امریکی ایوان نمائندگان نے حقانی نیٹ ورک کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کا بل منظور کر لیا

امریکی ایوان نمائندگان نے حقانی نیٹ ورک کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کا بل ...

  

واشنگٹن (ثناءنیوز ) امریکی ایوان نمائندگان نے حقانی نیٹ ورک کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا بل منظور کر لیا بل میں وزارت خارجہ پر زور دیا گیا ہے کہ حقانی نیٹ ورک کو غیر ملکی دہشت گرد گروپ قرار دیا جائے۔ دہشت گردوں کی فہرست میں شامل ہونے کے بعد حقانی نیٹ ورک کی مدد کر نے والوں کو سخت سزاﺅں کا سامنا ہو گا اور امریکہ میں موجود اثاثے منجمد کر دیئے جائیں گے بل میں حقانی نیٹ ورک کو شمالی افغانستان میں امریکی فورسز کے خلاف برسرپیکار سب سے زیادہ خطر ناک گروپ قرار دیا گیا ہے بل کے مطابق وزارت خارجہ کو حقانی نیٹ ورک کو دہشت گرد گروپ قرار نہ دینے کی وجہ سے ظاہر کرنا ہو گی۔ بِل کے تحت وزیر خارجہ کانگریس کو یہ رپورٹ دیں گی کہ کیا حقانی نیٹ ورک کو غیرملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا جا سکتا ہے اور اگر نہیں تو کیوں۔ حقانی نیٹ ورک پاکستان کے قبائلی علاقے میں قائم شدت پسند گروہ ہے، جسے ہمسایہ ملک افغانستان میں تعینات غیرملکی فورسز پر حملوں کے لیے ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔ اس بل میں کہا گیا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن امریکی کانگریس کو بتائیں کہ کیا حقانی نیٹ ورک غیرملکی دہشتگرد تنظیم قرار دیے جانے کے قابل ہے اور اگر نہیں تو اس کی وجوہات بیان کریں۔ابھی امریکی کانگریس کے ایوان بالا یعنی سینٹ سے اس بل کی حتمی منظوری ہونا باقی ہے۔ امریکی ایوان نمائندگان نے اس بل کی منظوری ایسے وقت دی ہے جبکہ چند ہفتے پہلے ہی امریکہ اور پاکستان کے درمیان سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد سات ماہ سے جاری تعطل ختم ہوا ہے اور امریکہ کی معافی کے بعد پاکستان نے افغانستان میں تعینات نیٹو کی فوجوں کو رسد کی فراہمی کے لیے اپنے راستے دوبارہ کھولے ہیں۔ بل میں کہا گیا ہے کہ اس قانون کے کسی بھی حصے سے یہ مطلب نہیں نکالا جاسکتا ہے کہ پاکستان کی سرحدوں کے اندر فعال جنگجو اور دہشتگرد گروہوں سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی خودمختاری پر ضرب لگائی جارہی ہے۔ امریکی مسلح افواج کے سربراہ ایڈمرل مائیک ملن نے حال ہی میں امریکی کانگریس کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ حقانی نیٹ ورک پاکستان کے طاقتور خفیہ فوجی ادارے آئی ایس آئی کے حقیقی بازو کے طور پر کام کرتا ہے۔

مزید :

صفحہ اول -