مارشل لا کے زیر سایہ فوجی حکومت کو جمہوری معاشرے تسلیم نہیں کرتے ، عبدالباسط

مارشل لا کے زیر سایہ فوجی حکومت کو جمہوری معاشرے تسلیم نہیں کرتے ، عبدالباسط

لاہور (کامرس رپورٹر)مارشل لا کے زیر سایہ فوجی حکومت کو دنیا کے جمہوری معاشرے تسلیم نہیں کرتے ۔ ملک خارجہ سرمایہ کاری سے محروم اور اس کی کاروباری سرگرمیاں محدود و مسدود ہو جاتی ہیں . اس لیے ووٹ کی طاقت سے مایوس سیاست دان فوج کو دعوت دینے اور مٹھائیاں تقسیم کرنے کے اعلانات کی بجائے موجودہ جمہوری حکومت کے ترقیاتی اور عوامی فلاح کے پروگراموں میں مدد گار بنیں . چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبوں اور گوادر بندرگاہ کو ناکام بنانے کی سازشوں کو اپنے اتحاد و اتفاق کی طاقت سے بے نقاب کریں اور ناکام بنائیں . لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق سینئر نائب صدر اور پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین عبدالباسط نے کہا ہے کہ ترکی مدتوں عملی طور پر فوج کے کنٹرول میں رہا جس کی وجہ سے ترکی کی معیشت بری طرح تنزل پذیر ہو چکی تھی . روزگار کے مواقع ناپید اور کاروباری سرگرمیاں محدود ترین ہوچکی تھیں . عبدالباسط نے کہا ہے عوامی خدمت کی بنیاد پر ترکی میں جمہوری حکومت وجود پذیر ہوئی . انہوں نے کہا ہے کہ جمہوری حکومتوں کی تسلسل سے ترکی دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں شامل ہو چکا ہے . بین الاقوامی طور پر ترکی کے حکمرانوں کی بات کو غور سے سنا جاتا ہے . عبدالباسط نے کہا ہے کہ ترکی میں باغی فوجی ٹولہ نے تختہ الٹنے کی کوشش کی تو عوام اور حکومت سے باہر سیاسی عناصر نے بغاوت کو ناکام بنانے کے لیے حکومت کا بھرپور ساتھ دیا ۔

.عبدالباسط نے کہا ہے کہ بانی پاکستان قایداعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ نے فوج کے ذریعے نہیں بلکہ عوامی طاقت اور بے شمار جانی و مالی قربانیوں کے ذریعہ ملک حاصل کیا جس کے بعد بعض ناہنجار حکمران گاہے گاہے فوج کو دعوت دیتے رہے جس کی وجہ سے پاکستان معاشی ترقی میں ہمسایہ ملکوں کی نسبت کافی پیچھے رہ گیا عبدالباسط نے کہا ہے کہ پاکستان کی موجودہ منتخب حکومت عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں , سرمایہ کاری لانے اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا احترام و وقار بلند کرنے کے لیے بھرپور جد و جہد کر رہی ہے . آج ملک کا کاروباری طبقہ سمیت تمام لوگ تسلیم کرتے ہیں کہ سابقہ حکومتوں کی نسبت پاکستان میں حالات کافی بہتری کی طرف پیش رفت کر رہے ہیں صنعتوں کے لیے لوڈ شیڈنگ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے .چین سے46 ارب ڈالرکی گرانقدر سرمایہ کاری سے سی پیک منصوبوں پر کام شروع ہے . گوادر کی بندرگاہ اپریشنل ہونے سے روزگار کے لا تعداد مواقع پیدا ہونے جا رہے ہیں .2017کے آخر تک بجلی پیدا کرنے کے متعدد منصوبے مکمل ہو جائیں گے . اس لیے عبدالباسط نے سیاست دانوں پر زور دیا ہے کہ فو جی حکومت کو دعوت دینے اورمٹھائیاں تقسیم کرنے کے ناتمام عزائم کو سر دست اپنی ناکامیوں کی پٹاری میں لپیٹ رکھیں اور عوام پر بھروسہ کریں .ملک و قوم کی ترقی کے منصوبوں کو مکمل کرانے میں حکومت کا ساتھ دیں .

مزید : کامرس