حسن نثار جو محسوس کرتے ہیں برملاکہتے ہیں، ڈاکٹر مجاہد کامران

حسن نثار جو محسوس کرتے ہیں برملاکہتے ہیں، ڈاکٹر مجاہد کامران

  

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر ) پنجاب یونیورسٹی پبلک ریلیشنز ڈیپارٹمنٹ کے زیر اہتمام معروف کالم نگار حسن نثار کے ساتھ ایک شام کا انعقاد ایگزیکٹوکلب میں کیا گیا ۔ تقریب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران، مجیب الرحمٰن شامی،راجہ انور، چودھری اکرم،ڈاکٹر مجاہد منصوری ، ڈاکٹر اجمل نیازی ،حفیظ خان، سعید اظہر، طارق مجید قریشی ، صوفیہ بیدارکارٹونسٹ جاوید اقبال، سمیت سینئر صحافیوں ، کالم نگاروں اور اخبارات کے ایڈیٹروں نے شرکت کی ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران نے کہا کہ حسن نثار کی سب سے نمایاں خوبی صداقت کی ہے یہ جو محسوس کرتے ہیں اس کا برملا اظہار کر دیتے ہیں اور منافقت نہیں رکھتے ۔ حسن نثار دوستوں سے محبت کرتے ہیں اور ان میں اخلاص کی خوبیاں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حسن نثار کو اس بات کا ادراک ہے کہ کائنات کی سب اعلیٰ چیز علم ہے اور قوت اور دولت اور عزت کا سرچشمہ علم ہے۔ سینئر صحافی مجیب الرحمٰن شامی نے کہا کہ میں اپنے ہم عصروں میں جتنا ان سے متاثر ہوا ہوں اتنا کسی سے نہیں ہو۔ ان کا لہجہ، گفتگو اور انداز سب سے جدا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ میرے اور حسن نثار میں فکری اختلافات ہیں جب کہ درحقیت ہم میں نظریاتی طور پر اتفاقات پائے جاتے ہیں۔ حسن نثار معاشرے کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں ان جیسا کوئی لکھنے والا اور فقرے بنانے والا حساس کوئی اور کالم نگار نہیں۔معروف سیاست دان حفیظ نیازی نے کہا کہ حسن نثار کی شخصیت ہمیشہ سے ایک معمہ ہے۔ حسن نثار بنیادی طور پر پرائیویٹ آدمی ہیں مگر عجیب بات ہے کہ ان کے دوست بہت ہیں اور یہ سب کا درد سمجھتے ہیں۔چیئرمین پنجاب ایجوکیشن فاﺅنڈیشن راجہ انور نے کہا ہے کہ حسن نثار تحریروں میں سماج کے دکھوں کے ساتھ اس چیز کا اظہار ہوتا ہے کہ ہم اپنے مسائل حل کرسکتے ہیں مگر نہیں کر رہے۔ حسن نثار نے کبھی بھی جھوٹ کو سچ پر ترجیح نہیں دی۔ یہ اپنے کالم میں نئے فقرے اور نئے نئے الفاظ متعارف کراتے ہیں۔ حسن نثار نے اردو زبان اور کالم نگاروں کو نئے الفاظ دئیے ہیں۔معروف سیاست دان چوہدری اکرم نے کہا کہ حسن نثار دبنگ صحافی ہیں۔معروف کالم نگار ڈاکٹر مجاہد منصوری نے کہا کہ حسن نثار عام آدمی کے احساسات کو خوبصورتی سے چھیڑتے ہیںاور اس میدان میں کامیابی ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ ڈاکٹر اجمل نیازی نے کہا کہ حسن نثار کی صورت میں کوئی تو شہر میں ایسا ہے جو کسی کو ناراض کر سکتا ہے ورنہ تو یہاں سب راضی رکھتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے اور ان کا مختلف ہونا ہی سب سے بڑی خوبی ہے۔ معروف صحافی سعید اظہر نے کہا کہ میں حسن نثار کی شخصیت ایک مثلث میں بطور فرد ، بطور اپروچ اور بطور کالم نگار کے قبیلہ کے طور پر سمیٹ سکتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ حسن نثار ان تمام دلدوز مراحل سے عملاََ گزرا ہے جس سے ہر عام پاکستانی گزر رہا ہے۔ حسن نثار صحافت کے عبداللہ حسین ہیں۔ معروف کالم نگارصوفیہ بیدار نے کہا کہ حسن نثار کا ذکر میرے والد بڑی محبت سے کرتے تھے جو خصوصیات مجھے منیر نیازی کی شاعری میں نظر آتی ہے نثر میں وہ حسن نثار کی تحریر میں نظر آ تی ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -