پندرہ دن میں78زندگیوں کے چراغ گل ہو گئے

پندرہ دن میں78زندگیوں کے چراغ گل ہو گئے
پندرہ دن میں78زندگیوں کے چراغ گل ہو گئے

  

صوبائی حکومت امن وامان کے حوالے سے ایک ناکام حکومت نظر آ رہی ہے۔ صوبائی دارالحکومت ٹیکساس کا نقشہ پیش کر رہا ہے، جس کا بس چلتا ہے قانون کی دھجیاں اُڑاتا پھرتا ہے، دہشت گردی ،ٹارگٹ کلنگ ، دھماکے، اغوا برائے تاوان اس حکومت کے چہرے پر بدنما داغ کی صورت موجود ہے۔ وزیراعلیٰ سے لے کر ایف سی کے جنرل تک کے بیانات کسی کے دکھوں کا مداوا نہیںبن سکے اور نہ کوئی قانون حرکت کرتا ہوا نظر آیا، نہ کوئی آئین کسی کی گردن ناپ سکا ہے، نہ کوئی ملزم گرفتار ہو سکا ہے، نہ وہ قانون کی عدالت میں پیش کیا جا سکا ہے۔ موجودہ حکومت بلوچستان کی تاریخ میں ناکام ترین اور بدنام ترین حکومت بن چکی ہے، وزراءکی بدترین کرپشن ہر قہوہ خانے اور گلی کوچے میں افسانوی شہرت اختیار کر چکی ہے۔2011-12ءکے بجٹ میں ہر ممبر اسمبلی کے لئے25کروڑ رکھے گئے تھے اب یہ رقم 30 کروڑ کر دی گئی ہے۔ سردار عطاءاللہ مینگل کی حکومت کا بجٹ32کروڑ تھا اورکوئٹہ ایک خوبصورت شہر اور دارالخلافہ تھا۔ اب پورا شہر کھنڈرات کا نقشہ پیش کر رہا ہے، غلاظتوں کے ڈھیر شہر کے ہر حصہ میں نظر آتے ہیں، نالیاں سڑکوں پر بہتی ہوئی ملیں گی۔ عام لوگوں کا پیدل گزرنا مشکل ہو گیا ہے، بلوچستان اسمبلی کے بعض اجلاس10منٹ میں ختم ہو گئے۔ اسمبلی میں قبرستان کا سناٹا نظر آتا ہے۔25کروڑ کے لولی پاپ نے قوت گویائی سلب کر لی ہے۔ وزیراعلیٰ اسلام آباد میں رہیں یا چین چلے جائیں، کسی کو اُن کی غیر موجودگی کا احساس ہی نہیں ہوتا، پچھلے پانچ مہینوںمیں وہ صرف تین روز کوئٹہ تشریف لائے، لگتاہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کوئٹہ کے دورے پر تشریف لائے، اس کے جواب میں صوبائی حکومت کے ترجمان کا بیان شائع ہوا کہ صوبہ کا کوئی سیکرٹری وفاق میں نہیں ہے اس لئے سارے کام وزیراعلیٰ کو کرنا ہوتے ہیں اِس لئے وہ فائلیں لے کر اسلام آباد آ جاتے ہیں، وہ تو اسلام آباد میں بلوچستان کے عوام اور حقوق کے لئے قیام کرتے ہیں اس طرح عوام کو بے وقوف بنانے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے۔

قارئین محترم: جب کوئی ٹارگٹ کلنگ میں قتل ہوتا ہے تو روائتی بیان جاری کر دیا جاتا ہے، لیکن عملی طور پر کوئی قدم نہیں اُٹھایا جاتا ۔ پورے صوبے میں ان شہروں میں جہاں بلوچ اکثریت میں ہیں وہاں سے شہر میں پنجابی آباد کار اپنے اپنے آبائی علاقوں کو مراجعت کر چکے ہیں اور روانگی کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ سو سالوں سے رہائش پذیر پنجابی آباد کاراپنے آباﺅاجداد کی زمینوں، مکانوں اور قبرستانوں کو خدا حافظ کہہ چکے ہیں، پھر مُڑ کر نہیںدیکھا اور بلوچستان سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جا چکے ہیں۔ ٹارگٹ کلنگ میں اکثر آباد کار نشانہ بنتے ہیں اور ان میں اکثریت اُن لوگوں کی ہے، جو غریب طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ جولائی کے15روز میں78 افراد زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔38افراد زخمی ہوئے اور 20افراد اغواءہوئے ہیں اور جو بھی چھوٹا ہے وہ بھاری رقم ادا کر کے گھر لوٹا ہے اور زبان بند کر لی ہے۔ ان میں سے10 بازیاب ہوئے ہیں، لیکن پولیس نے بازیاب نہیںکرایا ہے، بلکہ اغواءکنندگان کو بھاری رقم ادا کی ہے۔ کوئٹہ اب28لاکھ سے زیادہ کا شہر بن گیا ہے اور اس شہر میں پولیس کی نفری صرف 5900 ہے۔ وفاق سے28آفیسرز کو بلوچستان میں تبادلے کے طور پر بھیجا گیا، 11آئے اور باقی نے آنے سے انکار کر دیا۔ اب بلوچستان ان آفیسرز کے لئے موت کا کنواں ثابت ہو گا اس لئے موت کا خوف انہیں بلوچستان آنے سے روکتا ہے، جس آفیسر کا تبادلہ ہوتاہے اسے اپنی سانس اکھڑتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ اغواءکنندگان میں 10لاشوں کی صورت میں گھر لوٹے ہیں۔ صوبائی حکومت نے نو ماہ قبل 12ارب روپیہ سے اپ گریڈ سیکیورٹی پلان کی منظوری دی تھی، مگر یہ پلان بھی عوام کے جان و مال کا تحفظ نہ کر سکا۔ جرائم کے کسی شعبہ میں کمی نہیں آئی ہے۔ اندرون بلوچستان ایف سی پر حملوں میں تسلسل برقرار ہے۔ گزشتہ دنوں سی سی پی او کی صدارت میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، جس میں آئی جی پولیس کو تجویز پیش کی گئی کہ اہم شخصیات کی سیکیورٹی پر مامور اہلکاروں کو واپس لایا جائے اور اُن کی جگہ بلوچستان کانسٹیبلری کے جوانوں کو متعین کیا جائے۔ ڈی ایس پی اور ایس پی رینک کی کمی ہے، اُن کی جگہ جونیئر آفیسرز کو تعینات کیا گیا ہے، سینئر جونیئر کی تفریق سے ایک نئی کشمکش شروع ہو گئی ہے۔

پولیس کو دہشت گردی سے نمٹنے کی تربیت ہی نہیں دی گئی ہے، اِس لئے سر شام پولیس کوئٹہ شہر سے چلی جاتی ہے۔ ایف سی کے جوان نظر آتے ہیں بعض دفعہ ایف سی کے جوان ٹریفک پولیس کا فریضہ بھی سرانجام دیتے ہیں اور کاغذات چیک کرتے ہیں۔کوئٹہ میں جب بھی ٹریفک پولیس کاغذات چیک کرتی ہے، تو اُن کی جیبوں میں قیمتی نوٹ ٹرانسفر ہوتے رہتے ہیں، اب پاکستان میں پولیس کا کلچر بن گیا ہے۔اس ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں نے سریاب کے علاقے سے، جو کوئٹہ کے جنوب میں واقعہ ہے، پنجابی آباد کار مکمل جا چکے ہیں اور ہزارہ قبیلہ کے لوگ بھی نقل مکانی کر گئے ہیں۔ دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ میں ہزارہ قبیلہ کے700کے قریب لوگ مارے جا چکے ہیں اب یہ لوگ آسٹریلیا جا رہے ہیں، کوئی 20ہزار کے قریب پناہ لے چکے ہیں اور ان کا سلسلہ جاری ہے، کئی لوگ ناجائز طریقوں سے جانے کی کوشش میں سمندر میں ڈوب گئے ہیں۔ اس ٹارگٹ کلنگ کے نتیجے میں آباد کار کوئٹہ شہر کے وسط میں اور مشرق کی جانب جہاں تینوں آباد کار منتقل ہو گئے ہیں اور اسی طرح شمال میں آباد کار شفٹ ہو گئے ہیں اور زمینیں خریدی ہیں اور ہزارہ شیعہ بھی مشرق کی جانب کوہ سردار کے دامن میں رہائش پذیر ہیں اور مغرب میں اے وَن سٹی کی پشت پر رہائش پذیر ہیں۔ اب کوئٹہ کے وسط میں کوئی ہزارہ نہیں ہے ۔ کوئٹہ شہر پر ایک خوف کی فضا چھائی ہوئی ہے اور لوگ سرشام گھروں کو لوٹ جاتے ہیں، ہوٹلوں کا کاروبار بُری طرح ختم ہو کر رہ گیا ہے، کبھی اس موسم میں ہوٹلوں میں جگہ نہیں ہوتی تھی اب یہ مسافروں کو ترس گئے ہیں۔ اب ماضی کا خوبصورت اور دلکش شہر ایک آسیب زدہ شہر لگتا ہے۔

مزید :

کالم -