آئندہ الیکشن میں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کو کامیاب نہیں ہونا چاہیے ،مشرف

آئندہ الیکشن میں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کو کامیاب نہیں ہونا چاہیے ،مشرف

  

لندن(این این آئی)آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ سابق صدر جنرل(ر)پرویزمشرف نے کہا ہے کہ آئندہ الیکشن میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو کامیاب نہیں ہونا چاہئے، عمران خان ہمارے ساتھ نہیں چلنا چاہتے تو ہم اپنے طور پر فیصلہ کرینگے،موجودہ سیاسی سٹیٹس کو کے خاتمے کیلئے عوام نئی اور دیانتدار قیادت کو منتخب کریں، فوج کو آئینی کردار دیئے بغیر سیاسی معاملات میں مداخلت کیلئے کہنا درست نہیں، سپریم کورٹ فیصلوں پر عمل کیلئے فوج کو حکم دے سکتی ہے تاہم واضح نہیں کہ یہ حکم براہ راست یا سیکرٹری دفاع کے ذریعے دیا جانا چاہئے۔ گزشتہ روز ایک خصوصی انٹرویو میں سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے کہا کہ سوئس حکومت کوخط نہ لکھنے اورتوہین عدالت کے معاملہ سمیت ہرلحاظ سے عدلیہ اور انتظامیہ محاذ آرائی کی طرف بڑھ رہے ہیں انہوں نے کہا کہ قانون سازی کرنا پارلیمنٹ کا اور قانون کی تشریح کرنا عدلیہ کا کام ہے تاہم انہوں نے ایک اور سوال پرکہاکہ سوئس بینکوں میں موجودپیسہ حکومت پاکستان کاہے جنرل(ر) پرویزمشرف نے کہا کہ سپریم کورٹ اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کیلئے فوج کو احکامات دے سکتی ہے تاہم بعض لوگ کہتے ہیں کہ فوج کواحکامات سیکرٹری دفاع کے ذریعے ملتے ہیں ایک طرف آرمی کی مداخلت کوخلاف آئین کہاجاتا ہے اورعدالتیں کہتی ہیں کہ ایسے کسی اقدام کودرست قرار نہیں دیاجائیگا دوسری طرف فوج سے مداخلت کیلئے بھی کہاجاتا ہے اگر فوج کو آئین میں ایسا کرداردیاجائے تو پھروہ یقیناً ایسا کرے گی انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان میں آنیوالے دنوں میں آئندہ الیکشن ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں اور پاکستان آکرانتخابات میں حصہ لیں گے انتخابات میں ہماری شرکت پارٹی کی بنیاد پر ہوگی اورہماری جماعت کسی دوسری جماعت میں ضم نہیں ہوگی تاہم کسی سے سیاسی اتحاد ہوسکتا ہے انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی ین تین مرتبہ منتخب ہوچکی ہیں اور تینوں مرتبہ ناکام رہی ہیں اس لئے ان دونوں جماعتوں کونہیں آناچاہیے بلکہ ایک اورگروپ کوابھرناچاہیے پرویزمشرف نے کہا کہ ہمیں پاکستان میں کافی لوگوں کی حمایت حاصل ہے تاہم میں یہ نہیں کہتا کہ اس حمایت کی بنیاد پرالیکشن میں سویپ کرلونگا انہوں نے کہاکہ ہماری جماعت کواس وقت پاکستان میں کافی سپورٹ مل رہی ہے مجھے امید ہے کہ میرے آنے کے بعدپارٹی مزید منظم اورمضبوط ہوگی۔انہوںنے کہاکہ پاکستان میں اس وقت حالات بہت خراب ہیں میں نے آٹھ سال کے دوران ملک کے حالات بہترکئے ہیں اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان آکرالیکشن میں حصہ لیناچاہیے کامیابی یاناکامی اللہ پر چھوڑ دی جائے انہوں نے کہا کہ وہ فی الحال پاکستان آنے کی تاریخ نہیں دے سکتے کیونکہ پہلے دی گئی تاریخ پرعمل نہیں کرسکے اس لئے مناسب موقع پر پاکستان آنے کی تاریخ کااعلان کرینگے۔

مزید :

صفحہ آخر -