منافع خور مافیا متحرک ؛جان بچانے والی 41ادویات مارکیٹ سے غائب

منافع خور مافیا متحرک ؛جان بچانے والی 41ادویات مارکیٹ سے غائب

  

لاہور (جاوید اقبال)صوبائی دارالحکومت میں منافع کمانے والا ڈرگ مافیا ایک دفعہ پھر متحرک ہوگیا ہے جس نے انسانیت اور اخلاقیات کی دھجیاں اڑاتے ہوئے جان بچانے والی 41 کے قریب ادویات مارکیٹ سے غائب کردی ہیں ان ادویات کی اکثریت کی قیمت معمولی ہے اور اب یہ مارکیٹ میں ڈرگ مافیا کی مخصوص برانچوں اور میڈیکل سٹوروں سے 5 سو سے ایک ہزار گنا زائد قیمت پر چوری چھپے مل رہی ہیں۔ ان میں ہارٹ اٹیک کے وقت مریض کو استعمال کرائی جانے والی گولی انجی سیڈ گلہڑ کے مریضوں کو استعمال کرائی جانے والی تھائر رکسن نامی دوائی سرفہرست ہے۔ جس کے ڈسٹی بیوٹرز پارس نامی کمپنی ہیں جنہوں نے محض منافع کمانے کے لئے مارکیٹ سے غائب کردی ہے اور صرف 64 روپے والی1000 گولیاں اب مارکیٹ سے 8 سو سے ایک ہزار میں مل رہی ہے۔ ”روزنامہ پاکستان“ کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں نامور فارما میڈیکل کے ڈسٹی بیوٹروں نے مارکیٹ سے لائف سیونگ ڈرگ کے نام سے فروخت ہونے والی سستی ترین اور مریضوں کو زندگی دینے والی 41 کے قریب ادویات غائب کردی ہیں۔ ایسے ہی ہارٹ اٹیک، امراض قلب، مرگی، آدھے سر کا درد، گلہڑ، دماغی امراض، گردے کے مریضوں کو ایسی ادویات کی زندگی بھر ضرورت ہوتی ہے غائب کی گئی ادویات میں ایسی ادویات بھی شامل ہیں جن کا مارکیٹ میں متبادل ہی موجود نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت مارکیٹ سے دل کے دورہ کے وقت زبان کے نیچے رکھنے والی انجی سیڈ نامی گولیاں جو ہارٹ اٹیک کے مریض کو زندگی دیتی ہیں یہ گولیاں مارکیٹ سے غائب ہیں پہلے ڈرگ مافیا نے ان گولیوں کی قیمت 100 گولیاں قیمت 6 سے 8 روپے سے بڑھا کر 110 روپے فی 100 گولیاں کردی اب مارکیٹ سے غائب کرادی گئی ہے اور اس طرح گلے کے گلہڑے کے مریضوں کے لئے تھائروکسن نامی دوائی آکسیجن کا کام کرتی ہے اور اس دوائی کو گلسکونامی کمپنی ہے اور اس کے لاہور میں سول ڈسٹی بیروٹرز پارسی نامی کمپنی ہے اس دوائی کی 100 گولیوں کی قیمت 6 روپے تھی اب ماہ قبل اس کی قیمت 64 روپے سے 74 روپے کردی گئی اب مارکیٹ سے غائب کرادی گئی ہے اور لاہور میں اکا دکا مقامات پر 6 سو سے ایک ہزار میں فروخت ہورہی ہے۔ تاہم اکثریت مریضوں کو اس سے محروم کردیا گیا ہے۔ اسی طرح میگرین کے مریضوں کے لئے NEONARIAZOLF نامی دوائی بھی مارکیٹ سے مکمل غائب کردی گئی ہے۔ اس دوائی کی قیمت بھی معمولی ہے اسی طرح میگریl آدھے سر کی درد کی دوائی Megril بھی مارکیٹ سے غائب کردی گئی ہے یہ درد ایسا ہے جو اس میں مبتلا لوگوں کو کبھی بھی ہوسکتا ہے اور صرف اس کا حل اور علاج مذکورہ دوائی ہے ،اس مرض کے مریض مارکیٹ میں گزشتہ کئی روز سے مارے مارے پھر رہے ہیں مگر دوائی نہیں مل رہی اسی طرح گردوں کی بیماری یوروکیسٹر میں مبتلا مریضوں کی دوائی Zelorie ایک ماہ سے مارکیٹ سے غائب ہے اور اس کا متبادل موجود نہیں ہے گردوں کے ڈائیلسز اور ٹرانسپلاٹیشن کے مریضوں کو ان کے جسم کا یورک ایسڈ کم رکھنے کے لئے یہ دوائی مستقل استعمال کرائی جاتی ہے مگر نہ ملنے سے مریضوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہوچکے ہیں۔ اسی طرح ہارٹ اٹیک اور ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کو استعمال کرائی جانے والی Serale نامی دوائی بھی مارکیٹ سے غائب ہے اس حوالے سے میڈیکل سٹورز ایسوسی ایشن کے صدر تنویر بخش کا کہنا ہے کہ اس وقت جان بچانے والی 41 کے قریب ادویات مارکیٹ سے غائب کرادی گئی ہیں جو کمپنیوں اور ان کے ڈسٹری بیوٹرز نے بلیک مارکیٹ کر کے منافع کمانے کے لیے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمپنیوں کا موقف ہے کہ منافع کم ملتا ہے اس لئے وہ بنانے میں کم ہیں اس لئے غائب ہوئی ہیں اس حوالے سے پیشنٹ پروٹیکشن کونسل کے صدر مظہر شفیع شیخ کا کہنا ہے کہ محکمہ صحت لاہور اور پنجاب کے نوٹس میں ہے مگر وہ پولیو میں پھنسے ہوئے ہیں اور مخصوص ڈسٹری بیوٹرز خوب فائدہ اٹھاکر مریضوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔ اس حوالے سے ای ڈی او صحت ڈاکٹر انعام الحق وڑائچ سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ ایکشن لیا جائے اور ادویات بنانے والی کمپنیاں مذکورہ ادویات کی سپلائی کو یقینی بنانے کی پابند ہیں۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -