ریوینج آف ورتھ لیس (بدل)

ریوینج آف ورتھ لیس (بدل)

حسن عباس زیدی

اداکار ، رائٹر ڈائریکٹر جمال شاہ کی سوات کے گمنام ہیروز پر بنائی جانے والی فلم

پاکستان فلم انڈسٹری ایک عرصہ بعد بحالی کے سفر پر رواں دواں ہے،جس میں فلم میکرز بین الاقوامی مارکیٹ کو سامنے رکھتے

ہوئے جدید فلم میکنگ کے ساتھ منفرد موضوعات پر فلمیں بنا رہے ہیں۔ان کی کاوش پاکستان میں ہی نہیں بلکہ بیرون ملک بھی سراہا جارہا ہے۔جمال شاہ جو شوبز انڈسٹری کے منجھے ہوئے اداکار ہونے کے ساتھ بہترین پینٹر اور ایک سوشل ورکر بھی ہیں۔بطور اداکار کیرئیر کے دوران جتنا بھی کام کیا ، انہوں نے اپنی جاندار کردارنگاری کے ذریعے کرداروں میں رنگ بھر دئیے۔ ٹی وی کے ساتھ چند ایک فلمیں بھی کیں۔حال ہی میں انہوں نے بطور رائٹر ڈائریکٹر فلم ’’ریوینج آف ورتھ لیس‘‘ بنائی ہے جس میں سنیئر اداکار فردوس جمال، ایوب کھوسو، مائرہ خان ، نور بخاری، نجیب اللہ خان ، شامل خان کے علاوہ چند نئے چہرے بھی کاسٹ کا حصہ ہیں۔فلم میں چار گانے جن میں سے تین پشتو اور ایک اردو زبان پرمشتمل ہے اس کا میوزک مہدی رضا نے ترتیب دیا ہے جبکہ آمنہ شاہ فلم کی پروڈیوس ہے ۔سوات میں دہشت گردی کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بننے والے گمنام ہیروز پر بنائی جانے والی اس فلم کی تمام تر عکسبندی حقیقی مقامات پر ہی کی گئی ہے۔جمال شاہ رائٹر ڈائریکٹر کے علاوہ فلم کا مرکزی کردار بھی خود ہی کیا ہے۔جمال شاہ نے نمائندہ ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ فلم پاور فل میڈیم ہے جو آسان نہیں بلکہ مشکل کام ہے۔’’ریوینج آف ورتھ لیس‘‘ بنانے کا مقصد سوات کے ان گمنام ہیروز کو ٹریبوٹ دینا تھا جنہوں نے اپنی جانوں کے نذرانہ دے کر امن کی بحالی کے لئے اپنا کردار ادا کیا۔یہ اس لئے بھی ضروری تھا کہ نوجوان نسل کو بتایا جاسکے کہ دو تین دہائیوں سے انتہا پسند عناصر کس طرح سے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لئے ملک کا امن تباہ کرنے کے لئے سازشیں کرر ہاہے ، مگر ہر بار ناکامی ہی اس کا مقدر بنی۔اس سے پہلے سوات کے حالات پر ’’روڈ ٹو سوات‘‘ کے نام سے ڈاکومنٹری بناچکا ہوں، مجھے لگا کہ اس موضوع پر فلم بننی چاہیئے۔یہ فلم سچے واقعات پر مبنی ہیں ، جس میں سوات 2009ء کے گمنام ہیروز کے حوالے سے ہیں ۔

اس پر ریسرچ کرکے سکرپٹ کو فائنل کیا،پھر کرداروں کے مطابق فنکاروں اور لوکیشنز کا انتخاب کرکے سال 2015ء میں عکسبندی مکمل کی گئی ۔فلم میں جہاں ایک طرف ملک کے معروف فنکار اہم کردار کررہے ہیں وہیں پر نیا ٹیلنٹ کو بھی اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لئے مواقع دئیے گئے ہیں جو مستقبل میں شوبز انڈسٹری میں ایک اچھا اضافہ ثابت ہوں گے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تفریح کے ساتھ اصلاح کا پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیئے، ’’ریوینج آف ورتھ لیس‘‘

حقیقی معنوں میں حب الوطنی کے جذبے کے تحت بنائی گئی ہے۔تاکہ دیکھنے والوں کو یہ پیغام دیا جاسکے کہ ملک کی امن ، ترقی اور خوشحالی کا راز ہمارے درمیان یکجہتی اور ہم آہنگی کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔اس لئے حالات چاہے جیسے ہی کیوں نہ ہو جائیں

ہمیں مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیئے ۔ملک دشمن عناصر نے سوات کے امن اور ثقافت کو تباہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر ان گمنام ہیروز نے حوصلہ اور جرات مندی کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا اور ان کے ارادے خاک میں ملا دئیے۔ ان کا کہنا تھا کہ شکر ہے کہ مختلف انداز کی فلمیں بننے لگی ہیں اور فلم بین بھی انہیں پسند کر رہے ہیں ۔یہ خوش آئند بات ہے کہ پاکستان فلم اور سینما انڈسٹری ایک نئے دور میں داخل ہورہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ’’ریوینج آف ورتھ لیس‘‘(بدل) 22جولائی کو ملک بھر کے سینماؤں میں سمٹ انٹریٹمنٹ بنیر تلے نمائش کے لئے پیش کی جارہی ہے ۔

مزید : ایڈیشن 1