پولیو سے پاک پاکستان کا خواب

پولیو سے پاک پاکستان کا خواب

  

منگل کے روز کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں اقوام متحدہ کے تحت انسداد پولیو مہم میں شرکت کے لئے گھانا سے آئے ہوئے ڈاکٹر فوٹسن ڈائیڈو کو نامعلوم موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے زخمی کر دیا۔ ڈاکٹر فوٹسن جنوری میں پاکستان آئے تھے اور وہ افغانوں کی بستی میں اپنے فرائض سرانجام دے کر واپس آ رہے تھے کہ اُن کی گاڑی پر فائرنگ کر دی گئی۔ پولیس کی جانب سے خد شہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اِس واقعہ کا تعلق پولیو کے خلاف مہم سے ہو سکتا ہے، کیونکہ مقامی لوگوں میں اِس حوالے سے تحفظات پائے جاتے ہیں۔ ایک اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایک رضاکار نے انکشاف کیا ہے کہ ہیلتھ ورکروں کو دھمکیاں دی جاتی رہی ہیں اور بعض مساجد میں بھی اِس مہم کے خلاف وقتاً فوقتاً اعلانات کئے جاتے ہیں، جن میں ” پولیو ٹیکوں“ کو غیر اسلامی کہا جاتا ہے۔ دوسری جانب انسداد پولیو کی مہم کو ایک اور دھچکا لگا جب شمالی وزیرستان میں اِس حوالے سے طے شدہ جرگہ منعقد نہیں کیا جا سکا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق سوائے شمالی اور جنوبی وزیرستان کے، پورے ملک میں پولیو کے خلاف سہ روزہ مہم جاری ہے۔ وزیرستان میں طالبان نے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کو جاسوسی کا امریکی طریقہ قرار دیتے ہو ئے اِس پر پابندی لگا رکھی ہے۔ یہ اقدام امریکہ کی جانب سے اُسامہ بن لادن کی تلاش میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کے استعمال کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی نے ” پولیو ٹیکوں“ کی آڑ میں ایبٹ آباد میں اُسامہ بن لادن کی رہائش گاہ تک رسائی حاصل کی تھی۔ طالبان کی طرف سے شرط عائد کی گئی ہے کہ وزیرستان میں امریکی ڈرون حملوں کے خاتمے تک بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ” پولیو ٹیکوں“ کی مہم کے آغاز کے لئے حکام نے وزیرستان میں قبائلی بزرگوں اور مذہبی رہنماﺅں سے رابطہ کر کے جرگہ بلانے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ جرگہ پیر اور منگل کے روز منعقد ہونا تھا۔ اِس کے بعد ایک وفد تشکیل دیا جانا تھا جو طالبان کے نمائندوں سے ملاقات کر کے اُنہیں راضی کرنے کی کوشش کرتا تاہم علاقے میں نافذ کرفیو کے باعث جرگہ منعقد نہیں کیا جا سکا۔ ہیلتھ ورکروں کی سیکیورٹی کے بارے میں تحفظات بھی جرگہ بلانے میں ناکامی کا سبب بنے۔ ملک کے دیگر حصوں میں بھی صورت حال مثالی نہیں، گزشتہ چند روز کے دوران نامعلوم افراد نے اسلام آباد میں پولیو ورکروں کو تشدد کا نشانہ بنایا، جیکب آباد میں ایک ٹیم پر فائرنگ کی گئی اور زیارت میں ایک رضا کار سے موٹر سائیکل چھین لی گئی۔

غور طلب بات ہے کہ پاکستان اِس وقت دُنیا کے اُن تین ممالک میں شامل ہے جہاں پولیو کا خطرہ موجود ہے۔ دیگر دو ممالک افغانستان اور نائیجیریا ہیں۔ گزشتہ سال ملک میں پولیو کے 198 کیس سامنے آئے جبکہ اِس سال اب تک22بچوں میں اِس وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں اِس سال پولیو کا ایک ایک کیس سامنے آ چکا ہے اور بہت سے ایسے علاقے موجود ہیں جہاں بچوں کو اِس بیماری سے بچاﺅ کے قطرے نہیں پلائے جا سکے۔ اگر اِس خطے میں مہم کا آغاز نہ کیا جا سکا تو ساڑھے تین لاکھ سے زائد بچوں کا مستقبل خطرے میں ہو گا۔ یہ صورت حال پوری قوم اور تمام لیڈروں کے لئے لمحہ ¿ فکریہ ہونی چاہئے۔ یہ بات درست ہے کہ امریکہ اُسامہ بن لادن کی تلاش میں پولیو ویکسی نیشن کا استعمال کر کے ایک اخلاقی جرم کا مرتکب ہوا۔ اِس اقدام کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، اِس بیماری کے خلاف ایک عر صے سے جنگ لڑنے والے عالمی اداروں نے بھی اِس حکمت ِ عملی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے، لیکن اِس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ہم امریکہ کے جرم کی سزا اپنی آنے والی نسلوں کو دیں۔ اِس مو¿قف کی ہم تائید کرتے ہیں کہ وزیرستان میں ڈرون حملوں کا خاتمہ ہونا چاہئے، لیکن یہ سمجھنا بے حد ضروری ہے کہ پولیو کے خلاف مہم امریکی مفاد میں نہیں، بلکہ انسانیت کے حق میں ہے۔ اسے امریکہ کے کسی اقدام سے مشروط نہیں کیا جا سکتا۔

وقت کی ضرورت ہے کہ تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں ملک سے پولیو کے خاتمے کے لئے اپنے اختلافات بالائے طاق رکھ کر اکٹھی ہو جائیں۔ مساجد کو پولیو کے خلاف مہم کی مخالفت کے لئے استعمال کرنا تشویشناک ہے۔ علماءدین کو چاہئے کہ وہ یک آواز ہو کر اِن دقیانوسی خیالات کی تردید کریں اور وہ لوگ جو اسے غیر اسلامی قرار دیتے ہیں، اُنہیں حقیقت سے آگاہ کریں۔ اگر کسی بیماری کا علاج یا اس سے بچاﺅ کا طریقہ کار موجود ہو تو یہ مذہبی فریضہ ہے کہ اُسے اختیار کیا جائے۔ دوسری جانب وہ رہنما جو طالبان کی حمایت میں آواز بلند کرتے رہتے ہیں، اُن پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ طالبان سے رابطہ کریں اور اُنہیں پولیو کے خلاف جنگ میں حکومت اور عالمی اداروں کا ساتھ دینے پر راضی کریں۔ اگر اِس کی آڑ میں جاسوسی کا خطرہ ہو تو اِس کے لئے بھی ہیلتھ ورکروں اور حکومت کے ساتھ بیٹھ کر طریقہ ¿ کار طے کیا جا سکتا ہے، لیکن کسی مفروضے کی بنیاد پر قوم کے مستقبل سے کھیلنے کی اجازت ہر گز نہیں دی جا سکتی۔ تمام سیاسی جماعتیں چاہے وہ مسلم لیگ(ن) ہو، تحریک انصاف ہو یا جمعیت العلمائے اسلام یا جماعت اسلامی ہو یا برسر اقتدار جماعتوں میں سے کوئی ہو، اُن کی یہ ذمہ داری ہے کہ اِس مقصد کے لئے یکجا ہوں اور اِس ملک کو ہمیشہ کے لئے پولیو کے خطرے سے پاک کرنے کا عزم کریں۔ اگر سب مل کر کوشش کریں تو پورا امکان موجود ہے کہ طالبان بھی اعتماد کرنے کو تیار ہو جائیں گے اور ملک کے باقی حصوں میں بسنے والے افراد کے تحفظات بھی دُور ہو جائیں گے۔ پولیو کے خلاف تین روزہ مہم بدھ کو اختتام پذیر ہونی تھی۔ امید ہے تمام مذہبی و سیاسی رہنما ہمارے مستقبل پر پولیو کی شکل میں لہرانے والے سیاہ بادلوں پر بھی توجہ دیں گے اور اقوام متحدہ سے اِس مہم کے دورانیے میں اضافے کی درخواست کر کے ملک کے ہر بچے کو پولیو کے قطرے پلانے کا عزم کر کے باہر نکلیں گے۔

مزید :

اداریہ -