جمہوریت مانگو، روٹی نہ مانگو

جمہوریت مانگو، روٹی نہ مانگو
جمہوریت مانگو، روٹی نہ مانگو

  

  جمہوریت کے بارے میں ہمارے ہاں ایک رویہ پچھلے چند برسوں میں یہ پروان چڑھا ہے کہ جمہوری اداروں کو اپنی آئینی مدت پوری کرنی چاہیے، چاہے وہ اپنے عرصہءاقتدار میں کوئی ایک بھی جمہوری اور فلاحی کام نہ کر سکے ہوں۔ اگر اصولی اور آئینی طور پر اس رویے کو دیکھا جائے تو یہ بالکل درست نظر آتا ہے، کیونکہ بہرحال اداروں کو اپنی آئینی مدت پوری کرنی چاہیے، لیکن اگر جمہوری روح کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر بات کی جائے تویہ بات بالکل کھوکھلی اور جمہوریت کے عین برخلاف نظر آتی ہے کہ جمہوری ادارے عوام کی طرف سے بالکل بے نیاز ہو کر اپنی ہی دنیا اور مفادات میں مست ہو جائیں، اور ملک وقوم کے لئے کچھ بھی نہ کریں۔کہنے کو موجودہ جمہوری تجربے کے سبھی فریق یہ دعویٰ کرتے نہیں تھکتے کہ وہ کارکردگی کی بنیاد پر انتخابات میں کامیابی حاصل کریں گے ،مگر کوئی ان سے پوچھے کہ آپ کس ”کارکردگی“ کی بنیاد پر جیتنے کی توقع لگائے بیٹھے ہیں؟ پچھلے ساڑھے چار برسوں میں اچھے خاصے سفید پوش بھی غربت کی لکیر کے نیچے پہنچ چکے ہیں، حالات ہیں کہ دن بدن دگر گوں ہوتے چلے جا رہے ہیں، مگر اس کے باوجود حکومتی زعماءکی باتیں سنو، ان کے دعوے دیکھو، ان کی بڑھکوں پر غور کرو تو یوں لگتا ہے کہ انہوں نے دودھ کی نہریں بہا دی ہیں، قوم پر وہ احسان عظیم کیا ہے کہ جس کا شکر ادا ہی نہیں کیا جا سکتا، اسے کہتے ہیں ،عوامی مسائل سے بے نیاز جمہوریت اور یہی وہ جمہوریت ہے، جو ہمارے ہاں کبھی سیاسی استحکام پیدا نہیں ہونے دیتی۔

ہمارے ارباب اقتدار در حقیقت تصویر کا ایک رخ دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ وہ چونکہ خود ایک چکا چوند ماحول میں زندگی گزارتے ہیں، اس لئے انہیں ہر طرف گنگا جمنا کے مناظر دکھائی دیتے ہیں۔ انہیں بڑے بڑے ہوٹلوں میں مُسلم مرغوں اور چائنیز کھانوں سے لطف اندوز ہونے والے ہی نظر آتے ہیں، ان لوگوں پر نظر نہیں پڑتی جو بچی کھچی ہڈیوں سے اپنا رزق تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔ انہیں اسلام آباد یا لاہور کی شاہراہوں پر دوڑتی کاریں توخوشحالی کا بگل بجاتی دکھائی دیتی ہیں، مگر چھوٹے شہروں، قصبوں یا انہی بڑے شہروں کی کچی اور پسماندہ آبادیوں میں کیڑے مکوڑوں کی طرح زندگی گزارنے والے نظر نہیں آتے۔ کیا یہ دو انتہائیں نہیں کہ ایک طرف لوگ پیٹ کا ایندھن بھرنے کے لئے آٹا اور چینی تلاش کرتے ہیں اور دوسری طرف لاکھوں روپے مالیت کے پلاٹ اور گاڑیاں خریدنے والے مارے مارے پھرتے ہیں۔

ان دونوں منظروں میں سے حقیقی منظر کون سا ہے؟.... چائنیز ہوٹلوں اور ڈیپارٹمنٹل سٹوروں کے سامنے گاڑیوں کی لمبی قطاریں یا آٹے، گھی، چینی اور امداد کے لئے قطاروں میں کھڑے ہوئے عوام؟.... جس طرح سرکاری میڈیا صرف سٹاک ایکسچینج کی نفسیاتی حد کو عبور کرنے کی خبر دیتا ہے ،لیکن جب مارکیٹ کریش ہو کر چھوٹے سرمایہ کاروں کے اربوں ڈوبتے ہیں، تو اس کا ذکر تک نہیں کرتا۔ اسی طرح حکومت کا ہر چھوٹا بڑا فرد تصویر کا صرف یہی رخ دیکھتا اور دکھاتا ہے کہ ملک میں جائیداد کا ریٹ کتنا چڑھ گیا ہے۔ موبائل فون، کاریں اور موٹر سائیکلیں کتنی تیزی سے بک رہی ہیں اور لوگوں کا معیار زندگی کس قدر بلند ہو رہا ہے۔ اسے دو وقت کی روٹی کے لئے جگہ جگہ قطار میں کھڑے ہوئے مرد و زن کبھی دکھائی نہیں دیتے، انہیں وہ خود کشی کرنے والے بھی نظر نہیں آتے، جو بھوک اور غربت کے ہاتھوں زندہ در گور ہو چکے ہیں،کیونکہ ایسے منظر وہ دیکھنا ہی نہیں چاہتا۔

کسی زمانے میں ایک مڈل کلاس ہوا کرتی تھی۔ یہ مڈل کلاس دو انتہاﺅں کے درمیان ایک پل کا کام دیتی تھی۔ دنیا بھر میں کسی بھی معاشی نظام کی مضبوطی کا باعث اسی مڈل کلاس کو سمجھا جاتا ہے۔ ہم نے مڈل کلاس کو کچل کر رکھ دیا ہے۔ ایک طرف امارت ہے اور دوسری طرف غربت۔ ایک طرف مہنگے پلاٹ اور قیمتی گاڑیاں خریدنے کی اندھی دوڑ ہے اور دوسری طرف نان جویں کو ترستے عوام ....مگر کسی بجٹ میں اس خلیج کو پاٹنے کی کوئی کوشش نظر نہیں آتی۔ حکومت گندم کی امدادی قیمت بڑھا کر سمجھتی ہے کہ اس نے ملک کی ستر فیصد دیہی آبادی کو خوشحال کر دیا ہے ،جبکہ اصل صورت حال یہ ہے کہ اس ستر فیصد آبادی میں ساٹھ فیصد ایسے ہیں، جن کی اپنی کوئی زمین ہی نہیں اور جنہیں کسی وڈیرے سے اپنی ضرورت کی گندم لینا پڑتی ہے۔ ہمارے ارباب اختیار کو یہ حقیقت نجانے کب سمجھ آئے گی کہ اصل خوشحالی اس وقت جنم لیتی ہے، جب عوام کی بنیادی ضرورتیں آسانی سے پوری ہوتی ہیں۔

....مگرہمارے ہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ آٹا مہنگا اور موبائل فون سستا کر کے سمجھا جارہا ہے کہ عوام خوشحال ہو رہے ہیں۔ لیزنگ پر گاڑیاں دے کر یہ تصور کر لیا گیا ہے کہ خوشحالی نے ملک میں ڈیرے ڈال لئے ہیں۔ زمینیں مصنوعی طور پر مہنگی کر کے پاکستان کو ایشین ٹائیگر کہا جارہا ہے، حالانکہ اس مصنوعی غبارے سے وہ مناظر ہوا نکال دیتے ہیں، جو ہر چھوٹے بڑے شہر میں عوام کی سستی اشیاءکی خریداری کے لئے قطاروں پر مبنی ہیں۔ جس قوم کے کروڑوں افراد دو وقت کی روٹی کے لئے آٹے کی تلاش میں سرگرداں نظر آئیں، اس کی ترقی یا خوشحالی کا ڈھنڈورا کوئی عقل کا اندھا ہی پیٹ سکتا ہے....یہ جواب تو حکمران ہی دے سکتے ہیں کہ عوام کی قوت خرید میں اضافہ کئے بغیر اقتصادی خوشحالی کیسے آسکتی ہے؟ اس نام نہاد خوشحالی میں تو حکومتی خزانہ بھرا ہے یا ان سرمایہ داروں کی تجوریاں، جو پہلے ہی مالا مال ہیں۔ کیا یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی ہے ۔ہم ترقی و خوشحالی کے دشمن ہیں اور نہ روشن خیالی کے مخالف۔ ہم تو صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے ہاں جمہوریت کے نام پر قائم ہونے والی حکومتیں اگر سب لوگوں کو زندگی کی آسائشیں نہیں دے سکتیں، علاج معالجے کی سہولتیں نیز تعلیم اور روز گار مہیا نہیں کر سکتیں، تو نہ سہی دو وقت کی بھوک مٹانے کے لئے ضروریات زندگی تو فراہم کریں۔ زرعی ملک کے عوام اگر سستے آٹے اور چینی کے لئے کئی کئی گھنٹے قطاروں میں کھڑے نظر آئیں تو اسے خوشحالی کون کہے؟پٹرول مہنگا ہونے پر پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال کا مشورہ دینے والے ایسی ٹرانسپورٹ بھی تو فراہم کریں ،جس پر لوگ انسانوں کی طرح سفر کر سکیں۔ عوام اب بھی اس ٹرانسپورٹ پر سفر کرتے ہیں، لیکن یہ ان کے لئے سزا سے کم نہیں۔

ہمارے معاشرے کے اندر پائے جانے والے اس قسم کے تضادات در حقیقت اس بد صورتی کو جنم دیتے ہیں، جو بدنمائی کے ساتھ ساتھ دکھوں اور محرومیوں کا بھی باعث بنتی ہے۔ چند فیصد کو خوشحالی کا لبادہ پہنا کر پورے معاشرے کی خوشحالی کا ڈھنڈورا پیٹنے سے بات نہیں بنے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ پٹرول، بجلی، گیس جیسی ضروریات زندگی کو مہنگا کر کے عوام کو مزید بدحال کر دیا گیا ہے۔ عوام کے لئے اب دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہو چکا ہے۔ گاڑیوں کی فراوانی، موبائل فونز کی بہتات اور پلاٹوں کی گرانی سے خوشحالی کا اندازہ لگانے والے کاش اس بدحالی کو بھی دیکھ سکیں، جو بڑے شہروں سے باہر ملک کے کونے کونے میں موجود ہے اور جس میں بھوک سے بلکتی اور محرومیوں میں سسکتی زندگی اپنے پورے دکھوں اور تکلیفوں کے ساتھ ہماری اس نام نہاد خوشحالی کا منہ چڑا رہی ہے، جسے حکومتی وزیروں مشیروں نے تکیہ کلام بنا رکھا ہے۔   ٭

مزید :

کالم -