بلوچستان: مسئلہ یہ ہے کہ ....

بلوچستان: مسئلہ یہ ہے کہ ....
بلوچستان: مسئلہ یہ ہے کہ ....

  

 وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے بلوچستان کے مسئلہ پر اظہار خیال کیا اور بلوچ نوجوانوں کو پھر سے مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے وہی باتیں دہرائی ہیں، جو ان سے پہلے والے وزیراعظم، حتیٰ کہ جنرل (ر) پرویز مشرف بھی کہتے رہے ہیں، راجہ پرویز اشرف کہتے ہیں کہ ان لوگوں سے بات نہیں ہوگی،جو قومی پرچم کی توہین کرتے ہیں، انہوں نے بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں غیر ملکی ہاتھ کا ذکر کیا ،لیکن تفصیل بیان نہیں کی،البتہ بلوچستان کے مسئلہ کو نازک قرار دیا اور کہا کہ فی الحال حالات ایک مخصوص حصے میں خراب ہیں، اگر معاملات درست نہ ہوئے تو یہ وباءپھیل بھی سکتی ہے۔

وزیراعظم حال ہی میں بلوچستان کا دورہ بھی کرکے آئے ہیں۔کوئٹہ میں بھی انہوں نے مذاکرات ہی کی دعوت دی، جسے اب دہرایا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بلوچستان کا مسئلہ نازک صورت اختیار کرچکا اور اب یہ گلے پڑا ہوا ہے،اس معاملے کو بگاڑنے میں اپنوں ہی کا حصہ زیادہ ہے، اب یہ معاملہ بہت ہی پیچیدہ صورت اختیار کر چکا ہوا ہے اور اس کے کئی پہلو ہیں، یہ ہمہ جہت ہے،جس کا سرا پکڑنا مشکل ہوچکا ہے۔

بلوچستان کے حالات کی نزاکت ہی ہے،جس نے خواص و عام کو بھی متوجہ کیا ہوا ہے۔سپیرئیر یونیورسٹی کے شعبہ ماس کمیونیکیشن کے سربراہ ڈاکٹر پروفیسر مغیث الدین شیخ ایک فعال شخصیت ہیں ،جنہوں نے یونیورسٹی کے اس شعبہ کو بھی اپنی محنت سے سریع الحرکت بنا دیا ہے۔اس شعبہ کی طرف سے منگل کو بلوچستان ہی کے مسئلہ پر مجلس مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا تھا جو ڈاکٹر پروفیسر مغیث الدین شیخ ہی کی صدارت میں ہوئی۔تحریک انصاف کے رہنما حفیظ اللہ خان نیازی مہمان خصوصی کے طور پر مدعو تھے، ان کے ساتھ پیپلزپارٹی کے سابق سیکرٹری اطلاعات ،حال کالم نویس قیوم نظامی اور نصراللہ ملک(صحافی) کو بھی بلایاگیا تھا، ہم اصرار کے بعد شریک ہوئے ،ہماری مجبوری یہ تھی کہ پورا وقت نہیں دے سکتے تھے، کیونکہ منگل ہمارا دفتر میں مصروف کہ اس روز ہمیں سیاسی ایڈیشن مرتب کروانا ہوتا ہے، اس لئے ادب سے درخواست کی اور شروع میں مختصر سی بات کرکے اجازت لے لی۔ہم نے جو نقطہ ءنظر پیش کیا، وہ تفصیل کا متقاضی ہے، لیکن حالات طویل بات کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ اس لئے اختصار کیا اور اجازت لے کر چلے آئے۔تب سے اب تک یہ خیال آرہا ہے کہ ہم نے ذرا الگ سی بات کی،جسے تفصیلاً بیان نہیں کر پائے، ابہام رہ گیا، لہٰذا آج اس کالم کے ذریعے وضاحت مقصود ہے۔

مجلس مذاکرہ میں ہم نے کرم فرما رضوان رضی کی بات سنی اور باقی حضرات کے خیالات سے خبر پڑھ کر مستفید ہوئے ہیں، سبھی نے تشویش کا اظہا رکیا اور مسئلہ کو جلد حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا، حفیظ نیازی نے تو رجائیت کا مظاہرہ کیا اور یقین ظاہر کیا کہ اگر بلوچستان کے عوامی مسائل حل ہوں ۔ترقیاتی کام کئے جائیں تو حالات بہتر ہوجائیں گے، جہاں تک رضوان رضی کا تعلق ہے تو ان کی اصل فیلڈ کامرس ہے۔انہوں نے نکتہ رسی کی بات کی تھی کہ بیرونی دنیا خصوصاً امریکہ کے اجارہ دار اداروں کی بلوچستان کے وسیع معدنی ذخائر پر نظر ہے۔انہوں نے خاص طو رپر بتایا کہ بلوچستان میں تو خام لوہے کے ذخائر ہی اربوں ڈالر مالیت کے ہیں۔

بلوچستان کے حوالے سے ہمارا اپنا ایک نظریہ اور نقطہ ءنظر ہے، اس کے مطابق حالات کو سنوارنے اور سنبھالنے کی جو کوشش اور باتیں کی جارہی ہیں۔وہ مسئلہ کی اصل حقیقت اور بنیاد کو سامنے رکھے بغیر فروعی انداز میں کی جارہی ہیں۔”آﺅ بات کرلو“ بات کون کرے گا؟جن نوجوانوں کو مخاطب کیا جارہاہے۔وہ تو ہتھیار اٹھائے ہوئے ہیں،سیکیورٹی فورسز ان سے نبردآزما ہیں، اب آپ کی پیش کش ہے کہ ہتھیار پھینک دو، ہمارے پاس آ جاﺅ ، اسے کون مانے گا؟جب لوگوں کی گمشدگی ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔عدالت عظمیٰ اس کوشش میں ہے کہ گمشدہ افردا برآمد کرائے جائیں۔سیکیورٹی فورسز اپنے موقف کے مطابق مشکلات سے دوچار ہیں ۔ان کے مطابق تو جو لوگ ہتھیار بند ہیں۔وہ دہشت گردی میں بھی ملوث ہیں،ان کو روکنا بھی ضروری ہے۔ہم خود اس امر کے سخت مخالف ہیں کہ کسی کو بھی کسی الزام کے تحت اٹھا کر غائب کردیا جائے، اگرکسی نے کوئی جرم کیا ہے تو اسے مروجہ قانون کے مطابق پکڑنا اور عدالت کے روبرو پیش کرکے مقدمہ چلانا چاہیے، اس سلسلے میں سیکیورٹی فورسز کا موقف ہے کہ موجودہ قوانین کے مطابق کارروائی ہو تو یہ لوگ چھوٹ جاتے ہیں کہ کوئی گواہی نہیں دیتا، ہمارا نقطہ ءنظر یہ ہے کہ یہ بھی تو قانونی مسئلہ ہے۔اس سلسلے میں ان اداروں کو حکومت وقت سے رجوع کرکے ضرورت کے مطابق قوانین میں مناسب ترامیم کرالینا چاہئیں۔

یہ تو جملہ معترضہ ہے،جہاں تک بلوچستان کا تعلق ہے تو ہم کئی بار وہاں جا چکے ہوئے ہیں، ہمارا براہ راست عام لوگوں سے رابطہ رہا، اچھے وقت تھے جب مہمان نوازی بھی ہوتی تھی۔محرومیوں کی بات تب بھی کی جاتی تھی۔ہم کوئٹہ سے زیارت جارہے تھے، راستے میں جو پہاڑ نظرآئے ، وہ درختوں سے محروم تھے۔ایک مقام پر چائے کے لئے رکے اور ہم نے وہاں موجود مقامی لوگوں کی توجہ مبذول کرائی تو ان کا شکوہ تھا کہ لوگوں کو حرارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ان کے پاس وسائل اور ذرائع نہیں ہیں، گیس کی صورت میں ایندھن (انرجی) سوئی ( بلوچستان) سے نکلی، بلوچستان والے اس سے محروم ہیں ،کراچی اور پنجاب والے مستفید ہورہے ہیں۔لوگ درخت کاٹ کر لکڑیاں نہ جلائیں تو کیا کریں کہ یہاں سردیوں میں برف بھی پڑتی ہے۔ہم نے حکام سے دریافت کیا تو جواب مختصر تھا کہ پہاڑی مقام ہونے کی وجہ سے پائپ لائن بچھانا بہت مہنگا کام ہے۔مقابلے میں آمدنی کچھ نہیں، یہ ایک مثال ہے عوام تو سڑکوں، سکولوں ، پینے کے پانی اور زراعت کے شعبے کی عدم سہولتوں کا بھی ذکر کرتے تھے، کہا جارہا ہے کہ ان مسائل کو حل نہ کیا گیا۔یہ مزید بڑھتے چلے گئے اور اب قدرتی وسائل سے مالامال صوبہ بدحال ہے اورلوگ مررہے ہیں، وہ کیا کریں؟

یہ صورت حال مزید کسی تفصیل کی محتاج نہیں ہے ۔ہم ہمیشہ بلوچ بھائیوں کے مسائل کے حل کا مطالبہ کرتے رہے ہیں،حتیٰ کہ پی ایف یو جے کے پلیٹ فارم سے بھی قراردادیں منطور کراتے رہے ہیں، اب ہم اپنے نقطہ ءنظر کے مطابق عرض کرتے ہیں کہ یہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی بلوچ پُرامن رہ کر زندگی گزارنا چاہتے ہیں اور وہ متواضع بھی ہیں۔یہ سب مسائل تو سردار شاہی کے پیداکردہ ہیں اور اس کا حل بھی انہی کے پاس ہے۔حقیقت یہ ہے کہ بلوچ عوام کی محرومیوں کے زیادہ تر ذمہ دار یہ سردار حضرات ہیں، وہاں ان کا سکہ چلتا ہے۔سردار کی اجازت کے بغیر نکاح تک نہیں ہوتا،ان سردار حضرات کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ سب بلوچستان کی سرزمین کو اپنی زمین کہتے اور ملکیت کے دعویدار ہیں۔ان کے خیال میں اس سرزمین سے جو بھی معدنیات نکلتی ہیں، وہ جس سردار کی زمین سے برآمد ہوں ،اس پر اسی کا حق ہے اور وہ اس سردار کی ملکیت قرار دی جائے۔ان سردار حضرات نے تو بلوچستان میں سڑکیں نہیں بننے دیں۔کنویں نہیں کھودنے دیئے، حتیٰ کہ یہ سکول تک نہیں بننے دیتے تھے، تعلیم محدود ہو جانے کی وجہ سے عوامی شعور بھی بیدار نہیں ہوا۔لوگ آج بھی سردار ہی کو سب کچھ جانتے ہیں، آج بلوچستان میں نام نہاد آزادی کے نام پر جو تنظیمیں کام کررہی ہیں، ان کی قیادت بھی سردار ہی کررہے ہیں۔یہ قائد سوئٹزرلینڈ اوربرطانیہ یا پھر افغانستان کے محفوظ اڈوں میں بیٹھ کر بلوچ نوجوانوں کو آگ میں جھونکے ہوئے ہیں،صرف یہی نہیں آج بلوچستان پر حکمران بھی سردار ہی ہیں، اسمبلی میں کوئی غیر سردار رکن نہیں جو کوئی ہے وہ علمائے کرام میں سے ہے۔یہ حضرات بھی ان سرداروں کی تائید کرتے ہیں، بلوچستان اسمبلی کی کیا روائت ہے کہ جتنے اراکین سب وزیر جو ایک بچا اسے خود دوسری کرسی پر بٹھا کر قائد حزب اختلاف بنایا ۔یہ سردار حضرات ان سرداروں سے بات کیوں نہیں کرتے،جو جدوجہد کی قیادت کررہے ہیں؟

قارئین کرام! بلوچستان مسئلہ کے کئی پہلو ہیں، ہر ایک پر تفصیل سے بات کی جائے تو بہت وقت درکار ہے۔ہم اپنی بات کو یہیں ختم کرتے ہیں کہ مسئلہ باتوں سے نہیں،عمل سے حل ہوگا۔بلوچ عوام کو یقین دلانا ہوگا کہ بلوچستان کے وسائل پر بلوچ عوام ہی کا حق ہے اور ان کا یہ حق صرف تسلیم نہیں کیا جارہا ،بلکہ اس کا عملی پہلو بھی سامنے لایا جائے گا۔بہرحال ایک خبر جو ہم تک پہنچی، وہ یہ بھی ہے کہ جو تنظیمیں کام کررہی ہیں، بقول حکمران مقابلہ کررہی ہیں، ان میں ایک ایسی بھی ہے جو ترقی پسندانہ انقلاب چاہتی ہے اور یہ سرداری نظام کے بھی خلاف ہے۔ضرورت ہے کہ عوام کومطمئن کرکے امن قائم کیا جائے اور بلوچ عوام کے لئے تعلیم کا خصوصی اہتمام کیا جائے کہ تعلیم شعور بخشتی ہے، جہاں تک غیر ملکی مداخلت کا تعلق ہے تو اسے ختم کرنا اور اس کی نشاندہی بھی حکومت کا کام ہے،جو ملوث ہے ،اسے ثبوتوں کے ساتھ بے نقاب کیا جائے۔  ٭

مزید :

کالم -