انرجی پالیسی واضح کریں....!

انرجی پالیسی واضح کریں....!

  

چند روز قبل وفاقی وزیر پانی و بجلی جناب خواجہ آصف صاحب نے یہ خوش خبری برملا سنا ئی کہ حکومتی سطح پر لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لئے جنگی بنیادوں پر کام شروع ہو چکا ہے ، تمام آئی پی پیز کو 300 بلین کی ادئیگیاں کی جا چکی ہیں اور رمضان المبارک کے بارکت مہینے میں لوڈشیڈنگ کے دورانیہ میں5 گھنٹے تک کمی کی جائے گی۔ یعنی یہ اعلانات اس مخفی انرجی پالیسی کا حصہ ہیں جو جناب وزیراعظم صاحب نے ہنگامی بنیادوں پرمرتب فرمائی، جس سے لوڈشیڈنگ کے اس جن کو بوتل میں بند کیا جا سکے گااور جس میں عوام کو ریلیف کا واضح موقف درج ہے۔آج وزیر اعظم کو قلم دان سنبھالے دو ماہ کے لگ بھگ ہو گئے ہیں، مگر بدقسمتی سے جس کام کو وہ جنگی بنیادوں پر حل کرنا چاہتے تھے اس کے لئے کوئی لائحہ عمل ا بھی تک منظر عام پر نہیں آیا۔

 قارئین محترم ! آپ خاطر جمع رکھیں۔ ملکی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات تو مصدقہ حقیقت ہے کہ بجلی کا مسئلہ اب اتنی شدت اختیا ر کر گیا ہے کہ اس کا فوری حل شاید ہی ممکن ہو سکے ۔ اور اس کے مکمل حل کے لئے شاید موجودہ حکومت کی مدت بھی ناکافی ہے، مگر کہتے ہیں کہ ’دیر آید درست آید۔‘ عوام کو اس بار بھی صبر اور تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ کیونکہ ڈیموں کے محدود ہونے کی وجہ سے اور پانی کی قلت کے باعث گزشتہ کئی سال سے اب ہماری بجلی کی پیداوار ہمارے پرائمری سورس یعنی پانی پر بہت کم اور متبادل ذرائع یعنی گیس اور ڈیزل پر زیادہ ہے۔ جس کے لئے ہمیں نجی کمپنیوں کا رخ کرنا پڑتا ہے ۔ جس کا ایک نقصان تو یہ ہے کہ ہماری طلب اور رسد میں واضح فرق پیدا ہو گیا ہے جو پورا کرنا موجودہ انفراسٹرکچر میں ممکن نہیں اور دوسرا ہمیں مہنگے داموں یہ بجلی خریدنا پڑتی ہے جس کے ہم اب متحمل نہیں۔جس کے لئے ہمیں انفراسٹرکچر میںتبدیلی لانا ہو گی۔

گیس اور ڈیزل بجلی کی پیداوار کے متبادل اور بہت مہنگے ذرائع ہیں جن سے اگر ہم بجلی پوری کرنے کی کوشش کرتے رہے تو شاید یہ کسی اندھے کنویں میں روپے ڈالنے کے مترادف ہوگا۔اور ہمارا لوڈشیڈنگ فری پاکستان کا خواب کبھی شرمندئہ تعبیر نہ ہوسکے گا۔ ہم ہر سال اپناامدادی کشکول اس کنویں میں انڈیلتے رہیں گے اور مزید آئی ایم ایف کے قرض تلے دبتے چلے جائیں گے اور حالات گزشتہ سے پیش تر ہوتے جائیں گے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں ایک تو مہنگا تیل اور ڈیزل جو بجلی کی پیداروار میں خرچ ہوتا ہے جو ہماری استطاعت سے اب کوسوں دور ہیں اور جس کی مد میںبجٹ کا کافی حصہ خرچ ہو جاتا ہے۔اور دوسری طرف یہ تیل مافیہ ہے جو کہ حکومت کو غیر میعاری تیل کی فراہمی کرتی ہے۔ جس سے مطلوبہ پیداوار کا حدف حاصل نہیں ہونے پاتا۔اور لوڈشیڈنگ کے دورانیہ میں بھی گھنٹوں اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔الغرض، ان عارضی پیداواری مشنری سے نکل کر ہمیں ایک مستقل متبادل ذرائع کی ضرورت ہے۔ پیداوار کے لئے مروجہ سسٹم سے مجوزہ سسٹم تک(یعنی متبادل ذرائع کوئلہ ، پانی، گنے کی پھوک وغیرہ)کا سفر حقیقتاً ضروری ہے، جس میں واقعتا وقت اور پیسہ درکار ہیں۔

ہماری ملک میں بجلی کی طلب 18 ہزار میگا واٹ کے لگ بھگ ہے۔ اور چند ماہ قبل پیدار 12 ہزار کے قریب تھی، مگر گزشتہ ماہ جولائی میں آئی پی پیز کو 300 بلین کی ادائےگیوں کے بعد اس میں ساڑھے تین ہزار میگاواٹ کا اضافہ ہوا ہے اور اب پیداوار 15ہزار تجاوز کر گئی ہے۔اور دوسری طرف اگر لوڈشیڈنگ کے دورانیہ کی بات کی جائے تو پہلے سیر تھی تو اب سوا سیر ہے۔

 لاہور کے مختلف مقامات جس میں شالامار ٹاﺅن ، مغلپورہ ، داروغہ والا، واہگہ ٹاﺅن ، شادباغ، جوہر ٹاﺅن ، اقبال ٹاﺅن، یتیم خانہ، ملتان روڈ اور سبزہ زار کے گردونواں کے علاقے شامل ہیں، میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ دیکھنے میں آ رہی ہے، جس کے ساتھ ساتھ سحر اور افطار کے اوقات میں بھی بجلی کی بندش کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں اورسراپہ احتجاج ہیں۔

عوامی حقائق کا اندازہ ملک میں کی جانے والی لوڈشیڈنگ کے اوقات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے ۔ جس کے بعد جناب وزیر پانی و بجلی صاحب کا یہ بیان جو انہوں میں قبل از رمضان پیش کیا تھا کہ ’رمضان المبارک میں لوڈشیڈنگ میں 5 گھنٹے تک کی کمی کی جائے گی جس میں سحر و افطار میں خصوصی طورپر لوڈشیڈنگ نہیں ہو گی‘ بے بنیاد سا لگتا ہے، کیونکہ لوڈشیڈنگ کی صورت حال سے یہ گمان ہوتا ہے کہ جیسے انہوں نے یہ اعلان پاکستانی عوام کے لئے نہیں بلکہ کہیں اور بسنے والوں لوگوں کے لئے کیاہے۔ یا یہ بھی حد امکان ہے کہ شاید وہ یہ بھول رہے ہیں کہ اب نواز شریف صاحب کی حکومت آ چکی ہے۔ وہ اب وفاقی وزیر ہیں اور انہیں اب بڑے بڑے دعوں کو عملی جامہ پہنانا ہے جو وہ ٹی وی پروگراموں میں بیٹھ کر بڑے وثوق و یقین سے کیا کرتے تھے ۔اب انہیں دعوں اور بیان بازی کی بجائے عملی طور پر کوئی اقدام لینا ہوگا تا کہ عوام کو ریلیف مل سکے۔

میری حکومت سے استدعاءہے کہ پہلے ہی مہنگائی ، دہشت گردی سے عوام کی کمر بری طرح زخمی ہو چکی ہے۔ ان کے مزید صبر کا امتحان لینے کی بجائے انہیں ریلیف فراہم کیا جائے جس کے لئے انہوں نے آپ کو ووٹ دے کر ایوانوں تک پہنچایا ہے۔ان کے لئے مستقل اور ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔جو ان کے لئے مرہم ثابت ہوسکے ۔ بجلی چوروں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے اور بجلی کی پیداوار کے مہنگے ذرائع فوری ترک کر کے متبادل ذرائع دیکھے جائیں، جو سستے اور میعاری ہوں۔اللہ پاک نے ہمارے ملک کو بہت سے وسائل سے مالا مال کیا ہے خدارا انہیں بروئے کار لایا جائے۔ آئی پی پیز کو ادائیگیوں کے باوجود لوڈشیڈنگ دورانیہ کا جائزہ لیا جائے جو کہ 16 گھنٹے سے تجاوز کر چکا ہے۔با لخصوص رمضان المبارک میںسحر و افطار میں لوڈشیڈنگ کا نوٹس لیں اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا حکم فرمایں۔

 بجلی کا مسئلہ اگر جلد حل نہیں ہو سکتا تو برائے کرم لوڈشیڈنگ کا کوئی واضح شیڈول فراہم کردیں تاکہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے خلاصی ہو سکے۔ جناب وزیراعظم صاحب سے میری درخواست ہے کہ خدارا واضح انرجی پالیسی کا اعلان کریں، جس انرجی پالیسی کا تذکرہ الیکشن سے قبل کیا جاتا رہا۔ اس کا لائحہ عمل عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔اس کا روڈ میپ تشکیل دیا جائے۔ تاکہ عوام اور حکومت میں ہم آہنگی پیدا ہو سکے اور انہیں بھی ملکی مسائل کا ادراک ہو سکے اور یہ بیچارے بھی کوئی نئی امید باندھ سکیں اور سکھ کا سانس لے سکیں۔     ٭

مزید :

کالم -