درآمدی کپاس اور یارن پر ہر قسم کی ڈیوٹیاں فوری ختم کی جائیں:فیصل آباد چیمبر

درآمدی کپاس اور یارن پر ہر قسم کی ڈیوٹیاں فوری ختم کی جائیں:فیصل آباد چیمبر

فیصل آباد (بیورورپورٹ)کپاس کی پیداوار میں کمی کے پیش نظردرآمدی کپاس اور یارن پر ہر قسم کی ڈیوٹیاں فوری ختم کی جائیں۔ یہ بات فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر سید ضیاء علمدار حسین نے چین کے دورے سے واپسی پر بتائی۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ برس پاکستان میں 2961ہزار ہیکٹر پر کپاس کی کاشت سے 13960 ہزار گانٹھیں حاصل ہوئیں اس کے برعکس2015-16 کے دوران 2917 ہزار ہیکٹر رقبہ پر کاشت سے کپاس کی صرف 10,075 ہزار گانٹھیں پیدا ہوئیں۔ اس واضح کمی کی وجہ سے کپاس کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے جس کی وجہ سے ٹیکسٹائل کی پیداواری لاگت مزید بڑھ گئی ہے جبکہ پاکستانی برآمدکنندگان کیلئے بین الاقوامی منڈیوں میں حریف تجارتی ممالک کا مقابلہ کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ کی طرف سے یورپین یونین کو چھوڑنے سے پاکستان کو ملنے والی جی ایس پی پلس کے فوائدعملی طور ختم ہو جائیں گے

انہوں نے بتایا کہ اس وقت برطانیہ کو پاکستانی برآمدات 1.6 ارب ڈالر ہیں جبکہ برطانیہ میں مقیم پاکستانی بھی ہر سال تقریباً1.8 ارب ڈالرکی ترسیلات پاکستان بھیجتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یورپین یونین کی برطانیہ سے علیحدگی کے بعد پونڈ میں کمی سے " ویلیو" کے حساب سے پاکستانی برآمدات اور غیر ملکی ترسیلات میں بھی اسی حساب سے کمی ہوگی جس کی وجہ سے ملکی زر مبادلہ کے ذخائر پر منفی اثرات مرتب ہونگے۔ سید ضیاء علمدار حسین نے کہا کہ برطانیہ سے نئے تجارتی معاہدوں کیلئے حکومت پاکستان کو فوری طور پر گفت و شنید کا سلسلہ شروع کر دینا چاہیئے تا کہ 2 سال بعد جو یورپین یونین سے برطانوی انخلاکے منفی اثرات سے بچا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزارت تجارت کو بھی یورپین یونین سے برطانیہ کے انخلا سے پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے جامع سٹڈی کرانی چاہیئے تا کہ اس کے منفی اور مثبت پہلوؤں کا احاطہ کرکے پاکستان کیلئے نئی تجارتی حکمت تیار کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس حوالے سے درآمدی کپاس اور یارن پر ڈیوٹی واپس لینے کے ساتھ ساتھ مزید اقدامات بھی کرنے ہونگے تا کہ برآمدی تاجروں کو پہنچنے والے بھاری نقصان سے بچانے کیلئے ضروری مراعات دی جاسکیں۔

مزید : کامرس