پنجاب سیڈ کونسل نے مختلف فصلوں کی 24نئی اقسام کی منظوری دیدی

پنجاب سیڈ کونسل نے مختلف فصلوں کی 24نئی اقسام کی منظوری دیدی

لاہور ( این این آئی) زراعت ہاؤس لاہور میں منعقدہ پنجاب سیڈ کونسل کے 47ویں اجلاس میں مختلف فصلوں کی 24نئی اقسام کی منظوری دی گئی جن میں گندم کی 7،کپاس کی ایک نان بی ٹی، دھان کی 3 ،کمادکی ایک، مکئی کی ایک ، چنے کی 2، تل کی ایک ، سرسوں کی ایک ،رایا کی ایک ،ٹماٹر کی 3، آلو کی 2اور کریلے کی ایک قسم شامل ہے۔ اجلاس کی صدارت وزیر زراعت پنجاب ڈاکٹر فرخ جاوید نے کی جس میں سپیشل سیکرٹری زراعت (مارکیٹنگ)ڈاکٹر فرح ، ایڈیشنل سیکرٹری زراعت (پلاننگ)ڈاکٹر غضنفر علی خان ، ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر وسیکرٹری پنجاب سیڈ کونسل ناصر سلیم،ڈائریکٹر جنرل زراعت (ریسرچ) پنجاب ڈاکٹر عابد محمود، ڈائریکٹر جنرل زراعت (توسیع و اڈاپٹیو ریسرچ) ڈاکٹر انجم علی ،کاٹن کمشنر (منسٹری آف ٹیکسٹائل انڈسٹری)ڈاکٹر خالد عبداﷲ، ریجنل ڈائریکٹر پنجاب (فیڈرل سیڈ سرٹیفیکیشن اینڈ رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ )مسعود قمر قریشی اور ڈائریکٹر ایگری کلچرل انفارمیشن پنجاب محمد رفیق اختر کے علاوہ زرعی سائنسدانوں اور ترقی پسند کاشتکاروں نے شرکت کی۔ گندم کی نئی منظورہونے والی اقسام میں نیشنل ایگریکلچر ل ریسرچ کونسل اسلام آ باد کے زرعی سائنسدانوں کی زنک اور آئرن کی حامل ہائی جینک قسم زنکول گندمNR-421 اور NR-399بھی شامل ہیں۔وزیر زراعت پنجاب نے زرعی سائنسدانوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ سائنسدانوں نے اپنی شب و روز کی کاوشوں سے موسمی تبدیلیوں کے اثرات سے زراعت کو محفوظ بنانے اور زرعی خودکفالت کے حصول کے لیے زیادہ درجہ حرارت برداشت کرنے کے علاوہ کم پانی اور بیماریوں کے خلاف مدافعت رکھنے والی مختلف فصلوں کی نئی اقسام متعارف کروائی ہیں جن کی کاشت سے کاشتکاروں کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہوگا۔

انہوں کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کے 100 ارب روپے کے زرعی پیکیج کے تحت کپاس کی زیادہ پیداواری صلاحیت کی حامل نئی اقسام متعارف کرائی جائیں گی۔بیجوں کی صنعت کی ترقی اور کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کے لیے متعدد اقدامات کیے جارہے ہیں ۔مارکیٹ میں کپاس کی اگیتی فصل آنا شروع ہو گئی ہے اور کاشتکاروں کو 3000/- روپے فی من سے زائد ریٹ ملنا خوش آئند بات ہے ۔ صوبائی وزیر زراعت ڈاکٹر فرخ جاوید نے اس موقع پر زرعی سائنسدانوں پر زور دیا کہ وہ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کے زرعی انقلاب اور ملکی معیشت کے استحکام کے خواب کو پورا کرنے کے لیے مزید تندہی سے ریسرچ کریں۔ انہوں نے کہا کہ سائنسدانوں کی ریسرچ کا اصل فائدہ اسی صورت میں ہے جب تحقیق کا ثمر کھیت میں کام کرنے والے محنت کش تک براہ راست پہنچے۔ وزیر زراعت نے کہا کہ بدلتے موسمی حالات کے پیش نظر زراعت کا جدید خطوط پر استوارکرنا وقت کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ شدید موسمی تغیر سے نبرد آزما ہونے والے طاقتور بیج ہی ہماری زرعی خودکفالت کی ضمانت ہوں گے۔

مزید : کامرس