الیکشن سے پہلے سکولوں پر ساڑھے چھ ارب روپے خرچ کرنے کا حکومتی منصوبہ

الیکشن سے پہلے سکولوں پر ساڑھے چھ ارب روپے خرچ کرنے کا حکومتی منصوبہ
الیکشن سے پہلے سکولوں پر ساڑھے چھ ارب روپے خرچ کرنے کا حکومتی منصوبہ

  

 لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک )الیکشن مہم شروع کرنے سے پہلے پنجاب حکومت تعلیمی اداروں پر ساڑھے چھ ارب روپے سے زائد خرچ کرے گی جبکہ اس نے قواعدو ضوابط کے منافی اقدامات پر نجی تعلیمی اداروں کیخلاف ایکشن لینے میں ناکامی کا اعتراف بھی کرلیا ہے اور واضح کیا ہے کہ قانونی اختیار رکھنے کے باوجود ان اداروں کو سر بمہر نہیں کیا جاتا تاکہ ان کی تعلیمی سرگرمیاں اور سٹوڈنٹس متاثر نہ ہوں پنجاب اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران سوالوں کے جواب دیتے ہوئے وزیرتعلیم میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن نے بتایا کہ آئندہ چند ماہ میں چار ارب روپے مسنگ فسلٹیز والے سکولوں پر جبکہ دو رب روپے سکولوں کی اپ فریڈیشن پر خرچ کئے جائیں گے باون کروڑ روپے ارکان اسمبلی کی سفارش پر ان کی ترجیحات میں شامل تعلیمی اداروں پر خرچ ہونگے ۔تعلےم کو لازمی قرار دے دےا گےا ہے اور بچوں کو ان کی عمر کے اعتبار سے تعلےم دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے سکولوں مےں اس وقت سالانہ 25لاکھ بچے مستفےد ہو رہے ہےں۔ پی پی پی کی رکن اسمبلی ساجدہ مےر کے ضمنی سوال کے اےجوکےٹرز کی بھرتےاں ڈی سی او حضرات اپنی مرضی سے کر رہے ہےں ۔ اس پر وزےر تعلےم نے اےوان کو بتاےا کہ پنجاب کے سکولوں مےں 70ہزار اےجوکےٹرز کی بھرتی مکمل مےرٹ پر ہوئی جسے بین الاقوامی سطح پرپذےرائی ملی کیونکہ 32ہزار سائنس ٹےچرز اور 37ہزار یجوکیٹرزکی بھرتی مےں کسی اےک کو بھی سفارش پر نہےں رکھا گےا ۔اےجو کےٹرز کی بھرتی کےلئے تعلےم کی اہلیت کم از کم د بی اے رکھی گئی تھی لیکن پر 70فےصد بی اے، کے ساتھ ساتھ 3فےصد اےم اے اور پی اےچ ڈی کے حام امیدوار منتخب کئے گئے جبکہان آسامیوں کیلئےس اےم فل کرنے والوں نے بھی درخواستیں دی تھیں۔ 

مزید :

تعلیم و صحت -