بجلی،آٹا اور عوام!

بجلی،آٹا اور عوام!
بجلی،آٹا اور عوام!

  

جمعرات کی صبح سحری کھائی ہی تھی کہ بجلی چلی گئی۔پھر اچانک ایک جھٹکا لگا اور غائب،بیٹی کے مطابق باہر بارش ہورہی تھی، دروازہ کھول کر دیکھا تو واقعی اللہ کی رحمت تھی اور کھل کر مینہ برس رہا تھا، تھوڑی دیر بجلی نہ آئی تو یقین ہوگیا کہ یہ لوڈشیڈنگ نہیں، بارش کے باعث کوئی نقص پیدا ہوگیا ہے اور اب یہ تاخیر سے ٹھیک ہوگا کہ سب ڈویژن کا عملہ برستے پانی میں تو باہر نہیں نکلے گا، بارش تھم جانے کے بعد ہی کوئی صورت بنے گی۔مسجد کی اذان سن کر نیت کی اور پھر فرض کی ادائیگی میں وقت گزار کر لیٹ گئے کہ خود ہی آ جائے گی،تھوڑی دیر بعد بارش بھی تھم گئی تھی۔نیند کا ایک جھونکا آیا،جب آنکھ کھلی تو ساڑھے چھ بجے تھے، بجلی اس وقت تک بھی بحال نہیں ہوئی تھی اس وقت کامل سوا تین گھنٹے گزر چکے تھے، ابھی کچھ سوچ ہی رہے تھے کہ محلے دار اور سیر کے ساتھی گلزار بٹ کا فون آ گیا وہ سب ڈویژن سے پتہ کرنے کو کہہ رہے تھے۔ہم نے سب ڈویژن (نیاز بیگ) کے نمبر پر فون کیا، حسب روائت مصروف ملا، بہت کوشش کی،ناکام رہے، سب ڈویژن والوں نے غالباً فون کا ریسیور الگ رکھ دیا تھا۔اس کے بعد بجلی کے بل سے ایس ڈی او کا نمبر دیکھا 0314-7171234پر اپنے موبائل سے کال کی تو نمبر بند پایا، پھر ایگزیکٹو انجینئرتک رسائی کی کوشش کی اور ان کے موبائل نمبر0314-7171230پر کال کی ،یہ بھی بند تھا، بے چینی شروع ہوگئی اور اس کے بعد تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد یہ مشق جاری رکھی، نتیجہ وہی تھا جو پہلے نکلا، یہ سلسلہ تقریباً سوا نو ساڑھے نو بجے تک جاری رہا کہ بجلی اس وقت نہیں آئی تھی،چھ گھنٹے گزر چکے تھے، اللہ اللہ کرکے ایس ڈی او محترم کا نمبر مل گیا، ان سے گزارش کی اور دریافت کیا تو جواب ملا ۔ہماری ٹیم سروے کررہی ہے جونہی نقص ملا، بجلی بحال ہو جائے گی اور یہ جلد ہوگا۔لیکن گھر سے ہماری روانگی اور دفتر پہنچ کر گھر سے پتہ کرنے کے باوجود یہ مہربانی نہیں ہوئی تھی۔

تھوڑی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ جو حضرات (لائن سپرنٹنڈنٹ+لائن مین) رات کو ڈیوٹی کرتے ہیں، وہ صبح آٹھ بجے اپنی ڈیوٹی پوری کرکے تشریف لے جاتے ہیں، ان حضرات نے بارش کی آڑ میں دفتر سے باہرنکل کر نہیں دیکھا اس وقت تک متعدد لوگ خود آکر شکائت درج کرا چکے تھے کہ ملتان روڈ، اعظم گارڈن، مصطفےٰ ٹاﺅن، پاک کالونی، ایجوکیشن ٹاﺅن اور ملحقہ علاقوں کی روشنی بجھ چکی تھی اور جن کے یو پی ایس تھے، وہ بھی جواب دے چکے ہوئے تھے۔ہم نے مناسب جانا کہ ذرا وقت سے پہلے دفتر جا کر کام کرلیا جائے اور ہم پونے گیارہ بجے دفتر پہنچ گئے ، اس کے بعد سے تادم تحریر نہ تو برقی رو بحال ہوئی اور نہ ہی ایگزیکٹو انجینئر سے ایس ڈی او اور سب ڈویژن کے دفتر سے رابطہ ہوسکا، کیونکہ سبھی نمبر معمول کے مطابق مصروف ملتے تھے۔ ایگزیکٹو انجینئر کے موبائل پر کرتے تو کبھی مصروف اور کبھی بند ملتا، دفتر کا نمبر مسلسل مصروف چلا جارہا ہے، اب ذہنی حالت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے جو بھی سوچ کر آئے تھے وہ کہیں ہوا ہوگیا اور مجبوراً جو بیتی وہی لکھنے بیٹھ گئے ہیں۔

سحری کے وقت صبح سوا تین بجے بند ہونے والی بجلی کے تادم تحریر بحال نہ ہونے کی وجہ سے صارفین کے یو پی ایس تو خراب ہوئے فریج میں پڑے دودھ اور سالن بھی بو دے گئے اور لوگوں کو یہ نقصان برداشت کرنے پڑے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ سطور تحریر ہو جانے کے بعد چھپائی کے عمل کے لئے جانے تک بجلی بحال ہو جائے، لیکن ایس ڈی او اور عملے کے طرزعمل سے اس کی امید کم ہی ہے اس لئے یہی دعا کرنا ہوگی کہ اللہ تعالیٰ مہربانی کرے اور کسی وقت لوگوں کی سنی جائے۔

ابھی ایک روز قبل ہی وفاقی وزیر پانی اور بجلی خواجہ محمد آصف ایک ٹیلیویژن پروگرام میں فرما رہے تھے کہ اگر ایس ڈی او اور ایگزیکٹو انجینئر فون نہیں سنتے تو عوام مجھے فون کرلیں۔ انہوں نے اپنا نمبر نہیں بتایا، غالباً یہ اچھا ہی کیا کہ نمبر عام ہوتا تو پھر لوگوں کو ان سے بھی یہی شکائت پیدا ہوجاتی ،کیونکہ وہ تو پورے پاکستان کے وزیر ہیں، ان کوچاروں صوبوں سے فون آنا شروع ہوجاتے اور یقیناً اکثر صارفین کو یہ نمبر مصروف ملتا کہ کسی نہ کسی کا جواب دیا جارہا ہوتا، ہماری تو خواجہ محمدآصف سے درخواست ہے کہ وہ یہ سخاوت نہ ہی کریں تو بہتر ہوگا کہ چند لوگ تو مستفید ہوجائیں گے۔اکثریت کو مایوسی ہوگی جو عوام کے لئے ٹھیک نہیں، ان کا تو فرض ہے کہ وہ متعلقہ عملے کو کام کا پابند بنائیں کہ وہ خود تو ہر جگہ موجود نہیں ہو سکتے، ویسے اسی پروگرام میں انہوںنے یہ بھی تسلیم کیا کہ شعبہ بجلی میں کرپشن بھی بہت ہے اور نااہل حضرات کی تعداد بھی کم نہیں(شکر الحمدللہ! یہ تحریر مکمل ہوتے ہوتے رابطہ ہوا تو بتایا گیا کہ برقی رو بہال ہوگئی۔گھر سے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ گیارہ بج کر چالیس منٹ پر بجلی آئی۔دوسرے معنوں میں (بندش 8 گھنٹے 20منٹ کی تھی)

ارادہ تو خادم اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کی توجہ مبذول کرانے کا تھا کہ درمیان میں یہ پریشانی آئی اور ذکر کرنا پڑا۔گزشتہ روز ہمارے ساتھ یہ ہوا کہ ہم گھر کے لئے آٹا نہ لے جا سکے۔علاقے کی جس دکان سے ہم روزمرہ کا سودا سلف لیتے ہیں، اس سے آٹا مانگا تو بتایا گیا کہ بیس کلو والا تھیلا موجود ہے۔ہماری ضرورت تھوڑی ہے کہ ہم گھر میں تین افراد ہیں، پانچ اور دس کلو والے تھیلے سے کام چل جاتا ہے۔شکریہ ادا کرکے محلے کے دوسرے سٹوروں سے رجوع کیا تو معلوم ہوا کہ کسی کے پاس آٹا سرے سے ہے ہی نہیں، مشورہ دیا گیا کہ یوٹیلٹی سٹور یا رمضان بازار سے رجوع کریں، ملتان روڈ کے بڑے یوٹیلٹی سٹور کا رُخ کیا تو پتہ چلا سپلائی بحال ہونے کی خوشخبری تو ہے، لیکن ابھی ٹرک آیا نہیں، یوں بھی یہاں آٹا اور چینی لینے والے قطار میں تھے، ہم وقت کی قلت کا بھی شکار تھے، اس کے بعد وحدت کالونی والے رمضان بازار میں جانے کی ہمت نہیں ہوئی۔آج جب متلعقہ بیٹ رپورٹر سے بات ہوئی تو معلوم ہوا کہ فلور مل مالکان منافع خوری پر اترے ہوئے ہیں۔پنجاب حکومت ہر تھیلے (20کلو پر) پر ایک سو روپے کی سبسڈی دے رہی ہے۔اس سلسلے میں مل مالکان نے سپلائی روکی(یوں رمضان بازار میں بھی قلت تھی) وہ حکومت سے قیمت بڑھوانا چاہتے تھے اور 20کلو والاآٹا 795روپے میں بیچنا چاہتے ہیں، اس سلسلے میں حکومت پنجاب کی کوشش سے کوئی معاملہ طے پا گیا اور سپلائی شروع ہوگئی ہے، لیکن جو کمی پیدا ہوئی ، اسے پورا ہوتے کچھ وقت لگے گا، اس کے علاوہ فلور مل مالکان جو آٹا رمضان بازاروں کے لئے پنجاب حکومت اور یوٹیلٹی سٹوروں کے لئے وفاقی حکومت کو مہیا کررہے ہیں، اس کی کوالٹی بھی بہتر نہیں ہے، حالانکہ یہ مل مالکان حضرات خود بھی روزہ دار اور ماتھے پر محراب والے ہیں اور حکومت سے معیار اور قیمت پہلے طے ہوگئی تھی، اس کے باوجود حریصانہ عادت نہیں گئی، اب مجبوراً آٹا خریدنے کے لئے بڑے جنرل سٹور کا رخ کرنا پڑے گا جہاں مل مالکان پانچ، دس اور 20کلو کے تھیلوں میں آٹا مہیا کرتے ہیں جو دو تین مختلف کوالٹی کے ہوتے ہیں، ان میں ایک چکی آٹا بھی ہے جو سب سے زیادہ مہنگا (42روپے فی کلو) ہوتا ہے، مجبوراً یہاں سے ہی خریدنا پڑے گا۔

خادم اعلیٰ سے یہ گزارش بے جا نہیں کہ یہ سبسڈی اور رمضان بازاروں کا سلسلہ ان کی طرف سے پہلی مرتبہ تو شروع نہیںکیا گیا اس سے پہلے بھی کئی سال سے یہ سلسلہ جاری ہے ان کو ایسے تمام حربوں کا علم ہے تو پھر اس کا سدباب کیوں نہیں کیا گیا اور متعلقہ وزیر، اراکین اسمبلی کو سمجھا کر ان چالوں سے خبردار کیوں نہیں کیا گیا۔یہ ضروری ہے کہ لوگ پریشان ہوں اور پھر وہ اس پریشانی کے جواب میں اپنے خیالات کا اظہار کریں، ہم تو یہی کہیں گے کہ خادم اعلیٰ ہر ذمہ دار کو اس کا کام ذمہ داری سے نبھانے اور کرنے کا سلسلہ بنائیں، وہ خود ذآتی طور پر کیا کیاکریں گے اور کہاں کہاں جائیں گے ، ان کے دیکھنے کے اور بھی بہت کام ہیں۔  ٭

مزید :

کالم -