اِس غیرملکی ہاتھ کی نشاندہی ہونی چاہئے

اِس غیرملکی ہاتھ کی نشاندہی ہونی چاہئے

  

وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے ایک بار پھر کہا ہے کہ بلوچستان میں گڑبڑ غیر ملکی ایما پر ہورہی ہے، منفی اثرات دوسرے علاقوں تک جاسکتے ہیں.... ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں انہوں نے دوسری بار بلوچستان میں غیر ملکی مداخلت کی بات کی ہے، لیکن کسی غیر ملک کا نام نہیں لیا جو بلوچستان میں مداخلت کررہا ہے۔ اس سے پہلے ایف سی کے سربراہ میجر جنرل عبیداللہ خٹک نے کہا تھا کہ بلوچستان میں بیس غیر ملکی ایجنسیاں ملوث ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز میجر جنرل اشفاق ندےم کا کہنا ہے کہ فاٹا کے بعض عناصر حالات خراب کررہے ہیں، بلوچستان میں جو عناصر بھی حالات خراب کررہے ہیں، وہ پاکستانی قوم کے مجرم ہیں۔ یہ لوگ ملکی ہیں یاغیرملکی، ان کا قلع قمع ہونا چاہئے اور ان کے چہروں سے جتنی جلد نقاب اُلٹ جائے، اتناہی اچھا ہے۔ جوغیر ملک بلوچستان میں گڑبڑ کرا رہے ہیں، اُن کی نشاندہی بھی ہونی چاہئے تاکہ قوم کو معلوم ہوکہ اس کا دوست کون ہے اور دشمن کون؟ اگرکوئی خاص مصلحت حائل نہیں ہے تو توقع کی جانی چاہئے کہ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کھل کران ملکوں کے نام بتائیں گے جنہوں نے صوبے میں عوام کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے۔ صحیح تشخیص کے بغیر کبھی درست علاج نہیںہوسکتا، اس لئے بلوچستان کے مرض کی سو فیصد درست تشخیص ضرور ہونی چاہئے تاکہ علاج بھی درست ہو۔

مزید :

اداریہ -