نگران سیٹ اپ کیلئے پارلیمینٹ کے اندر اور باہر جماعتوں سے بات کی جائے :نواز شریف

نگران سیٹ اپ کیلئے پارلیمینٹ کے اندر اور باہر جماعتوں سے بات کی جائے :نواز ...

  

لاہور(اے پی اے + مانیٹرنگ ڈیسک+ آن لائن) پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدر میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ سوئس حکام کو خط لکھنے سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل ہونا چاہئے‘ حکم عدولی پر 10وزیراعظم بھی چلے جائیں تو کوئی حرج نہیں‘ اگر ایک وزیر اعظم ہی عدالتی فیصلوں کا احترام نہیں کرے گا تو عوام کو کس طرح عدالتی فیصلوں کو ماننے کا پابند بنایا جا سکتا، آئندہ انتخابات میں کسی نے ہمیں ٹف ٹائم دیا تو ہم بھی ٹف ٹائم دینگے‘، نگران سیٹ اپ کے قیام کیلئے تمام سیاسی جماعتوں سے بات کی جائے‘ مسلم لیگ (ن) پارلیمنٹ کے اندر اور باہر تمام اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت کرے گی‘ آئندہ انتخابات میں پارٹی ٹکٹ کارکنوں کی مشاورت سے دئیے جائینگے‘ مشاورتی عمل شروع کردیا ہے‘ فخرالدین جی ابراہیم کی تقرری خوش آئند ہے اور اب کوئی حکومتی عہدیدار الیکشن میں ہیر پھیر نہیں کرسکے گا‘ وقت آنے پر وسیع تر اتحاد بھی ہوسکتا ہے،ظلم ناانصافی اورکرپشن کے خاتمے تک معاشرہ امن وامان کاگہوارہ نہیں بن سکتا، وفاقی حکومت نے اپنے کالے کرتوت چھپانے کیلئے پارلیمنٹ کے وجود کوداغدارکیا جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ،حکومت کی معاشی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ماڈل ٹاﺅن میں اپنی رہائشگاہ پر مسلم لیگ (ن) کے اعلی سطحی مشاورتی اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں جماعت کی کارکردگی اور پارٹی راہنماﺅں کو دئیے گئے اہداف کے حصول کا جائزہ لیا گیا اور آئندہ کیلئے بھی اہداف رکھے گئے ہیں۔ عام انتخابات کے حوالے سے آنے والا وقت کافی اہمیت کا حامل ہے۔ اس معاملے کا بھی اجلاس میں جائزہ لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) کی کوشش ہے کہ آئندہ انتخابات کے حوالے سے پارٹی کارکنوں اور عہدیداروں سے سفارشات لی جائیں اور ان کی مشاورت سے فیصلے کئے جائیں۔انہوں نے کہا کہ 2008 کے انتخابات سے قبل ہمیں پاکستان آنے کی اجازت نہیں دی گئی اسلئے پارٹی کارکنوں سے اس طرح کی مشاورت نہیں ہوسکی جس طرح کی مشاورت ہم چاہتے تھے تاہم آئندہ انتخابات میں ہماری کوشش ہے کہ پارٹی ٹکٹ حلقے کے کارکنان کی مشاورت سے دئیے جائیں اور اس حوالے سے مشاورتی عمل شروع کردیا گیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میںانہوں نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) نے ہمیشہ اپنے تمام ادوار میں بلدیاتی الیکشن کروائے ہیں۔ ہم بلدیاتی انتخابات کے حامی ہیں تاہم پرویز مشرف نے اپنے دور میں بلدیاتی نظام کو تباہ کردیا ہے اور من پسند افراد کو آگے لانے کیلئے گڑبڑ کی ہے۔ اب بلدیاتی نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اصلاحات کے بعد ہی الیکشن ہوسکتے ہیں یہ الیکشن اگر عام انتخابات سے پہلے نہ ہوئے تو بعد میں ضرور ہوں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فخرالدین جی ابراہیم کی بطور چیف الیکشن کمشنر تقرری ملک و قوم کیلئے خوش آئند ہے۔ صدر آصف زرداری کی موجودگی میں شفاف الیکشن سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فخرالدین جی ابراہیم کی تقرری اسی لئے کی گئی ہے کہ کوئی حکومتی عہدیدار آئندہ الیکشن میں ہیرا پھیری نہ کرسکے۔ آئینی ترمیم کا بھی یہی مقصد ہے کہ حکومت میں بیٹھا ہوا کوئی شخص انتخابی عمل پر اثرانداز نہ ہوسکے۔ قانون اور اداروں میں اتنی طاقت ہونی چاہئے کہ صدر‘ وزیراعظم یا نگران حکومت کا کوئی عہدیدار دھاندلی نہ کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ نگران حکومت کے قیام کے حوالے سے آئینی تقاضا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی جائے۔ نیا سیٹ اپ حکومت میں شامل جماعتوں اور اپوزیشن کی مشاورت سے عمل میں لایا جانا چاہئے اور اس حوالے سے اسمبلی سے باہر موجود جماعتوں کو بھی اعتماد میں لیا جائے۔ گوکہ یہ بھی اپوزیشن اور حکومت کا معاملہ ہے لیکن اگر حکومت نے پارلیمنٹ سے باہر جماعتوں سے مشاورت نہ بھی کی تو مسلم لیگ (ن) ضرور مشاورت کرے گی۔ تحریک انصاف کی جانب سے عام انتخابات میں ٹف ٹائم ملنے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمیں پیپلزپارٹی ماضی میں بھی ٹف ٹائم دیتی رہی ہے اور آج بھی دے رہی ہے۔ جب الیکشن کا میدان لگے گا تو سب کو اپنی حیثیت کا پتہ چل جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بعض لوگوں کی جانب سے یہ کہنا کہ عدالت کو سوئس حکام کو خط لکھنے کا نہیں کہنا چاہئے یہ بلاجواز ہے۔ حکومت سے مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد کرائے۔اگر حکومت صحیح معنوں میں عدالتی حکم پر عمل نہیں کرتی تو عدالت کو اختیارات استعمال کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ ملک میں حکومت کوئی بھی ہو قانون کی حکمرانی ہونی چاہئے۔ اگر عدالتی احکامات کی حکم عدولی پر ایک نہیں دس وزیراعظم بھی جاتے ہیں تو کوئی حرج نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی بالادستی پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہئے۔ آئین سپریم ہے تمام ادارے آئین سے نکلتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وقت آنے پر وسیع تر اتحاد کے بارے میں دیکھیں گے۔ ہم میدان میں ہیں‘ قوم کا بڑا حصہ ہمارے ساتھ ہے۔ ہم نے ماضی میں اتحاد بھی بنائے ہیں اور الیکشن بھی لڑے ہیں۔ اب بھی ہم خیال جماعتوں سے اتحاد کریں گے۔ سندھ میں بڑی تبدیلی آرہی ہے۔ کئی اہم شخصیات اور سیاسی جماعتیں ہمارے ساتھ شامل ہوگئی ہیں۔ میں جمعرات کو پھر سندھ جاﺅں گا اور ایک اور جماعت سے اتحاد کریں گے اور آئندہ بھی اس کام کو جاری رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم اگر الیکشن کے میدان میں ہیں تو پاکستانی قوم کا بڑا حصہ ہمارے ساتھ ہے ماضی میں ہم نے سنگل تن تنہا بھی الیکشن لڑے اور اتحاد کرکے بھی لیکن اب بھی اپنی ہم خیال جماعتوں سے انتخابی اتحاد کرنے کی کوشش کرینگے۔

اسلام آباد( این این آئی)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی ملک میں صاف اور شفاف انتخابات کی خواہاں ہے ‘پیپلز پارٹی دھاندلی نہیں کرتی بلکہ خود دھاندلی زدہ انتخابات کا شکار رہی ہے ‘عدالتیں پیپلزپارٹی کی ہدایت پر نہیں چلتیں جس کسی پر بھی الزام ہے وہ عدالت میں پیش ہو ‘( ن) لیگ سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کی دعوت دی ہے، مسائل ملکر مشاورت سے حل کرنا چاہتے ہیں‘سپرم کورٹ نے صوبائی حکومتوں کو بلدیاتی انتخابات کی تیاری کا کہا ہے۔پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کی تقریب میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری مشاورت کی گئی ہے‘ نگراں سیٹ اپ کے لئے بھی یہی طریق کار اپنایا جائےگا۔پیپلز پارٹی دھاندلی زدہ انتخابات کا شکار رہی ہے لیکن آزاد اور شفاف الیکشن کرانے پر یقین رکھتے ہیں ۔انصاف صرف پیپلز پارٹی کے لئے ہے، یہاں آئین کی پاسداری کرنے والے وزیر اعظم کو نااہل قراردیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو ہمیشہ انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے لیکن اسکے باوجود ملک کے لئے سب کچھ برداشت کیا۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ (ن) لیگ سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کی دعوت دی ہے، مسائل مل کر مشاورت سے حل کرنا چاہتے ہیں۔سپرم کورٹ نے صوبائی حکومتوں کو بلدیاتی انتخابات کی تیاری کا کہا ہے، عدالتیں پیپلز پارٹی کے کہنے پر نہیں چلتیں جس کسی پر الزام ہے وہ عدالت میں پیش ہو فیصلہ خود ہو جائے گا کون بے قصور ہے اور کون قصور وارہے۔

مزید :

صفحہ اول -