ترکی: کیا یہ فوجی کُو تھا؟

ترکی: کیا یہ فوجی کُو تھا؟
ترکی: کیا یہ فوجی کُو تھا؟

  

تین روز پہلے، ترکی میں فوجی انقلاب آنے والا تھا، جسے جمہور نے روک لیا۔۔۔ عوام سڑکوں پر نکل آئے، ٹینکوں پر چڑھ گئے، ڈیمو کریسی کے حق میں نعرے لگائے اور فوجی باغیوں کو سرنڈر کرنا پڑا۔ جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب 262 لوگ موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے جن میں سے اکثر فوجی تھے جنہیں نہتے عوام نے سڑکوں پر آکر جہنم رسید کیا۔ تقریباً 6000 فوجی افسروں اور جوانوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان میں عدلیہ کے لوگ بھی شامل ہیں۔ ان کے خلاف بغاوت کے الزام میں مقدمہ چلایا جائے گا اور ان کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔

درجِ بالا پیراگراف میں وہ منظر نامہ پیش کیا گیا ہے جو ترکی کے سرکاری میڈیا پر نشر کیا گیا اور ہم پاکستانیوں نے بھی اس پر من و عن آمنا و صدقنا کہہ دیا۔ لیکن ترکی میں اس مبینہ فوجی انقلاب کی ناکامی کا اگر بے لاگ اور معروضی تجزیہ کیا جائے تو بعض ایسے سوالات بھی سامنے آئیں گے جن کا کوئی کافی و شافی جواب نہیں مل سکے گا۔مثلاً:

پہلا سوال یہ ہوگا کہ کیا واقعی یہ فوجی کُو تھا؟۔۔۔ ترکی نے چاربار پہلے بھی فوجی انقلابات کا سامنا کیا ہے۔ کیا ان میں سے کوئی ایک کُو بھی ناکام ہوا تھا؟ اگر نہیں ہوا تھا تو اب یہ کس نسل کا فوجی انقلاب تھا جو صرف ایک شب بھی ’’عوامی غیظ و غضب‘‘ کے سامنے نہ ٹھہر سکا؟ ۔۔۔ترک فوج دنیاکی بہترین افواج میں شمار کی جاتی ہے۔ کالم کی تنگی اگر مانع نہ ہو تو میں اپنے کئی ذاتی تجربات بھی نذر قارئین کر سکتا ہوں جو ترک افواج کی جرات اور دلیری کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ہمارے کئی آفیسرز ترکی کی تینوں افواج میں مختلف کورسوں پر بھیجے جاتے ہیں، ان کا انٹرویو کریں اور سوال کریں کہ ترک افواج (آرمی، ائر فورس، نیوی) کی پروفیشنل اہلیت کس درجے کی ہے تو آپ کی آنکھیں چمک اٹھیں گی۔لیکن چند گھنٹوں کے دورانیئے پر مشتمل اس کُو کے بانی ترک فوجی، کیا وردی پوش گیدڑ تھے جو نہتے لیکن شیر دلیر شہریوں کے سامنے ڈھیر ہو گئے؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ یہ کس قسم کا کُو تھا جس میں طاقت کے اصل سرچشموں کو گرفتار نہ کیا گیا۔ پاکستان کو بھی چار مارشل لاؤں کا ’’تجربہ‘‘ ہے۔ کیا ہم نے نہیں دیکھا کہ ان مارشل لاؤں کی SOPs (طریقہ ہائے کار) کیا ہوتی ہیں؟ کیا سب سے پہلے ایوانِ صدر، ایوانِ وزیراعظم، ٹیلی ویژن سٹیشن اور دیگر حکومتی اداروں پر قبضہ نہیں کیا جاتا؟ کیا ترک ائر فورس کے جن افسروں نے کُو کرنے کی کوشش کی وہ ابلاغِ عامہ کی قوت اور اس کی عالمگیر تاثیر سے بے خبر تھے؟ اگر نہیں تھے تو ترک آرمی نے دوچار ٹینکوں کو دو عدد پلوں پر بھیج کر کیا حاصل کیا؟ یہی ٹینک اگر ایوانِ وزیراعظم اور ایوانِ صدر کو گھیرے میں لے لیتے تو دنیا سمجھتی، شائد یہ ’’اصلی کُو‘‘ تھا۔ لیکن وزیراعظم ترکی، تو بیان پر بیان داغتے رہے کہ فلاں کرو اور فلاں نہ کرو اور سڑکوں پر نکل آؤ اور باغیوں کو گرفتار کر لو اور۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔ کیا یہ سب کچھ مارشل لائی کلچرکی پیروی تھی؟ کیا کسی کُو کے دوران ایسا ممکن ہوتا ہے؟

تیسرا سوال یہ ہے کہ کہا جا رہا ہے کہ ترک فوج کے آرمی چیف کو یرغمال بنالیا گیا تھا۔۔۔ بندہ پوچھے جس نے یرغمال بنایا اس نے انہیں چھوڑ کیوں دیا؟ کن شرائط کو منوا کر ان کو رہا کیا گیا؟ اور اگر بفرضِ محال آرمی کے سربراہ یرغمال بنا ہی لئے گئے تھے تو ان کا نمبر2،نمبر3، نمبر4 اور نمبر5کہاں تھا؟ کیا ترک افواج کا کوئی چیئرمین جوائنٹ چیفس، کوئی وائس آرمی چیف، کوئی ڈپٹی آرمی چیف، کوئی چیف آف جنرل سٹاف، کوئی سینئر کور کمانڈر، ملک میں موجود نہ تھا جو اپنی باقی فوج کو باہر نکالتا اور مٹھی بھر باغیوں کے خلاف ایکشن لیتا؟ باقی ساری فوج ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کا مظاہرہ کرتی اور غیر فعال ہو کر کیوں بیٹھی رہی؟اس کو کس کا انتظار تھا؟ کیا ملک کے دارالحکومت کے آس پاس کوئی ٹینک رجمنٹ موجود نہ تھی جو باہر نکل کر باغیوں کے دوچار ٹینکوں کا مقابلہ کرتی؟ کیا یہ صرف ٹینکوں کی لڑائی تھی جس میں باغیوں کے فولادی ٹینکوں کو شکست ہوئی اور وہ لوگ جیت گئے جو پلاٹینم سے بنے سپرٹینکوں پر سوار ہو کر میدان میں آ نکلے تھے؟

چوتھا سوال یہ ہے کہ اگر ترکی کے صدر دارالحکومت سے باہر تھے تو کیا کُو کرنے والے اتنے ہی بدھو تھے کہ طاقت کے اس سرچشمے کو سب سے پہلے ٹھکانے لگانے کی بجائے ان کو بحفاظت ایوانِ صدر میں اترنے دیا اور پھر میڈیا پر آکر ان کو قوم سے خطاب کرنے کا اذن بھی دے دیا؟۔۔۔ یہ کیسے فوجی تھے اور ان کی ٹریننگ کہاں کی گئی تھی؟۔۔۔

پانچواں سوال یہ ہے کہ اگر ترک فوج مارشل لاء لگانا چاہتی یا فوجی انقلاب لانا چاہتی تو اس کا پورا انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ اس کے ساتھ ہونا چاہیے تھا۔ جب بھی کوئی فوج ملک میں مارشل لاء لگاتی ہے تو جن کلیدی سینئر افسروں کو اعتماد میں لیا جاتا ہے ان میں ملٹری انٹیلی جنس کا سربراہ بھی ہوتا ہے۔ اگر ترک فوج کا ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس اس کُو سے بے خبر تھا تو یہ کُو فوج کی طرف سے نہیں لانچ کیا گیا تھا۔ یہ تو جب انکوائری ہوگی اور بے لاگ ہوگی تو معلوم ہوگا کہ ترک فوج کے ایک چھوٹے سے گروپ نے اگر یہ حرکت کی بھی تھی تو کیا وہ اپنے انجام سے بے خبرتھا؟ کیا اس کے ساتھی بھی اپنے انجام سے بے خبر تھے؟ یہ 6000فوجی جو پکڑے گئے ہیں وہ کون ہیں؟۔۔۔ کس کور کا حصہ ہیں؟۔۔۔ ان کو کس کے حکم سے لانچ کیا گیا تھا؟

چھٹا سوال اس کُو کی لانچنگ کی ٹائمنگ کا ہے۔ دنیا بھر کے بیشتر فوجی انقلاب رات کے پچھلے پہر لانچ کئے جاتے ہیں۔ لوگ سو رہے ہوتے ہیں، سڑکیں خالی ہوتی ہیں، سول مزاحمت کا خطرہ کم سے کم ہوتا ہے، اور جب صبح کی پہلی کرن پھوٹتی ہے تو انقلاب کامیاب ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ کیسا کُو تھا کہ رات دس بجے لانچ کیا گیا اور جب صبح کی پہلی کرن پھوٹی تو ناکام ہو چکا تھا!

ساتواں سوال ان باغی ٹینکوں کا ہے جن کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی۔ ترک میڈیا میں جن ایک دو ٹینکوں کو دکھایا گیا ان پر درجنوں سویلین شہری (بیشتر نوجوان لڑکے بالے ) سوار تھے اور صدر کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔۔۔ کیا ان ٹینکوں کا عملہ (Crew) بھی ان کے اندر موجود تھا؟ جب بھی کوئی ٹینک کسی کُو کے لئے یونٹ لائنوں سے باہر بھیجا جاتا ہے تو اس میں پٹرول /ڈیزل اور ایمونیشن کا وافر ذخیرہ کر لیا جاتا ہے۔ اگر یہ دوچار ٹینک ہی انقلابیوں کی ’’ٹینک فورس‘‘ تھی تو ان میں ٹینک کے گولے بھی لوڈ ہوں گے۔ اگر ٹینک کا کوئی توپچی ایک گولہ بھی فائر کر دیتا تو کیا کوئی ہجوم اس ٹینک پر سوار رہ سکتا تھا؟ یا اگر وہ گولہ فائر نہ بھی کرتا اور صرف ٹرٹ ہی گھما دیتا تو سارے سویلین سوار آن کی آن میں نیچے نہ گر جاتے؟ یا اگر ٹینک اپنے ٹریک پر ہی ایک اچانک (Abrupt) چکر کاٹتا اور 360 ڈگری گھوم جاتا تو سویلین سواریوں کا کیا حال ہوتا؟۔۔۔ اندریں حالات اس سوال کے دو جواب ہی ذہن میں آتے ہیں کہ یہ ٹینک بھیجے تو کُو کرنے کے لئے گئے تھے لیکن وہ ہدف پر جاتے ہی ’’اینٹی کُو‘‘ عناصر سے مل گئے یا یہ کہ ٹینک عملے کو پہلے ہی سے معلوم تھا کہ اس نے کس کا ساتھ دینا ہے، باغیوں کا یا سرکار کا؟ کوئی ٹینک، توپ یا APC مع عملہ جب بطور باغی، ایکشن میں جاتی ہے تو اس کو اپنا انجام معلوم ہوتا ہے۔۔۔ کُو کی کامیابی کی صورت میں پروموشن اور عیش کی زندگی اور نا کامی کی صورت میں فائرنگ سکواڈ کا سامنا۔۔۔ خبر نہیں ان ٹینکوں کے عملے کو یہ انتہائی سادہ اور آسان فہم معلومات تھیں یا نہیں۔

آٹھواں سوال یہ ہے کہ گرفتار شدہ 5 جرنیلوں میں ایک ایئر فورس جنرل کا نام بھی لیا جا رہا ہے جو اس بغاوت کا سرغنہ بتایا جاتا ہے۔ اگر وہ کسی آپریشنل ائر کمانڈ کا کمانڈر تھا تو کیا اس کی کمانڈ میں صرف ایک دو ایف ۔16 ہی تھے؟ اس کُو کے دوران تو یہی دیکھنے میں آیا کہ صرف ایک دو ایف۔ 16 ہی باغیوں کے زیر استعمال رہے۔ باقی کیوں گراؤنڈ کر دیئے گئے تھے؟ اگر ایک ایف۔ 16 بھی فضاؤں میں تھا تو صدر اردگان (یا اردوان) کا طیارہ کیسے بحفاظت استنبول کے ہوائی اڈے پر اتر گیا اور انہوں نے جہاز سے اترتے ہی میڈیا پر آکر عوام سے سڑکوں پر نکل آنے کے احکامات صادر کر دیئے؟

نواں سوال فتح اللہ گولن کا ہے۔ جونہی اس ’’کُو‘‘ کی خبر آن ایئر ہوئی، ایک سیکنڈ بعد صدر ترکی نے اعلان کر دیا کہ اس میں گولن کا ہاتھ ہے۔ ترک وزیر اعظم یلدرم بھی اس تکفیر میں شامل ہو گئے۔ گولن صاحب کا نام لینے کی کیا ضرورت تھی، اس ایئر فورس جرنیل کا نام کیوں نہ لیا گیا جو اب کئی گھنٹوں بعد لیا جا رہا ہے؟ امریکی وزیر خارجہ نے ترکی کو یہ جواب دے کر ٹھنڈا کر دیا ہے کہ جب تک گولن کے خلاف کوئی واضح ثبوت منظر عام پر نہیں لایا جاتا، ہم اس کو امریکہ سے نہیں نکالیں گے۔ وہ شخص تو 17 برس سے اس کنجِ عافیت میں بیٹھا ہوا ہے۔ اس سے جمہوریت کو کیا خطرہ ہے؟۔۔۔ یہ ترکی اسی NATO کا رکن ہے جس کے ایک ہوائی مستقر (Incirlik)پر 50 سے لے کر 90 تک ٹیکٹیکل نیو کلیئر بم موجود ہیں۔ ترکی نے اس انسرلک بیس کو سیل کر دیا تھا۔۔۔ اور اب کھول بھی دیا ہے۔۔۔ کیوں۔؟

دسواں سوال یہ ہے کہ آیا یہ فوجی کُو ، سویلین حکومت کے خلاف تھا یا خود فوج کے خلاف تھا؟ کئی حلقے کہتے ہیں کہ فوج کی اعلیٰ لیڈر شپ کی پروموشنیں صدر کی میز پر تھیں۔ کیا حکومت اس کُو کی آڑ میں فوج کی مزید تطہیر (Purging) کرنا چاہتی ہے؟ کیا عدلیہ کو مزید ’’پاک و صاف‘‘ بنانا چاہتی ہے؟۔۔۔

قارئین گرامی! ترک افواج کی یہ تفریق و تقسیم کئی برسوں سے جاری ہے۔ یہ آگ اندر ہی اندر سلگ رہی ہے۔ ایک مسلمان ملک کی ماڈرن اسلحہ سے لیس اور اعلیٰ درجے کی تربیت یافتہ افواج کو اندر سے کھوکھلا کیا جا رہا ہے۔اس کی مزید تطہیر، مزید تقسیم کا باعث بنے گی۔ اگر یہ واقعی بغاوت تھی تو 6000 سے زیادہ فوجی افسروں اور جوانوں کی بغاوت کیا ظاہر کرتی ہے؟ صدر اردوان 13برس سے مسلسل اقتدار میں ہیں اور فوج مسلسل انتشار کا شکار ہو رہی ہے۔ کسی بھی مسلح فوج میں گروپ بندی انتہائی خطرناک ہوتی ہے اور ملک کی اعلیٰ ترین قیادت کی قائدانہ صلاحیتوں اور اس کی کارکردگی کا آئینہ بنتی ہے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے ہم ترکی کے ساتھ ہیں۔ ترکی کی جمہوریت کے ساتھ ہیں۔ اس باغی فوجی جنتا کے ساتھ نہیں جس نے چار بار ملک میں مارشل لاء لگایا اور ملک کو کئی طرح کی مشکلات میں ڈال دیا۔ خود پاکستان بھی چار بار انہی حالات سے گزر چکا ہے۔ پچھلے ڈھائی برس میں اگر جنرل راحیل شریف آرمی کے سربراہ نہ ہوتے تو سازشیوں نے بہت پہلے ملک میں افراتفری پھیلا دی ہوتی۔ اس انارکی کے منحوس سائے ابھی تک پاکستان کا پیچھا کر رہے ہیں۔ پاک آرمی ،نوازشریف کے پیچھے نہیں وزیر اعظم کے پیچھے کھڑی ہے۔ اگر کسی دانشور، سیاستدان یا میڈیا آئی کون کو اب تک اس حقیقت کا ادراک نہیں ہو سکا تو اس کی عقل پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔۔۔ ہمیں نہیں بھولنا چاہئے کہ وابستہ مفادات اسلامی ملکوں کو غیر مستحکم کرنے کے در پے ہیں۔ ماضی قریب کے واقعات دہرانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ترکی کی مسلح افواج کا ایک اپنا عالمی تشخص ہے، اس کو مجروح کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ترک فوج کو بھی اسی طرح بد نام کیا جا رہا ہے جس طرح پاک فوج کو جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی کی قیادت کے آخری برسوں میں کر دیاگیا تھا۔۔۔ لیکن مجھے یقین ہے ترکی بھی پاکستان کی طرح اس آزمائش میں سرخرو نکلے گا۔

مزید : کالم