ایک خط بنام وزیراعلیٰ پنجاب

ایک خط بنام وزیراعلیٰ پنجاب
ایک خط بنام وزیراعلیٰ پنجاب

  



مظفر گڑھ کی تحصیل کوٹ ادو کے دُور افتادہ علاقے سلطان کالونی سے مولانا عبدالمجید توحیدی کا خط موصول ہوا ہے، جس میں اُن پر ہونے والے ظلم کی کہانی رقم ہے، جو من و عن شائع کیا جا رہا ہے امید ہے اعلیٰ حکام داد رَسی کے لئے مناسب اقدامات کریں گے:

گرامی قدر میاں وقاص سعد صاحب السلام علیکم ! عرصہ دراز سے روزنامہ ”پاکستان“ کا قاری ہوں۔ گزشتہ ایک عرصے سے آپ کے کالم گاہے بگاہے پڑھتا رہتا ہوں۔ بین الاقوامی سیاسی تجزیے اور پاکستانی سیاست اور قومی مسائل پر آپ قلم اٹھاتے رہتے ہیں۔ میں بنیادی طور پر ایک امام و خطیب ہوں۔ اپنے علاقے سلطان کالونی میں درس نظامی سے فراغت کے بعد دینی خدمت سرانجام دے رہا ہوں۔ مَیں ایک مسئلے کا شکار ہوں، اس کے حل کے لئے جس دروازے پر دستک دیتا ہوں بند ملتا ہے کیا پاکستان صرف جاگیردار اور سرمایہ دار کی سرزمین ہے یہاں کسی غریب کو حق نہیں مل سکتا۔ 2001ءمیں اپنی رہائش کو دیہات سے سنانواں قصبہ کو منتقل کرنے کے لئے اپنے اہل خانہ کے زیورات اور اپنے مویشی بیچ کر پلاٹ خریدا،20مرلے ملک یاسر ارسلان کھر صاحب بن محمد یوسف پرویزکھر صاحب سے رقم ادا کر کے انتقال لیا، انتقال کے بعد انہوں نے مجھے قبضہ دے دیا، آٹھ ہزار اینٹیں لگا کر بنیادیں استوار کر دیں کہ جب گنجائش ہو گی مکان تعمیر کروں گا، لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ..... 2008ءمیں ملک فتح محمد کھر ولد ملک کریم داد کھر، ان کے بیٹے غضنفر عباس کھر سابق ناظم یونین کونسل سنانواں اور ان کے بھائی ملک مدثر عباس کھر سابق امیدوار حلقہ پی پی252 مسلم لیگ (ق) کے ٹکٹ ہولڈر نے ٹریکٹر چلا کر پلاٹ پر قبضہ کر لیا اور اینٹیں بھی قبضہ میں لے لیں بندہ راقم نے معززین شہر و علاقہ کو اکٹھا کر کے ان کے ڈیرے پر منت سماجت کی، انہوں نے جواباً دھمکیاں دے کر رخصت کر دیا۔ بہرحال مقامی زمیندار ملک غلام یٰسین کھر،رئیس اعظم لسوڑی کھر برادر سابق ایم پی اے انجینئر ملک بلال احمد کھر نے بھی میرے ساتھ جا کر ان کی منت سماجت کی، لیکن انہوں نے نہ مانا بالآخر قانون کا دروازہ کھٹکھٹانے کا فیصلہ کیا۔اسسٹنٹ کمشنر کوٹ ادو کو تقسیم ونڈا کی درخواست دی درخواست گزارنے کے لئے مطلوبہ کاغذات کے حصول کے لئے ایک سال کا عرصہ لگا۔

بدنام زمانہ جاگیرداروں کے کارندے اللہ نواز خان پٹواری موضع سنانواں نے بڑا بھیانک کردار ادا کیا۔ بہرحال بڑی تگ و دو کے بعد کاغذات وصول کئے، کیس ڈگری ہو گیا۔ تمام کاغذات پرت سرکار انتقال نقل جمع بندی کھل تقسیم ونڈا ڈگری کے کاغذات بھی آپ کو بھیج رہا ہوں ان کا مطالعہ کر لیں۔ جناب میاں سعد صاحب مختصر کروں ڈگری میں واضح لکھاہے ایک ہفتے کے اندر پٹواری ،قانون گو اور تحصیلدار رپورٹ پیش کریں۔ ڈگری کی تاریخ 30-1-2012 ہے، لیکن آج جب سطور تحریری کر رہا ہوں 11-07-2013 ہے ابھی تک عمل درآمد نہیں ہوا۔ ابھی تک خالی پلاٹ پڑا ہوا تھا۔ گزشتہ دنوں ملک مدثر عباس کھرنے چار دیواری کرنے کے لئے مستری لگا دیئے۔ بندہ نے عدالتی سٹے لیا ،سٹے ہوا میں اڑا دیا۔ سٹے لے کر ایس ایچ او کے پاس گیا اس نے کہا عدالت سے میرے نام کا سٹے لے آئیں تب کارروائی کروں گا۔ حالیہ قومی الیکشن سے پہلے جو نگران حکومت بنی اللہ بھلا کرے جناب نجم سیٹھی صاحب کا سابق وزیراعلیٰ نگران پنجاب جنہوں نے جنوبی پنجاب کے پٹواریوں کا تبادلہ کیا تو اللہ نواز خان پٹواری موضع سنانواں کا تبادلہ بھی ہو گیا، ان کی جگہ ملک عا رف سلطان شجراد انہوں نے شروع میں بڑا تعاون کیا کہ ابھی چند دنوں میں رپورٹ بنا دیتا ہوں۔ اس بات کو چھ ماہ گزر چکے ہیں بس چکر لگا کر واپس آ جاتا ہوں۔ کہا جاتا ہے کہ جلد آپ کا کام ہو جائے گا لیکن تاحال ایسے ہی ٹرخایا جا رہا ہے۔

اس وقت اے سی صاحب کوٹ ادو چودھری نوید حسین ویرتھ تحصیل کوٹ ادو کے لئے بڑی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ جرا¿ت مند آدمی ہیں، کسی دباﺅ کو خاطر میں نہیں لاتے، لیکن کہتے ہیںکہ نیچے رپورٹ بنے گی تب ہی عملدرآمد ہو گا۔ گزشتہ دور حکومت میں خادم اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو درخواست دی تھی وہ کہیں فائلوں میں گم ہو گئی آج تک عمل نہیں ہوا، سوچ سوچ کر یہ ظلم کی داستان آپ کو تحریر کر رہا ہوں۔ آپ اپنے کالم میں جگہ دیں، میری بات اعلیٰ حکام تک پہنچائیں۔ خادم اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اگر تھوڑی سی توجہ دیں تو ساری زندگی احسان نہ بھلا سکوں گا۔ میاں وقاص سعد صاحب سنا ہے صحافت پاکستان کاچوتھا ستون ہے یہاں سے جو آواز لگتی ہے، ظالم کو ظلم سے روک دیتی ہے۔ جب مَیں نے یہ پلاٹ خریدا تھا اُس وقت قیمت تقریباً 118000 (ایک لاکھ18ہزار) تھی، اب اس کے قریب والی زمین 16لاکھ 80 ہزار روپے میں فروخت ہو رہی ہے ۔ مَیں اس خط کی وساطت سے وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف سے گزارش کرتا ہوں کہ میری زمین ان ظالم جاگیرداروں کے چنگل سے آزاد کروا دیں آپ کی عین نوازش ہو گی۔ آپ سے اس توقع کے ساتھ اجازت چاہتا ہوں کہ آپ اپنے کالم میں میری اس تحریر کو جگہ دیں گے۔ اگر اخبارات کی وجہ سے بس ہوسٹس سے بدتمیزی کی وجہ سے خاتون نگہت شیخ ایم پی اے معطل ہو سکتی ہے تو کیا مجھے میرا حق واپس نہیں مل سکتا۔ آپ کے کالم کی وساطت سے جناب مجیب الرحمن شامی صاحب کی خدمت میں سلام۔

(مولانا عبدالمجید توحیدی

خطیب امام جامع مسجد و مدرسہ خالد بن ولید

چوک سلطان کالونی، سنانواں روڈ ،تحصیل کوٹ ادو ،

ضلع مظفر گڑھ

0300-7488084

0333-7460191)

مزید : کالم