مسلم حکمران خاموش کیوں ہیں؟

مسلم حکمران خاموش کیوں ہیں؟
مسلم حکمران خاموش کیوں ہیں؟
کیپشن: pic

  

فلسطینی عوام ایک بار پھر صہیونی جارحیت کی زد میں ہیں، غزہ میں اسرائیل کی فضائی اور زمینی کارروائیوں نے سینکڑوں فلسطینیوں کو خون میں نہلا دیا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اسرائیل غزہ کے غیور اور مظلوم فلسطینی مسلمانوں کی آزادی اور تشخص کو مکمل طور پر پامال کر دینے پر تُل گیا ہے اور اسے حسب سابق مغربی قوتوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ فلسطینی عوام کا واحد قصور یہ ہے کہ وہ فلسطین کے باشندے ہیں۔ وہ اپنے اس حق سے دستبردار ہونے کے لئے کسی صورت تیار نہیں اور اس کے لئے مسلسل قربانیاں دیتے چلے جا رہے ہیں۔ اب سے ایک صدی قبل برطانوی وزیر خارجہ بالفور نے فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن تسلیم کرتے ہوئے انہیں دنیا بھر سے وہاں لا کر بسانے اور ان کی ریاست قائم کرانے کا جو معاہدہ کیا تھا، برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک نے ہر قسم کی انسانی، اخلاقی اور سیاسی حدود کو پاﺅں تلے روندتے ہوئے اسے نہ صرف پورا کیا ، بلکہ وہ اس کی مکمل پاسداری کر رہے ہیں، حتیٰ کہ اقوام متحدہ نے فلسطین کو تقسیم کر کے فلسطین کو الگ اور آزاد وطن دینے کا جو وعدہ کر رکھا ہے، اقوام متحدہ کے اصولوں اور بین الاقوامی معاہدات کی دنیا بھر میں دہائی دینے والے مغربی ممالک کو اس کا بھی کوئی پاس نہیں ہے۔

پہلی جنگ عظیم کے بعد مشرق وسطیٰ میں ہونے والی بندر بانٹ میں برطانیہ نے فلسطین کی عملداری سنبھالی۔ اس کا مقصد ”بالفور معاہدے“ کو پورا کرنا تھا ۔برطانیہ اس وقت تک وہاں موجود اور سرگرم عمل رہا، جب تک فلسطین کے ایک بڑے حصے میں دنیا بھر کے یہودیوں کو لا کر بسانے اور فلسطین کی تقسیم کی راہ ہموار کرنے کا ٹارگٹ حاصل نہیں ہو گیا اور جب اقوام متحدہ کے ذریعے تقسیم فلسطین کا فیصلہ کرانے کے بعد اسرائیل کے نام سے یہودیوں کی آزاد ریاست قائم ہوگئی تو برطانیہ وہاں سے رخصت ہوگیا۔ پھر اسرائیل کی عملی سرپرستی عالمی فورم پر برطانیہ کے جانشین امریکہ نے سنبھال لی، جس میں یورپی یونین اور روس بھی برابر کے شریک چلے آرہے ہیں۔

اقوام متحدہ نے فلسطین کو تقسیم کر کے فلسطین اور اسرائیل کے نام سے دو آزاد ریاستیں قائم کی تھیں اور ان کی سرحدوں کا تعین بھی کر دیا تھا۔ اگرچہ اس حوالے سے مسلم ممالک میں دو الگ الگ موقف پائے جاتے ہیں۔ سعودی عرب اور پاکستان سمیت بہت سے ممالک نے اس تقسیم کو تسلیم نہیں کیا اور وہ اسرائیل کو ایک جائز ریاست کے طور پر قبول نہیں کر رہے، جبکہ مصر، اردن اور بعض دیگر مسلم ممالک نے اس تقسیم کو تسلیم کر رکھا ہے اور اسرائیل کو ایک قانونی ریاست کا درجہ دیا ہوا ہے، خود فلسطینیوں میں الفتح اور حماس کے موقف اس سلسلے میں الگ الگ ہیں۔ فلسطین کی تقسیم کو بالفرض تسلیم کرتے ہوئے بھی اقوام متحدہ کے فیصلے کے مطابق،جس آزاد فلسطین ریاست کو قائم ہونا چاہئے تھا، اس کا دنیا کے نقشے پر کوئی وجود نہیں ہے اور میونسپلٹی طرز کی فلسطینی اتھارٹی قائم کر کے فلسطینیوں کو ان کی اپنی حکومت کے لالی پاپ پر بہلانے کی فریب کاری تسلسل کے ساتھ جاری ہے، جبکہ اسرائیل نے اقوام متحدہ کی مقرر کردہ بین لااقوامی سرحدوں کو پامال کر کے، جن علاقوں پر گزشتہ نصف صدی سے قبضہ کر رکھا ہے، ان میں بیت المقدس بھی شامل ہے۔ انہیں اسرائیل سے واگزار کرانے میں کوئی بھی سنجیدہ نہیں ہے۔

جو لوگ اسرائیل کو ایک جائز ریاست تسلیم نہیں کرتے اور فلسطین کی تقسیم کے فیصلے کو منصفانہ نہیں سمجھتے، ہم بھی ان میں شامل ہیں، لیکن اسے ایک طرف رکھتے ہوئے خود تقسیم فلسطین کے اس بین الاقوامی فیصلے کے دو بنیادی تقاضے ہیں۔ ایک یہ کہ فلسطینیوں کی آزاد اور خود مختار ریاست تسلیم کی جائے،جو کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت اور نگرانی سے پاک ہو۔ دوسرا یہ کہ اقوام متحدہ کی مقرر کردہ سرحدوں کو پامال کر کے اسرائیل نے جن علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے ،انہیں اس سے واگزار کرایا جائے۔ عراق نے بین الاقوامی سرحدوں کی خلاف ورزی کر کے کویت پر قبضہ کیا تھا تو ہر طرف ہاہاکار مچ گئی تھی اور امریکہ نے اقوام متحدہ کی چھتری تلے فوجی کارروائی کر کے کویت کی خود مختاری کو بین الاقوامی سرحدوں کے تقدس کے نام پر بحال کرا دیا تھا، لیکن اسرائیل نے دن دہاڑے بیت المقدس پر ناجائز قبضہ کیا، مصر، شام اور اردن کی مسلمہ سرحدوں کو روند ڈالا، مگر اقوام متحدہ خود بھی اور اسے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے والے مغربی ممالک بھی نصف صدی سے منقار زیر پر ہیں۔

فلسطینی اتھارٹی کی بجائے آزاد فلسطین کا قیام اور اسرائیل کی بین الاقوامی سرحدوں کی طرف واپسی اصولی طور پر طے شدہ باتیں ہیں ،جس قدر بھی تاویلات کر لی جائیں ۔ان دو اصولی باتوں سے کوئی باشعور شخص اختلاف نہیں کر سکتا۔ سوال یہ ہے کہ دنیا بھر میں اپنی چودھراہٹ کا ڈھنڈورا پیٹنے والے مغربی ممالک فلسطینیوں اور عرب ممالک کے اس جائز حق کی بحالی کے لئے سنجیدگی کیوں اختیار نہیں کر رہے اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے لاکھوں فلسطینی مہاجرین اور فلسطین کے اندر اسرائیل کی بار بار جارحیت کا نشانہ بننے والے مظلوم فلسطینی انہیں دکھائی کیوں نہیں دے رہے؟ ....مگر اس سے زیادہ ستم ظریفی کا منظر یہ ہے کہ عالم اسلام اور عرب ممالک میں بھی اس حوالے سے کوئی سنجیدگی دکھائی نہیں دے رہی۔ یوں لگتا ہے جیسے عالم عرب اور مسلم اُمہ نے بھی فلسطینیوں کو حالات، بلکہ اسرائیل کے رحم و کرم پر چھوڑ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ مسلم حکومتوں کو اپنی داخلی حدود میں شدت پسندی اور بغاوت تو دکھائی دیتی ہے اور اسے کچلنے کے لئے وہ اپنی پوری قوت صرف کر رہی ہیں، لیکن اس شدت پسندی اور بغاوت کا باعث بننے والی بین الاقوامی دہشت گردی اور اسرائیلی جارحیت ان کو دکھائی نہیں دیتی اور انہوں نے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر رکھی ہیں، حالانکہ اگر مسلم ممالک متفق ہو کر اسرائیل، کشمیر، اراکان اور اس جیسے دیگر سلگتے ہوئے مسائل پر جرا¿ت مندانہ موقف اور کردار اختیار کرنے کا حوصلہ کر لیں، تو یہ داخلی شدت پسندی اور بغاوت خود ان مسلم ممالک کی اپنی قوت کا رخ بھی اختیار کر سکتی ہے۔

اس مرحلے پر مسلم حکمرانوں کو ایک بار پھر غور کی دعوت دینا چاہتا ہوں کہ تھوڑی دیر کے لئے ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ سوچیں کہ مسلم دنیا کے کسی حصے میں ”خلافت“ کا نعرہ اُبھرتا ہے، تو دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کی آنکھوں میں چمک کیوں آجاتی ہے اور ان کے دلوں کی دھڑکن کیوں تیز ہو جاتی ہے؟ دراصل مسلم اُمہ خلافت کے اس کردار کو زندہ ریکھنا چاہتی ہے کہ سندھ میں راجہ داہر کی قید میں ایک مسلم خاتون اپنی بے بسی پر فریاد کرتی ہے، تو عراق میں خلیفہ ¿ وقت کا مقرر کردہ گورنر حجاج بن یوسف اس کی مدد کے لئے بے چین ہو جاتا ہے، اور اپنے بھتیجے محمد بن قاسمؒ کی کمان میں فوج روانہ کر دیتا ہے۔ یہ کردار امت مسلمہ کی ضرورت اور وقت کا تقاضہ ہے۔ اگر مسلم حکمرانوں میں یہ کردار اختیار کرنے کی سوچ اور حوصلہ موجود ہے اور وہ اسے روبہ عمل لانے کی کوئی صورت نکال سکتے ہیں، تو شاید حالات کچھ سنبھل جائیں، ورنہ انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ خلاءاور حبس زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتے اور حبس جس قدر شدید ہو، اس کی طرف بڑھنے والی آندھیوں کی رفتار بھی اسی حساب سے تیز ہوا کرتی ہے۔ ٭

مزید :

کالم -