سندھ:طرزِ حکمرانی کا بحران

سندھ:طرزِ حکمرانی کا بحران
سندھ:طرزِ حکمرانی کا بحران

  

صوبائی حکومت میں وزراءکی دوسری کھیپ کی شمولیت کے بعد توقع ہے کہ کابینہ توپوری ہو گئی ہوگی لیکن طرز حکمرانی کا بحران اپنی جگہ برقرار رہے گا۔ وفاق پاکستان میں سندھ ہی وہ پہلا صوبہ ہے جہاں پیپلز پارٹی نے حکومت سازی کا آغاز کیا تھا۔ سید قائم علی شاہ کو دوبارہ وزیر اعلیٰ مقرر کیا گیا۔ وہ گزشتہ حکومت میں بھی اسی منصب پر پانچ سال فائز رہے لیکن حکومت کسی اور کی تھی اور احکامات کسی اور کے چلتے تھے۔ شاہ صاحب تو بس وزیر اعلیٰ ہاﺅس میں قیام کیا کرتے تھے یا پھر اپنے ایک مخصوص حلقے کی خدمت سر انجام دیتے تھے۔ کابینہ کی پہلی تشکیل کے مرحلے پر سات افراد وزیر مقرر کئے گئے تھے ۔ وزراءکی تعداد دیکھ کر لوگوں نے اس وقت سوچا تھا کہ پیپلز پارٹی نے متحدہ قومی موومنٹ کے لئے گنجائش رکھی ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی اکثریت حاصل کر کے ابھری ہے اور اسے اس بات کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے ساتھ کوئی اتحاد کیا جائے اور مخلوط حکومت بنائی جائے لیکن اس کے باوجود پیپلز پارٹی نے متحدہ کو حکومت میں شمولیت کی دعوت دی تھی جس پر متحدہ نے ایک ریفرنڈم بھی کرایا تھا لیکن ریفرنڈم کے فیصلے کا اعلان بوجوہ نہیں کیا گیا۔ سندھ کے شہری علاقوں میں متحدہ کے امیدوار کامیاب ہوئے ہیں، جبکہ اکثر دیہی علاقوں سے پیپلز پارٹی کے نمائندے ہی کامیاب ہوئے ہیں۔ جمہوری اصولوں اور قدروں کے تحت پیپلز پارٹی کو ہی حکومت چلانا چاہئے ۔ پیپلز پارٹی کے ساتھ ایک مسلہ ہمیشہ درپیش رہتا ہے کہ وہ سندھ میں اردو بولنے والوں کی سرپرستی ، قیادت، رہنمائی یا نمائندگی کرنے کی ذمہ داری اٹھانے پر رضا مند ہی نہیں ہوتی ہے۔

یہ درست ہے کہ اسمبلیوں میں نمائندگی متحدہ کے نمائندوں کو ہی تضویض ہوجاتی ہے لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی دوسری پارٹی اردو بولنے والوں کی نمائندگی نہیں کر سکتی۔ سن ستر کے انتخابات کے بعد سے پیپلز پارٹی نے اردو بولنے والوں کو برائے نام پارٹی میں رکھا ہوا ہے، جبکہ عملا پیپلز پارٹی میں اردو بولنے والوں کے لئے گنجائش ہی نہیں ہے۔ موجودہ سندھ کابینہ میں اردو بولنے والے دو ہی وزیر شامل کئے گئے ہیں اور ان کے محکمے بھی برائے نام ہی ہیں۔ ماضی میں تو پیپلز پارٹی نے بڑی جماعت ہونے کے باوجود یہ طے کیا ہوا تھا کہ شہری علاقوں میں اس کے وزراءکو جانا ہی نہیں ہے اور کوئی گیا بھی نہیں ۔ جب اراکین اسمبلی ہی علاقوں میں تقسیم ہو جائیں اور خود اپنے لئے کچھ علاقوں کو علاقہ غیر بنالیں تو اس صوبے میں عام لوگ کیا سوچیں گے اور اپنے مسائل کے حل کے لئے کس کے پاس جائیں گے۔ اردو بولنے والے عوام دیکھتے ہی رہ گئے کہ کاش پیپلز پارٹی سے وابستہ وزراءان کی طرف بھی دیکھتے اور سندھی بولنے والے عوام کی اکثریت بھی اسی شش و پنج میں مبتلا رہی کہ متحدہ کے وزرا ان کے علاقوں کا بھی دورہ کرتے۔ ایک ہی صوبے کو عوامی نمائندوں نے آپس میں تقسیم کر لیا تھا۔ صوبہ سندھ اس لحاظ سے حساسیت کا حامل ہے کہ پیپلز پارٹی کو لوگ بھٹو کی جماعت تصور کرتے ہیں اور اس سے اس بات کی توقع رکھتے ہیں کہ انہیں در پیش مسائل اور معاملات کا حل پارٹی کی حکومت نکالے گی لیکن پارٹی کی حکومت نے حل تو نہیں نکالا البتہ لوگوں کو مسائل میں ہی دھنسنا پڑا۔ حکومت میں شامل لوگوں کے لئے سب کچھ تھا اگر کسی کے لئے کچھ نہیں تھا تو وہ عوام تھے۔ پیپلز پارٹی کے وہ ووٹر جو مرحومہ بے نظیر کے نام پر پارٹی کے نامزد امیدواروں کو ووٹ دینے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اور اس مرتبہ تو مجبوری کیا بلکہ امیدواروں نے خود ہی اس بات کا انتظام کر لیا تھا کہ ووٹر اگر ووٹ نہیں بھی دے گا تو ہم خود ہی ڈبہ بھرو کاروائی کریں گے اور اکثر حلقوں میں ایسا ہی ہوا۔ اگر ایسا نہیں ہوا ہوتا تو آج جو لوگ اسمبلی میں بیٹھے ہیں ان کی اکثریت اپنے گھروں میں بیٹھی ہوتی۔

جس طرح اراکین کی بھاری تعداد کی کوشش ہوتی ہے کہ انہیں ہی نمائندگی کا اختیار حاصل رہے اس طرح اکثر اراکین کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ہی وزیر رہیں اور انہیں ہی وزیر مقرر ہونے کا شرف حاصل ہو۔ پہلی کھیپ میں سات وزراءبھرتی کئے گئے تھے۔ سادہ لوح عوام سمجھ بیٹھے تھے کہ پیپلز پارٹی نے کمال کر دیا کہ اتنی مختصر کابینہ بنائی گئی ہے اور اس مرتبہ تو طرز حکمرانی میں بھی تبدیلی ہو گی۔ نثار کھوڑو، میر ہزار خان بجارانی، شرجیل میمن، منظور وسان، علی نوازعرف راجہ مہر، سکندر مندرو اور مخدوم جمیل الزمان پہلی کھیپ میں شامل تھے۔ ایک آدھ کے سوا سب ہی پیپلز پارٹی ، اس کی سیاست اور حکومت کا کسی نہ کسی دور میں حصہ رہے ہیں۔ پہلی کھیپ میں شامل کئے جانے والوں میں علی نواز عرف راجہ مہر اور سکندر مندرو نئے ہیں۔ سکندر پیپلز پارٹی کے پرانے رہنماءہیں جنہوں نے ضلع بدین میں اپنا مقام بنایا ہوا ہے۔ نثار کھوڑو گزشتہ اسمبلی میں سپیکر تھے اور انہوں نے سخت حالات میں بھی ایوان کو جس غیر جانبدارانہ طریقے سے چلایا اس پر سب ہی ان کی کارکردگی کے معترف تھے۔ میر ہزار خان بجارانی پیپلز پارٹی کے پہلے دور میں صوبائی وزیر اطلاعات بنائے گئے تھے۔ وفاقی وزیر بھی رہے۔ شرجیل میمن صوبائی وزیر اطلاعات رہے۔ منظور وسان وزیر داخلہ سے قبل محکمہ ورکس کے وزیر رہے۔ اس سے قبل بھی پیپلز پارٹی حکومتوں میں وزیر رہے۔ مخدوم جمیل الزمان بھی گزشتہ حکومت میں وزیر رہے۔ ان سب کا تجربہ بھی بہتر طرز حکمرانی کو متعارف کرانے کے کام نہیں آیا۔ در اصل یہ اراکین اور وزراءبہتر طرز حکمرانی اس چیز کو ہی سمجھتے ہیں جس کے نتیجے میں ان کے ذاتی مفادات محفوظ رہ سکتے ہوں۔ اگر یہ وزراءطرز حکمرانی سے آگاہ ہوتے تو کوئی وجہ نہیں ہوتی کہ سندھ میں محکمہ پولس میں ایسے افسران کو مقرر کی جاتا جنہیں محکمہ کی ابجد سے واقفیت نہیں تھی۔ بھلا ایف آئی اے، آفس منیجمنٹ گروپ، اینٹی نارکوٹکس فورس، نیب، خیر پور یونی ورسٹی ، محکمہ پولس کے شعبہ کمپیوٹر یا ایکسائز اینڈ ٹیکشیشن کے ملازمین کیا جانےں کہ محکمہ پولس کیوں اور کس طرح کام کرتا ہوگا۔ حد تو یہ ہے کہ پیمرا کے ملازم تک کو صوبے سندھ میں لا کر ڈی ایس پی مقرر کیا گیا۔ یہ تو بھلا ہو سپریم کورٹ کا جس کے عزت مآب جج حضرات نے 12 جون سن 13کرمنل اوریجنل پٹیشن 89 میں دئیے گئے فیصلے پر صوبائی حکومت کو مجبور کیا کہ ایسے تمام افراد کو ان کے اصل محکموں میں واپس کر دیا جائے۔ عدالت عظمی کے فیصلے پر ابھی تک مکمل عمل در آمد نہیں کیا جاسکا ہے کہ بااثر افراد اپنے من پسند افراد کو کسی نہ کسی طور پر محکمہ پولس میں رکھنے کے خواہش مند ہی ہیں۔ حکومت کے اسی رویہ سے بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کراچی یا صوبے سندھ کے دیگر شہروں میں امن و امان کی حالت کیوں بے قابو ہے۔ جب پیسہ کمانا اور بنانا ہی مطمح نظر ہو تو محکمہ پولس کیا محکمہ تعلیم، صحت، جیل، آبپاشی یا کوئی بھی محکمہ ہو وہاں کا رکردگی صفر نہیں ہوگی تو کیا ہوگا۔

دوسرے مرحلے پر کابینہ میں پھر اضافہ کیا گیا جو مختلف حلقوں کی طرف سے دباﺅ کا نتیجہ تھا۔ اویس مظفر، سید علی مردان شاہ، میکیش چاولہ، جام مہتاب ڈھر ، جام خان شورو، دوست علی راہموں، روبینہ قائم خانی، جاوید ناگوری، گیان چند وزیر مقرر ہوئے۔ بعض گزشتہ حکومت کا حصہ رہے اور بعض نئے چہرے سامنے آئے۔ اہم ترین شخص اویس مظفر عرف ٹپی سامنے آئے۔ اویس صدر پاکستان اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری کے دودھ شریک بھائی کہلاتے ہیں۔ گزشتہ حکومت میں بھی فریال تالپور کے ساتھ ساتھ ان کے بھی نام کا سکہ چلتا تھا۔ کیا مجال تھی وزیر اعلیٰ یا کسی بھی سرکاری محکمے کے افسر کی کہ ٹپی کی سفارش کو رد کر دیتے۔ یوں ہی تو ان کا تذکرہ عدالت عظمی کا رروائی کے دوران قہقہوں کا سبب نہیں بنا تھا۔ اب تو وہ خیر سے وزیر بن گئے ہیں۔ سب سے زیادہ اہمیت والے با اختیار وزیر تصور کئے جاتے ہیں ۔ یہ ان کی حیثیت کا ہی کرشمہ ہے کہ انہیں صوبہ کی سب سے زیادہ اہم وزراتیں تضویض کی گئی ہیں جہاں بھاری بجٹ موجود ہوتے ہیں اور بھرتی کا بھی کھلا اختیار ہوتا ہے۔ گزشتہ صوبائی حکومت میں 45 وزیر اور 30 مشیر ہوا کرتے تھے ۔ اٹھارویں ترمیم کے نتیجے میں محکموں کی تعداد میں بھی کمی ہو گئی ہے۔ دوسری کھیپ بھری گئی۔ محکمے تقسیم ہوئے۔ ہر وزیر کو اپنی مرضی کا محکمہ چاہئے، پھر اپنے محکمے کا سرکاری سیکریٹری بھی اپنی پسند کا ہی چاہئے، اس طرح دیگر لوازمات، مراعات بشمول بڑی اور بھاری گاڑیوں کے۔ ڈبے بھرو کارروائی کے تحت منتخب ہونے والے اکثر لوگ ایسا رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں کہ جسے دیکھنے پر کئی گھرانوں کے داماد بھی شرما جائیں گے۔ اتنے نخرے سیاست دانوں کو زیب نہیں دیتے لیکن کیا کریں یہ پیپلز پارٹی کے نمائندے ہیں جنہیں صوبہ سندھ میں خدمات انجام دینا ہیں۔ توقعات تو یہی ہیں کہ یہ وزراءاور نمائندے ماضی قریب کی حکومت کے دوران پیش آنے والی صورت حال سے اجتناب برتیں گے تاکہ لوگوں کو بہتر طرز حکومت اور حکمرانی کا اندازہ ہو سکے ۔      ٭

مزید :

کالم -