صوبائی دارالحکومت میں 6ماہ کے دوران ڈکیتی مزاحمت پر 52افراد قتل

صوبائی دارالحکومت میں 6ماہ کے دوران ڈکیتی مزاحمت پر 52افراد قتل

  

لاہور (رپورٹ یونس باٹھ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں امن و امان کی صورت حال تسلی بخش نہیں ہے، صرف چھ ماہ میں 40 ہزار سے زائد مقدمات درج ہوچکے ہیں جبکہ 300 سے زائد افراد قتل، 52 افراد ڈکیتی مزاحمت پر قتل ہوئے ہیں۔ انوسٹی گیشن پولیس کی کارکردگی زیرو ہے اور 90 فیصد ملزمان کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا جاسکا۔ لاہورشہر میں 3 ہزار سے زائد ملزمان گزشتہ کئی سالوں سے اشتہاری ہیں۔ واضح رہے حکومت امن و امان کو بہتر بنانے اور جرائم کو کنٹرول کرنے کی غرض سے ہر سال قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اربوں روپے کے فنڈز اور خصوصی مراعات فراہم کرتی ہے اس کے باوجود پنجاب بالخصوص لاہور پولیس کی کارکردگی تسلی بخش نہیں ہے۔ متاثرہ لوگوں کو اپنے ملزمان کی گرفتاری کے لئے اپنی جیب سے خود خرچ کرنا پڑتا ہے۔ گزشتہ سال 2011ءکی پہلی ششماہی میں لاہور میں 198 افراد قتل، 32 ڈکیتی مزاحمت پر قتل ہوئے جبکہ رواں سال کے دوران اس کی تعداد کہیں آگے چلی گئی ہے۔ گزشتہ سال شہر میں قتل کے زیادہ واقعات سٹی ڈویژن میں پیش آئے اور اقبال ٹاﺅن دوسرے نمبر پر رہا۔ جبکہ رواں سال کے دوران بھی قتل و غارت کے سب سے زیادہ واقعات سٹی ڈویژن میں پیش آئے ہیں اور اب تک 95 افراد قتل ہوچکے ہیں۔ جبکہ صدر ڈویژن 58 افراد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ انوسٹی گیشن پولیس آئے روز ملزموں کی گرفتاری کے دعوے کرتی ہے مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے لاہور میں 3 ہزار سے زائد اشتہاری ملزمان فرار ہیں جنہیں پولیس گرفتار نہیں کرسکی۔ لاہور پولیس کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی محمد اسلم ترین کاموقف ہے کہ قتل میں ملوث زیادہ تر ملزمان کو گرفتار کرلیاہے۔ ٹارگٹ کلنگ کے چند واقعات میں ملزمان کو گرفتار کرنا ابھی باقی ہے جبکہ اشتہاریوں کے خلاف کریک ڈاﺅن کا حکم دیا گیا ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -