جرمنی میں میاں محمد نوازشریف کا جلسہ!

جرمنی میں میاں محمد نوازشریف کا جلسہ!
جرمنی میں میاں محمد نوازشریف کا جلسہ!

  

7جولائی 2012ءبروز ہفتہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کا یورپی کنونشن جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں منعقد ہوا۔ اس جلسے کی تیاری مسلم لیگ (ن) کئی سال سے کررہی تھی ۔مسلم لیگ (ن) جرمنی کے صدر چودھری محمد شفیق نے اس جلسے کے لئے گزشتہ دو سال میں جرمنی کے سولہ صوبوں میں پاکستانیوں کی ممبرشپ کی۔ ہر صوبے میں مسلم لیگ (ن) کے یونٹ بنائے، اپنے پلے سے ممبر سازی مہم پر بے دریغ پیسہ خرچ کیا۔ یورپ کے دوسرے ملکوں میں جاکر میاں محمد نوازشریف کی حمایت میں پاکستانیوں کو آمادہ کیا ۔ چند ماہ قبل جرمنی میں مقیم سیالکوٹ کے کچھ لوگوں نے سیالکوٹ کے کچھ سیاست دانوں کے ذریعے میاں نوازشریف کے ساتھ قریبی تعلقات بنائے، جس کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) جرمنی دو حصوں میں بٹ گئی، لیکن اکثریت پھر بھی سیالکوٹی گروپ کے ساتھ نہیں تھی، لیکن سیالکوٹی سیاستدانوں کے اثرورسوخ کی وجہ سے 7 جولائی 2012ءکے کنونشن کی میزبانی سیالکوٹ والوں کو نصیب ہوئی ،جس سے مسلم لیگ (ن) کے ورکر خاصے پریشان دکھائی دیئے- کنونشن سے قبل مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو مسلم لیگ (ن) جرمنی نے بارہا بتایا کہ یہ گروپ صرف اپنے مفاد میں ساری جدوجہد کررہا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کا اصل گروپ چودھری محمد شفیق کے ساتھ ہے، پرویز مشرف دور میں، سارے لوگ مسلم لیگ (ن) چھوڑ کر مسلم لیگ (ق) میں چلے گئے تھے، اب ملک میں مسلم لیگ (ن) کی پنجاب میں حکومت بننے کے بعد دوبارہ اس جماعت میں شامل ہوگئے ہیں،لیکن قیادت نے پھر بھی فیصلہ موقعہ پرستوں کے حق میں کیا اور کنونشن کی میزبانی انہیں سونپی۔

مسلم لیگ (ن) کے سیالکوٹی گروپ میں ایک پراچہ گروپ بھی ہے، جو کہ اصل میں اس سیالکوٹی گروپ کو لیڈ کرتا ہے اور اسی پراچہ گروپ میں بے شمار سکینڈلز کا بھی جرمنی میں بڑا چرچا ہے ۔یہ کہاں تک سچ ہے ،لیکن 7 جولائی والے جلسے میں جو خرچ ہوا ،اس سے تو لگتا ہے کہ شاید یہ کہانیاں درست ہی ہوں ۔ بہرحال مسلم لیگ (ن) کا کنونشن ہوا۔ کنونشن کا وقت شام 5 بجے تھا۔ راقم الحروف کو بھی اس کنونشن میں بطور کالم نگار مدعوکیاگیا۔ کنونشن ہال میں یورپ بھر سے لوگ 4 بجے شام ہی پہنچنا شروع ہوگئے۔ شرکائے کنونشن میں سے زیادہ تعداد فرانس اور سپین سے آنے والوں کی تھی ۔ جرمنی سے بوجوہ زیادہ لوگ شریک نہ ہوئے، کیونکہ شاید اندرونی سیاست کا عمل دخل تھا ۔ کنونشن ہال کے نظم و نسق سے اندازہ ہورہاتھا کہ جلسے کے منتظمین غیر سیاسی لوگ ہیں۔ کنونشن ہال میں لوگ پانی کے لئے ادھر اُدھر بھاگ رہے تھے۔ انتظامیہ کے پاس شاید اپنا سٹیج سیکرٹری بھی نہیں تھا ،جس کا مجھے بعد میں علم ہوا کہ وہ ڈاکٹر طاہر القادری کے ادارہ منہاج القرآن کا آدمی تھا۔

ساڑھے سات بجے سٹیج سیکرٹری نذیر احمد چودھری نے میاں محمد نوازشریف کی آمد کا اعلان کیا۔ کوئی 5 منٹ بعد میاں محمدنواز شریف ، مشاہد اللہ خان سینیٹر، خواجہ محمد آصف ایم این اے (سیالکوٹ) اور عطاءالحق قاسمی کے ساتھ ہال میں تشریف لائے۔ میاں صاحب جونہی سٹیج پر پہنچے، ہال میں دو گروپ سٹیج پر نہ پہنچنے کی وجہ سے آپس میں لڑنا شروع ہوگئے۔ 10 منٹ تک خوب مار کٹائی ہوئی اور ایک گروپ جلسے کا بائیکاٹ کرکے ہال سے باہر نکل گیا۔ مارکٹائی کا منظر دیکھ کر میاں نوازشریف کا موڈ خاصا خراب ہوگیا اور ان کا چہرہ سرخ ہوگیا۔ میاں صاحب کے موڈ کو دیکھتے ہوئے خواجہ محمد آصف اور لندن سے آئے ہوئے زبیر گل نے بائیکاٹ کرنے والے ورکروں کو منا کر واپس ہال میں بٹھایا اور جلسے کی کارروائی شروع ہوئی۔

جلسے میں تلاوت کے بعد جاوید ملک نے، جو کہ کبھی اے آر وائی میں اینکر پرسن ہوتے تھے، آج کل میاں صاحب کے میڈیا ایڈوائزر ہیں ،انگریزی زبان میں ایک ڈاکو منٹری فلم چلائی، جس میں میاں صاحب کی دونوں حکومتوںکی کارکردگی کا تذکرہ تھا۔ میاں صاحب کے کارناموں سے بھرپور فلم کے بعد مشاہد اللہ خاں نے مسلم لیگ(ن) کی سابقہ اور موجودہ حکومت کے کارنامے گنوائے اور عمران خان کے بارے میں چند جملے کہے، جنہیں حاضرین نے کوئی زیادہ پذیرائی نہ بخشی۔ اس کے علاوہ مشاہد اللہ خان صاحب نے اپنی تقریر کو مدبرانہ ثابت کرنے کے لئے حبیب جالب اور فیض احمد فیض کی نظموں سے کچھ انقلابی شعر پڑھے ۔ خواجہ محمد آصف کی تقریر میں مسلم لیگی ورکروں کو تلقین تھی کہ وہ تنظیم پر زور دیں۔ آخر میں میاں محمد نوازشریف نے اپنی روایتی تقریر کی،جو وہ ہر جلسہ میں کرتے ہیں ،یعنی ہم نے ایٹم بم کا دھماکہ کیا۔ ہم نے موٹروے بنوائی وغیرہ وغیرہ۔ میاں صاحب جب تقریر کرنے آئے تو اس وقت ان کا موڈ خاصا اچھا ہوگیاتھا۔ ہال میں 8/10 سکھ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے میاں صاحب کے حق میں نعرے لگائے۔ میاں صاحب نے سکھوں کا شکریہ ادا کیا اور سکھوں کے نعروں کے جواب میں انہوں نے سکھوں کے3/4 لطیفے بھی سنائے، جس کو حاضرین نے خاصا پسندکیا۔

میاں صاحب کی تقریر اور لطیفے سننے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ ہمارے ملک کی موجودہ لیڈر شپ جو گزشتہ 25 سال سے کسی نہ کسی روپ میں حکومت میں ہے ،جس نے سختیاں بھی برداشت کیں، جیلیں کاٹیں، جلاوطنیاں جھیلیں ،لیکن شاید انہوں نے تہیہ کررکھا ہے کہ اس ملک کو کسی مثبت سمت میں لے کر نہیں جانا۔ ہماری موجودہ حکمران لیڈر شپ ابھی بھی ماضی بعید میں رہ رہی ہے اور شاید ان میں آگے بڑھنے کا نہ تو ارادہ ہے اور نہ ہی وژن (VISION) ہے جو کہ ہمارے پس ماندہ عوام کے لئے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔ اب بہت جلد الیکشن کا وقت آرہا ہے ۔عوام کو اپنے ووٹ کی طاقت سے ایسے لیڈر کا انتخاب کرنا چاہیے جو انہیں کرپشن، لاقانونیت ، مہنگائی، بے روزگاری، امریکی جنگ، ڈرون حملوں ، بم دھماکوں، فرقہ واریت، لوڈشیڈنگ کی لعنتوں سے آزادی دلاسکے اور بہتر مستقبل کی ضمانت فراہم کرسکے، کیونکہ خداوند باری تعالیٰ کا فرمان ہے کہ مَیں اس وقت تک کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا ،جب تک قوم خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش اور تگ و دو نہ کرے۔ ٭

مزید :

کالم -