آزادی کا تصور ذمہ داری کے بغیر ممکن نہیں‘میڈیا کردار ادا کرے :ڈاکٹر مغیث الدین شیخ

آزادی کا تصور ذمہ داری کے بغیر ممکن نہیں‘میڈیا کردار ادا کرے :ڈاکٹر مغیث ...

  

لاہور (ایجوکیشن رپورٹر) پاکستانی میڈیا کے اکثر اینکرز غیر ملکی زبان بول رہے ہیں۔ ٹی وی چینلز پر فحش اشتہارات چل رہے ہیں۔ میڈیا کے اپنے مندرجات خود اس کے اپنے کنڑول میں نہیں۔ خبروں میں ایسا تعصب دیا جاتا ہے کہ لوگ اسے سچ سمجھنے لگتے ہیں۔ میڈیا پاکستانی اقدار کے خلاف کام کر رہا ہے۔ آزادی کا تصور ذمہ داری کے بغیر ممکن نہیں۔ پاکستانی میڈیا اس بچے کی مانند ہے جو ابھی اپنے پاﺅں پر کھڑا نہیں ہوا۔ ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز سپریئر یونیورسٹی کے شعبہ ماس کمیونکیشن کے زیراہتمام ”اسلامی اقدار کے فروغ میں میڈیا کا کردار“ کے موضو ع پر مقررین نے کیا۔ یہ سیمینار ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کی زیر صدارت ہوا۔ سیمینار کے مہمان خصوصی سینئر تجزیہ نگار اور کالم نویس سجاد میر نے اپنے خطاب میں کہا کہ الیکٹرانک میڈیا پاکستانی کلچر کے اینٹی کام کر رہا ہے جس طرح کی اشتہار بازی ہو رہی ہے وہ بھی کسی فحاشی سے کم نہیں ہے۔ ان اشتہارات کے ذریعے سے نوجوان نسل کے جذبات ابھارنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ میڈیا کو کنڑول کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اکثر اینکرز امریکہ کی زبان بول رہے ہیں۔ آزادی کا تصور ذمہ داری کے بغیر ممکن نہیں سینئر تجزیہ نگار اور کالم نویس ڈاکٹر اجمل نیازی نے سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو جتنا کرپٹ ہوتا ہے میڈیا اسے اتنی ہی اہمیت دیتا ہے اور پروگرام سونپ دیتا ہے۔ اگر میڈیا پر تنقید کی جاتی ہے تو ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہم خود اعلیٰ اقدار پر کتنا عمل پیرا ہیں۔ میں تو کہتا ہوں کہ اسلامیات کی جگہ سیرت نبی کا مضمون پڑھانے کی ضرورت ہے۔ دنیا کی تمام طاقتیں اسلام کو صفہ ہستی سے مٹا دینا چاہتی ہے جو ہم ہونے نہیں دیں گے۔ جبکہ اسلامی اقدار کے فروغ میں میڈیا اس لئے کچھ نہیں کر سکتا کیونکہ اس نے کاروبار بھی کرنا ہے۔ ڈاکٹر مغیث الدین شیخ نے کہا کہ میں اس بات سے متفق نہیں ہوں کہ میڈیا کی عمر کم ہے جس کی آڑ میں میڈیا جو چاہے کرے لیکن اسے کنٹرول کرنے کیلئے لوگوں کو چاہئے کہ میڈیا کا سامنا کرنا سیکھیں۔ میڈیا پاکستانی اقدار کیلئے کام نہیں کرسکتا۔ سٹی 42 کے سینئر اینکر اور پرڈیوسر نجم ولی خان نے کہا کہ میڈیا ابھی اپنے لڑک پن کی منازل طے کر رہا ہے میڈیا ایک ایسے بچے کی مانند ہے جو اپنے پاﺅں پر کھڑا نہیں ہوا۔ میڈیا میں آہستہ آہستہ بہتری آئے گی۔ سیمینار میں طلبہءوطالبات نے مقررین سے سوالات بھی پوچھے۔ سیمینار کے اختتام پر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ نے اختتامی کلمات ادا کئے اور کہا کہ میں طلباءسلمان بٹ، عظیم اکرم، شہباز سعید، تیمور اظہر، عدنان بھٹی، عبداللہ طلعت، مریم عالم، مدیحہ مقصود، عمارہ اور فرخ گل کو کامیاب سیمینار منعقد کروانے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -