماعت کی اس دوران پراسیکیوٹر جنرل علی احمد زئی نے وقار حیدر کے خلاف شواہد عدالت میں جمع کروئے اور عدالت سے استدعا کی کہ چونکہ وقارحیدر نے توہین عدالت کی ہے اورعدالت کے حکم کوماننے سے انکارکیاہے اس لےے اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے جسکی تائید چیف جسٹس نے بھی کرتے ہوئے کہاہاں وقار حیدر نے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ ہم نے مثال قائم کر دی ہے خواہ کسی کا بیٹا ہو یا عزیز کارروائی قانون کے مطابق ہو گی۔اس دوران عدالت میں موجود وقار حیدرسے چیف جسٹس نے کہا کہ وقار حیدر آپ کا رویہ آپ کو مشکل سے دوچار کرے گا۔ آپ نے حقیقت میں عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔ وقار حیدر کے وکیل نے دفاع کے لیے وقت مانگ لیا اورکہاہے کہ وقار حیدر عدالت سے مشروط معافی مانگ چکے ہیں اب توان کے خلاف کارروائی کرنامناسب نہیں ہوگاانھوں نے خود کو عدالت کی صوابدید پرچھوڑ دیاہے عدالت انھین معاف فرما دے یاپھر انھیں بحث کے لیے مزید وقت دے جس پر عدالت نے وکیل کووقت دیتے ہوئے سماعت تیس جولائی تک ملتوی کر دی۔

مزید :

صفحہ آخر -