برطانیہ نے پاکستان میں زیر تحویل چار مطلوب افراد مانگ لئے؟

برطانیہ نے پاکستان میں زیر تحویل چار مطلوب افراد مانگ لئے؟
برطانیہ نے پاکستان میں زیر تحویل چار مطلوب افراد مانگ لئے؟

  

برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے میڈیا والوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ برطانیہ میں حکومت کا پولیس پر کوئی زور نہیں چلتا، وہاں پولیس خود مختار ہوتی ہے اس لئے وہ ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کیس اورالطاف حسین کے حوالے سے منی لانڈرنگ کی تفتیش کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ برطانوی وزیر نے یہ تو ملک کے نظام کے حوالے سے وضاحت کر دی اور یہی بات پہلے بھی کہی جا رہی تھی کہ لندن پولیس اپنا کام اپنے ملکی قوانین اور قاعدے کے مطابق کرتی ہے اور کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر کسی پر الزام بھی نہیں لگایا جاتا، یہی وجہ ہے کہ ڈھائی تین سال سے ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی تفتیش ہو رہی ہے اور ابھی تک کسی کے خلاف واضح الزام نہیں لگایا گیا، میڈیا والے درست انداز تفتیش اور مختلف اوقات میں پولیس کے چھاپے اور تلاشی کی بنیاد پر قیاس آرائیوں کو خبروں کی صورت دے دیتے ہیں تاہم ایک امر بہت واضع ہے کہ وہ یہ کہ لندن میٹرو پولیٹن پولیس ہو یا سکاٹ لینڈ یارڈ وہاں کوئی بھی درجہ کیس اس وقت تک بند نہیں ہوتا جب تک منطقی انجام کو نہ پہنچ جائے اور اب یہ معاملات آخری حد کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

یہ درست کہ ولیم ہینگ نے پریس کانفرنس میں واضح جواب دیا لیکن ساتھ ہی انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ سے ملاقات کر کے دہشت گردی اور جرائم کے حوالے سے تبادلہ خیال کے علاوہ ملزموں کے تبادلے کی بھی بات کی اور اس امر پر غور ہوا کہ دونوں ممالک کے درمیان ملزموں کے تبادلے کا معاہدہ ؟؟ جو ہونا چاہیے اس ملاقات کے حوالے سے یہ خبر بھی شائع ہوئی ہے کہ برطانوی وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ چار ملزم ایسے ہیں جو برطایہ کی ضرورت ہے اور ان کا تعلق لندن کے ہائی پروفائل کیس سے بنتا ہے اب یہ تو نہیں بتایا گیا کہ پاکستان کے وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے کیا جواب دیا تاہم اس خبر سے اس اطلاع کو تقویت ملتی ہے کہ پاکستان کے پاس زیر تحویل ایسے نوجوان ہیں جن سے میٹرو پولیٹن پولیس لندن پوچھ گچھ کرنا چاہتی ہے یقینا اس ملاقات میں کوئی فیصلہ تو نہیں ہوا لیکن یہ امر واضح ہے کہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔ اب سوال یہی ہے کہ ان مطلوب افراد کو لندن بلانے کے لیے لندن پولیس کیا طریقہ کار اختیار کرتی ہے اور حکومت پاکستان کیا جواب دیتی ہے۔ یہ بھی جلد ہی چل جائے گا اور اگر یہ زیر تحویل نوجوان حوالے دئیے گئے تو انکشاف بھی بڑا دھماکہ خیز ہو گا اس لئے اب بھی بہتر یہی ہے کہ وقت کا انتظار کیا جائے۔

جہاں تک اندرون ملک کا تعلق ہے تو یہاں ایک بڑی اہم پیش رفت ہوئی کہ موجودہ حکومت نے عدالت عظمی کی متعدد ہدایات کی روشنی میں قانون میں ترمیم کے لئے آرڈیننس تیار کیا صدر نے جس کی منظوری دے دی اور اب پولیس کے لئے لازم ہو گیا کہ ہر مقدمہ کا مکمل چالان چودہ روز کے اندر عدالت میں پیش کر دیا جائے دوسری صورت میں عدالت جرمانہ کرنے کی بھی مجاز ہو گی یہ فوجداری مقدمات میں انقلابی نوعیت کی ترمیم ہے کہ پہلے عبوری چالان پیش کر کے کئی کئی ماہ تک مکمل چالان پیش کیا جاتا تھا اور مقدمات نمٹانے میں بہت زیادہ تاخیر ہوتی تھی، پولیس بھی تساہل کا شکار رہتی تھی اب یہ سب نہیں ہو گا اور جلد فیصلہ ہو جایا کرے گا۔

عدالت عظمیٰ نے بلدیاتی نظام کے قیام اور انتخابات کے حوالے سے جو نوٹس لیا اس سے توقع اور یقین پیدا ہو گیا کہ یہ ادارے پھر سے قائم ہو جائیں گے جو قریباً 8 سال سے متعلق ہیں اور کسی بھی صوبے میں انتخابات نہیں کرائے گئے اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ جنرل (ر) پرویز مشرف نے جو ضلعی حکومتوں کا نظام نافذ کیا تھا اراکین اسمبلی اس سے نالاں تھے کہ وہ خود اپنا اثر اور عمل دخل نہیں کرنا چاہئے اسی لئے ہر صوبہ اس میں تبدیلی چاہتا ہے۔ یہ صوبائی ؟؟؟؟ اور سندھ میں تنازعہ کے اب قانون منظور کیا گیا جس کے تحت 1979ءوالا نظام بحال کیا جا رہا ہے۔ ایسا ہی پنجاب میں بھی ہو گا اور حکومت نے مسودہ قانون تیار کر کے اسمبلی سے منظور کرانے کا فیصلہ بھی کر لیا ہے۔ آثار تو یہ ہے کہ آئندہ سال مارچ تک یہ ادارے وجود میں آ جائیں گے اس راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ماسوا اس امر کے کہ متحدہ قومی موومنٹ اور پیپلزپارٹی کا سندھ میں اس نظام کے طریق کار پر اختلاف ہے تاہم حالات جس رخ جا رہے ہیں ان میں پرانا نظام ہی آئے گا۔

‚Ž– ¤¦  ¥ ƒœ’„  Ÿ¤¡ ¤Ž „‰¢¤ž ˆŽ Ÿ–ž¢‚ šŽ‹ Ÿ  ž£¥î

„‡¤¦é ˆ¢‹§Ž¤ Š‹Ÿ ‰’¤

‚Ž– ¢¤ ¢¤Ž ŠŽ‡¦ ¢ž¤Ÿ ¦¤  ¥ Ÿ¤Œ¤ ¢ž¢¡ œ¥ ’¢ž œ ‡¢‚ ‹¤„¥ ¦¢£¥ ¢•‰ œ¤ œ¦ ‚Ž– ¤¦ Ÿ¤¡ ‰œ¢Ÿ„ œ ƒ¢ž¤’ ƒŽ œ¢£¤ ¢Ž  ¦¤¡ ˆž„í ¢¦¡ ƒ¢ž¤’ Š¢‹ ŸŠ„Ž ¦¢„¤ ¦¥ ’ ž£¥ ¢¦ Œœ…Ž ˜ŸŽ  šŽ¢› œ¥ ›„ž œ¤’ ¢Žž–š ‰’¤  œ¥ ‰¢ž¥ ’¥ Ÿ ¤ ž ŒŽ  œ¤ „š„¤“ œ¥ ‚Ž¥ Ÿ¤¡ œˆ§  ¦¤¡ œ¦¦ ’œ„¥ó ‚Ž– ¢¤ ¢¤Ž  ¥ ¤¦ „¢ Ÿžœ œ¥  —Ÿ œ¥ ‰¢ž¥ ’¥ ¢•‰„ œŽ ‹¤ ¢Ž ¤¦¤ ‚„ ƒ¦ž¥ ‚§¤ œ¦¤ ‡ Ž¦¤ „§¤ œ¦ ž ‹  ƒ¢ž¤’ ƒ  œŸ ƒ ¥ Ÿžœ¤ ›¢ ¤  ¢Ž ›˜‹¥ œ¥ Ÿ–‚› œŽ„¤ ¦¥ ¢Ž œ’¤ …§¢’ †‚¢„ œ¥ ‚™¤Ž œ’¤ ƒŽ žŸ ‚§¤  ¦¤¡ ž¤ ‡„í ¤¦¤ ¢‡¦ ¦¥ œ¦ Œ§£¤ „¤  ’ž ’¥ Œœ…Ž ˜ŸŽ  šŽ¢› œ¥ ›„ž œ¤ „š„¤“ ¦¢ Ž¦¤ ¦¥ ¢Ž ‚§¤ „œ œ’¤ œ¥ Šžš ¢•‰ žŸ  ¦¤¡ ž¤ ¤í Ÿ¤Œ¤ ¢ž¥ ‹Ž’„  ‹ „š„¤“ ¢Ž ŸŠ„žš ¢›„ Ÿ¤¡ ƒ¢ž¤’ œ¥ ˆ§ƒ¥ ¢Ž „ž“¤ œ¤ ‚ ¤‹ ƒŽ ›¤’ ³Ž£¤¢¡ œ¢ Š‚Ž¢¡ œ¤ ”¢Ž„ ‹¥ ‹¤„¥ ¦¤¡ „¦Ÿ ¤œ ŸŽ ‚¦„ ¢•˜ ¦¥ œ¦ ¢¦ ¤¦ œ¦ ž ‹  Ÿ¤…Ž¢ ƒ¢ž¤…  ƒ¢ž¤’ ¦¢ ¤ ’œ… ž¤ Œ ¤ŽŒ ¢¦¡ œ¢£¤ ‚§¤ ‹Ž‡¦ œ¤’ ’ ¢›„ „œ ‚ ‹  ¦¤¡ ¦¢„ ‡‚ „œ Ÿ –›¤  ‡Ÿ œ¢  ¦ ƒ¦ ˆ ‡£¥ ¢Ž ‚ ¤¦ Ÿ˜Ÿž„ ³ŠŽ¤ ‰‹ œ¤ –Žš ‚§ Ž¦¥ ¦¤¡ó

¤¦ ‹Ž’„ œ¦ ¢ž¤Ÿ ¦¤   ¥ ƒŽ¤’ œ šŽ ’ Ÿ¤¡ ¢•‰ ‡¢‚ ‹¤ ž¤œ  ’„§ ¦¤  ¦¢¡  ¥ ¢š›¤ ¢¤Ž ‹Šž¦ ’¥ Ÿž›„ œŽ œ¥ ‹¦“„ Ž‹¤ ¢Ž ‡Ž£Ÿ œ¥ ‰¢ž¥ ’¥ „‚‹ž¦ Š¤ž œ¥ ˜ž¢¦ ŸžŸ¢¡ œ¥ „‚‹ž¥ œ¤ ‚§¤ ‚„ œ¤ ¢Ž ’ ŸŽ ƒŽ ™¢Ž ¦¢ œ¦ ‹¢ ¢¡ ŸŸžœ œ¥ ‹ŽŸ¤  ŸžŸ¢¡ œ¥ „‚‹ž¥ œ Ÿ˜¦‹¦ îî ‡¢ ¦¢  ˆ¦¤¥ ’ Ÿž›„ œ¥ ‰¢ž¥ ’¥ ¤¦ Š‚Ž ‚§¤ “£˜ ¦¢£¤ ¦¥ œ¦ ‚Ž– ¢¤ ¢¤ŽŠŽ‡¦  ¥ œ¦ ¦¥ œ¦ ˆŽ ŸžŸ ¤’¥ ¦¤¡ ‡¢ ‚Ž–¤¦ œ¤ •Ž¢Ž„ ¦¥ ¢Ž   œ „˜ž› ž ‹  œ¥ ¦£¤ ƒŽ¢š£ž œ¤’ ’¥ ‚ „ ¦¥ ‚ ¤¦ „¢  ¦¤¡ ‚„¤ ¤ œ¦ ƒœ’„  œ¥ ¢¤Ž‹Šž¦ ˆ¢‹§Ž¤  †Ž ˜ž¤ Š   ¥ œ¤ ‡¢‚ ‹¤ „¦Ÿ ’ Š‚Ž ’¥ ’ –ž˜ œ¢ „›¢¤„ Ÿž„¤ ¦¥ œ¦ ƒœ’„  œ¥ ƒ’ ¤Ž „‰¢¤ž ¤’¥  ¢‡¢  ¦¤¡ ‡  ’¥ Ÿ¤…Ž¢ ƒ¢ž¤…  ƒ¢ž¤’ ž ‹  ƒ¢ˆ§ ˆ§ œŽ  ˆ¦„¤ ¦¥ ¤›¤  ’ Ÿž›„ Ÿ¤¡ œ¢£¤ š¤”ž¦ „¢  ¦¤¡ ¦¢ ž¤œ  ¤¦ ŸŽ ¢•‰ ¦¥ œ¦ œˆ§ „¢ ¦¥ ‡’ œ¤ ƒŽ‹¦ ‹Ž¤ ¦¥ó ‚ ’¢ž ¤¦¤ ¦¥ œ¦   Ÿ–ž¢‚ šŽ‹ œ¢ ž ‹  ‚ž ¥ œ¥ ž¤¥ ž ‹  ƒ¢ž¤’ œ¤ –Ž¤›¦ œŽ Š„¤Ž œŽ„¤ ¦¥ ¢Ž ‰œ¢Ÿ„ ƒœ’„  œ¤ ‡¢‚ ‹¤„¤ ¦¥ó ¤¦ ‚§¤ ‡ž‹ ¦¤ ˆž ‡£¥  ¢Ž Ž ¤¦ ¤Ž „‰¢¤ž  ¢‡¢  ‰¢ž¥ ‹£¤¥ £¥ „¢  œ“š ‚§¤ ‚ ‹§Ÿœ¦ Š¤ ¦¢  ’ ž£¥ ‚ ‚§¤ ‚¦„Ž ¤¦¤ ¦¥ œ¦ ¢›„ œ  „—Ž œ¤ ‡£¥ó

‡¦¡ „œ  ‹Ž¢  Ÿžœ œ „˜ž› ¦¥ „¢ ¤¦¡ ¤œ ‚¤ ¦Ÿ ƒ¤“ Žš„ ¦¢£¤ œ¦ Ÿ¢‡¢‹¦ ‰œ¢Ÿ„  ¥ ˜‹ž„ ˜—Ÿ¤ œ¤ Ÿ„˜‹‹ ¦‹¤„ œ¤ Ž¢“ ¤ Ÿ¤¡ › ¢  Ÿ¤¡ „ŽŸ¤Ÿ œ¥ ž£¥ ³ŽŒ¤  ’ „¤Ž œ¤ ”‹Ž  ¥ ‡’ œ¤ Ÿ —¢Ž¤ ‹¥ ‹¤ ¢Ž ‚ ƒ¢ž¤’ œ¥ ž£¥ žŸ ¦¢ ¤ œ¦ ¦Ž Ÿ›‹Ÿ¦ œ ŸœŸž ˆž  ˆ¢‹¦ Ž¢ œ¥  ‹Ž ˜‹ž„ Ÿ¤¡ ƒ¤“ œŽ ‹¤ ‡£¥ ‹¢’Ž¤ ”¢Ž„ Ÿ¤¡ ˜‹ž„ ‡ŽŸ ¦ œŽ ¥ œ¤ ‚§¤ Ÿ‡ ¦¢ ¤ ¤¦ š¢‡‹Ž¤ Ÿ›‹Ÿ„ Ÿ¤¡  ›ž‚¤  ¢˜¤„ œ¤ „ŽŸ¤Ÿ ¦¥ œ¦ ƒ¦ž¥ ˜‚¢Ž¤ ˆž  ƒ¤“ œŽ œ¥ œ£¤ œ£¤ Ÿ¦ „œ ŸœŸž ˆž  ƒ¤“ œ¤ ‡„ „§ ¢Ž Ÿ›‹Ÿ„  Ÿ… ¥ Ÿ¤¡ ‚¦„ ¤‹¦ „Š¤Ž ¦¢„¤ „§¤í ƒ¢ž¤’ ‚§¤ „’¦ž œ “œŽ Ž¦„¤ „§¤ ‚ ¤¦ ’‚  ¦¤¡ ¦¢  ¢Ž ‡ž‹ š¤”ž¦ ¦¢ ‡¤ œŽ¥ ó

˜‹ž„ ˜—Ÿ¤½  ¥ ‚ž‹¤„¤  —Ÿ œ¥ ›¤Ÿ ¢Ž  „Š‚„ œ¥ ‰¢ž¥ ’¥ ‡¢  ¢…’ ž¤ ’ ’¥ „¢›˜ ¢Ž ¤›¤  ƒ¤‹ ¦¢ ¤ œ¦ ¤¦ ‹Ž¥ ƒ§Ž ’¥ ›£Ÿ ¦¢ ‡£¤¡ ¥ ‡¢ ›Ž¤‚Ç 8 ’ž ’¥ Ÿ„˜ž› ¦¤¡ ¢Ž œ’¤ ‚§¤ ”¢‚¥ Ÿ¤¡  „Š‚„  ¦¤¡ œŽ£¥ £¥ ’ œ¤ ‚ ¤‹¤ ¢‡¦ ¤¦ „§¤ œ¦ ‡ Žž âŽá ƒŽ¢¤ Ÿ“Žš  ¥ ‡¢ •ž˜¤ ‰œ¢Ÿ„¢¡ œ  —Ÿ  š œ¤ „§ Žœ¤  ’Ÿ‚ž¤ ’ ’¥  ž¡ „§¥ œ¦ ¢¦ Š¢‹ ƒ  †Ž ¢Ž ˜Ÿž ‹Šž  ¦¤¡ œŽ  ˆ¦£¥ ’¤ ž£¥ ¦Ž ”¢‚¦ ’ Ÿ¤¡ „‚‹¤ž¤ ˆ¦„ ¦¥ó ¤¦ ”¢‚£¤ îîîî ¢Ž ’ ‹§ Ÿ¤¡ „ ˜¦ œ¥ ‚ › ¢  Ÿ —¢Ž œ¤ ¤ ‡’ œ¥ „‰„ 1979£ ¢ž  —Ÿ ‚‰ž œ¤ ‡ Ž¦ ¦¥ó ¤’ ¦¤ ƒ ‡‚ Ÿ¤¡ ‚§¤ ¦¢  ¢Ž ‰œ¢Ÿ„  ¥ Ÿ’¢‹¦ › ¢  „¤Ž œŽ œ¥ ’Ÿ‚ž¤ ’¥ Ÿ —¢Ž œŽ ¥ œ š¤”ž¦ ‚§¤ œŽ ž¤ ¦¥ó ³†Ž „¢ ¤¦ ¦¥ œ¦ ³£ ‹¦ ’ž ŸŽˆ „œ ¤¦ ‹Ž¥ ¢‡¢‹ Ÿ¤¡ ³ ‡£¤¡ ¥ ’ Ž¦ Ÿ¤¡ œ¢£¤ Žœ¢…  ¦¤¡ Ÿ’¢ ’ ŸŽ œ¥ œ¦ Ÿ„‰‹¦ ›¢Ÿ¤ Ÿ¢¢Ÿ … ¢Ž ƒ¤ƒžƒŽ…¤ œ ’ ‹§ Ÿ¤¡ ’  —Ÿ œ¥ –Ž¤› œŽ ƒŽ Š„žš ¦¥ „¦Ÿ ‰ž„ ‡’ ŽŠ ‡ Ž¦¥ ¦¤¡   Ÿ¤¡ ƒŽ   —Ÿ ¦¤ ³£¥ ó

„‡¤¦ Š‹Ÿ ‰’¤

مزید :

تجزیہ -