بلجیم میں کشمیر یوں سے یکجہتی کیلئے شمعیں روشن کی گئیں

بلجیم میں کشمیر یوں سے یکجہتی کیلئے شمعیں روشن کی گئیں

 برسلز(این این آئی) بلجیم کے دارالحکومت برسلزمیں شمعیں روشن کرکے کشمیریوں کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کااظہارکیاگیا۔پروگرام کا اہتمام کشمیرکونسل ای یو نے شام کوبرسلزکے مرکزی اسٹیشن کے قریب کیاجس میں بڑی تعداد میں زندگی کے ہرطبقے اور مختلف این جی اوز کے عہدیداروں خصوصاًانسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔شرکاء نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر بھارتی مظالم کے خلاف اور کشمیریوں کی حمایت میں نعرے درج تھے۔ بلجیم کے مقامی لوگوں نے بھی دلچسپی ظاہر اور موم بتیاں جلاکرکشمیریو ں کے ساتھ یکجہتی کااظہارکیا۔شرکاء نے کہاکہ مظلوم کشمیریوں پر مظالم کے خاتمے تک ان کی حمایت اور ان کے ساتھ یکجہتی جاری رکھیں گے۔مظاہرے کے شرکاء کو بتایاگیاکہ حالیہ دنوں بھارتی سیکورٹی فورسزکے ہاتھوں درجنوں کشمیری شہید، سینکڑوں زخمی اور ایک سو پچاس سے زائد نوجوان کشمیری لڑکے حالیہ دنوں اپنی آنکھوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں کیونکہ بھارتی سیکورٹی فورسزنے پرامن مظاہرے پردیگر آتشیں اسلحے کے علاوہ چھرے داربندوقوں سے بھی فائرکئے۔ اس موقع پر کشمیرکونسل ای یو کے چیئرمین علی رضاسیداور دیگر مقررین نے کہاکہ ہم مسئلہ کشمیرکے منطقی اور منصفانہ حل تک کشمیر کی جدوجہدآزادی کی حمایت جاری رکھیں گے اور مقبوضہ کشمیرکے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہارکرتے رہیں گے۔ انھوں نے مقبوضہ کشمیرمیں قتل و غارت اوربے جا حراست سمیت تمام بھارتی مظالم خصوصاً حالیہ دنوں کے دوران بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں درجنوں کشمیریوں کی شہادت کی مذمت کی اور اس دوران شہیدہونے والے افراد کے لواحقین اورزخمیوں کے ساتھ گہری ہمدردی ظاہرکی۔ انھوں نے کہاکہ کشمیر میں اقوام متحدہ کے ذریعے رائے شماری کرائی جائے۔

جس میں حصہ لے کر کشمیری عوام اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کریں۔مقررین نے مزیدکہاکہ کشمیری عوام اپنے حق خودارادیت کے لیے پرامن جدوجہد کررہے ہیں ۔بھارت مقبوضہ کشمیرمیں کشمیری عوام پر اپنی فوج کی طرف سے ہونے والے تشدد اور مظالم پر پردہ ڈالناچاہتا ہے ۔مقررین نے کہاکہ مقبوضہ کشمیرمیں سات لاکھ فوج کی موجودگی اور کالے قوانین اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت نے کشمیریوں کوسنگین دباؤمیں رکھاہواہے لیکن بھارت کی طرف سے مظالم اورتشددجیسے حربوں اور کالے قوانین سے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو روکا نہیں جاسکتا۔اپنے منطقی انجام تک یہ جدوجہد جاری رہے گی۔اس موقع پر میرشاہجہاں (چیئرمین کشمیرانفو)،حاجی وسیم اختر، چوہدری جاوید ، خالد محمود، چوہدری خالد محمود جوشی، مرزاشبیر، سردارانور(جے کے ایل ایف دوبئی)، سردار زاہد، امین الحق، شکیل گوہر، میاں اکبر، چوہدری پرویزلوہسر، حاجی شاہد فاروقی، غیاث الدین بھٹی، شعیب خان، ریاض خان، مہرندیم، حاجی اشرف، پیرحسنات شاہ، ڈاکٹرعامر، شیخ شکیل ، شیخ طاہر، احسان بابا، سلیم میمن، شیخ مسعوداورشفیق جٹ و دیگرموجودتھے۔پروگرام میں خواتین اوربچوں کی بڑی تعدادنے بھی شرکت کی۔مقررین نے بتایاکہ عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت نے کشمیرپر زبردستی قبضہ کیاہواہے لیکن اسے کشمیریوں کو ضرور آزادی دیناہوگی۔بھارت زیادہ دیر تک کشمیریوں کوان کے بنیادی حقوق سے محروم نہیں رکھ سکتا۔ آج کشمیری نوجوان ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں۔ بڑی تعداد میں نوجوان حالیہ واقعات میں شہیدہوچکے ہیں۔ انسانی حقوق کے عالمی اداروں کو ان واقعات اور مظالم کا نوٹس لیناہوگااور کشمیریوں کو ان کا حق دلواناہوگا۔چیئرمین کشمیرکونسل ای یو علی رضاسید نے خاص طورپر یورپی یونین سے مطالبہ کیاکہ وہ مسئلہ کشمیرکے منصفانہ حل کے لیے اپنا کرداراداکرے۔ یورپی یونین کوچاہیے کہ وہ اپنا اثرورسوخ استعمال کرکے مسئلہ کشمیرکے مناسب اورپرامن حل کا راستہ کرے۔

مزید : عالمی منظر