چین نے 50 کھرب کا ایسا منصوبہ لگانے کا فیصلہ کرلیا کہ پاکستان کو سرے سے بجلی پیدا کرنے کی ضرورت ہی نہ رہے گی، عقل کو چکرا دینے والی تفصیلات منظر عام پر آگئیں

چین نے 50 کھرب کا ایسا منصوبہ لگانے کا فیصلہ کرلیا کہ پاکستان کو سرے سے بجلی ...
چین نے 50 کھرب کا ایسا منصوبہ لگانے کا فیصلہ کرلیا کہ پاکستان کو سرے سے بجلی پیدا کرنے کی ضرورت ہی نہ رہے گی، عقل کو چکرا دینے والی تفصیلات منظر عام پر آگئیں

  

بیجنگ (نیوز ڈیسک) لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی آس لگائے بیٹھے پاکستانی عوام کو ان کے اپنے حکمران تو شاید کبھی اس عذاب سے نجات نہ دلا سکیں گے، مگر دوست ملک چین نے ایک ایسے حیرت انگیز منصوبے پر کام شروع کردیاہے کہ جو صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر سے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کردے گا۔

ویب سائٹ Shanghaiist کی رپورٹ کے مطابق چین نے متبادل ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کے عالمی منصوبے پر کام شروع کردیاہے جو اتنی بجلی پیدا کرے گا ساری دنیا بھی دل کھول کر استعمال کرے تو اس میں کوئی کمی نہ ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق چین اس منصوبے پر 50 کھرب ڈالر (تقریباً 5ہزار کھرب پاکستانی روپے) خرچ کرے گا اور اس کا پھیلاﺅ قطب جنوبی سے لے کر خط استوا تک ہوگا۔ منصوبے کے تحت قطب جنوبی پر تیز ہواﺅں سے بجلی پیدا کرنے کے لئے پون چکیاں لگائی جائیں گی جبکہ خط استوا پر شمسی توانائی سے بجلی پیدا کی جائے گی۔ چین ان تمام منصوبوں کو آپس میں لنک کردے گا تاکہ پوری دنیا کو بجلی کی فراہمی کی جاسکے۔

گلوبل انرجی انٹرکنیکشن (GEI) نامی یہ پراجیکٹ پہلی بار گزشتہ سال سٹیٹ گرڈ کمپنی آف چائنہ کی جانب سے متعارف کروایا گیا۔ ورلڈ اکنامک فورم کے مطابق یہ منصوبہ مختلف خطوں میں واقع توانائی گرڈ کو ہی آپس میں نہیں جوڑے گا بلکہ حقیقتاً اتنی بجلی پیدا کرے گا جو پوری دنیا کے استعمال کے لئے کافی ہوگی۔ یہ منصوبہ ملکی سرحدوں سے ماورا ہوگا اور پوری دنیا کو وافر مقدار میں صاف ستھری توانائی فراہم کرے گا۔

بجلی کے عالمی پراجیکٹ کے پہلے مرحلے میں 2020ءتک مختلف ممالک میں سمارٹ گرڈ تعمیر کئے جائیںگے۔ سال 2030ءتک مختلف ممالک میں واقع ان گرڈز کو آپس میں جوڑ دیا جائے گا۔ آخری مرحلے میں 2050ءتک قطب جنوبی اور خط استوار پر پیدا ہونے والی بجلی کو عالمی گرڈ سے جوڑ دیا جائے گا، جس کے نتیجے میں ہوا اور سورج کی توانائی سے پیدا ہونے والی بجلی دنیا کے ہر کونے میں وافر مقدار میں دستیاب ہو جائے گی۔

مزید : بین الاقوامی