چلو چلو ۔ حافظ سعید کے کشمیر کارواں میں چلو

چلو چلو ۔ حافظ سعید کے کشمیر کارواں میں چلو
 چلو چلو ۔ حافظ سعید کے کشمیر کارواں میں چلو

  

کشمیر میں بھارتی مظالم بڑھتے جا رہے ہیں۔ یہ افسوس کی بات ہے کہ کشمیریوں کے خون پر عالمی سطح پر خاموشی ہے اور پاکستان میں بھی سیاستدانوں اور حکمرانوں نے جاگنے میں بہت وقت لیا ہے۔ لیکن یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات اور اقتدار کی رسہ کشی نے مقبوضہ کشمیر کے خون کے ساتھ غداری کی ہے۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت کی بے حسی اور اقتدار کی ہوس نے ہمارے سر شرم سے جھکا دئے ہیں۔حکومت پاکستان نے پہلے 19 جولائی کو یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا لیکن پھر جب معلوم ہوا کہ 19 جولائی کو یوم الحاق کشمیر ہے تو یوم سیاہ 20 جولائی کو کر دیا گیا ہے۔ پاکستان کی اس حالت پر مقبوضہ وادی میں بھی صف ماتم بچھی ہے۔ خبر ہے کہ محترمہ آسیہ اندرابی پاکستان فون کر کے بہت روئی ہیں۔ وہ زارو قطار رو رہی ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ ہمارے زخموں پر مرہم نہیں رکھ سکتے تو نمک تو نہ چھڑکیں۔

لیکن یوم سیاہ کیا ہو گا، بات سمجھ سے بالاتر ہے۔ قومی اسمبلی کا اجلاس نہیں ہو رہا۔ اس لئے قومی اسمبلی میں تو کوئی قرارداد منظور نہیں ہو سکتی۔ تا ہم سینٹ کا اجلاس ہو رہا ہے۔وہاں قرارداد منظور ہو سکتی ہے۔ لیکن پاکستان کی بڑی سیاسی قیادت تو قومی اسمبلی کی ممبر ہے۔ اس لئے اگر قومی اسمبلی کایوم سیاہ کے موقع پر اجلاس بلا لیا جاتا تو بہتر ہو جاتا۔ لیکن اقتدار کے ایوانوں سے خبر ہے کہ یوم سیاہ پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا پروگرام تھا لیکن آزاد کشمیر کے انتخابات کے موقع پر پیپلزپارٹی نے جو اشتہار جاری کیاہے اس کے بعد اس جلاس کو بلانے کا معاملہ فی الحال التوا میں ڈال دیا گیا تا کہ اجلاس میں کشمیر کے حوالہ سے یکجہتی کی بجائے ایک دوسرے پر الزام تراشی نہ شروع ہو جائے۔ اس صورتحال پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔

دوسری طرف تاجروں نے بھی یوم سیاہ پر ہڑتال کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ تاجر نہ تو ٹیکس دیتے ہیں اور نہ ہی انہیں ملک کا مفاد عزیز ہے۔ یہ اپنی ٹیکس چوری کو بچانے کے لئے تو ہڑتال کر سکتے ہیں لیکن کشمیریوں کے خون کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے یہ ہڑتال نہیں کر سکتے۔ ایسے میں حافظ سعید نے کشمیر کاروان کا اعلان کر کے کم از کم پاکستان اور پاکستانیوں کی لاج رکھ لی ہے۔ انہوں نے کہا مقبوضہ کشمیر میں جاری بھاری مظالم اور نا حق خون پر عالمی توجہ کے لئے لاہور سے اسلام آباد کارواں چلایا جائے گا۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ ہم نے بھارت کے ساتھ اسی کشمیر کے لئے تین جنگیں لڑی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے نوجوانوں نے وادی میں پاکستان کا پرچم لہرانے کے جرم میں جام شہادت نوش کیا۔ کشمیری خواتین کی عزتیں لوٹی گئیں۔ لیکن مقبوضہ وادی کے نہتے شہریوں کا عزم کم نہیں ہوا۔ مقبوضہ وادی کے نوجوانوں، بوڑھوں اور خواتین کی پاکستان سے محبت ہر پاکستانی پر قرض ہے۔ مقبوضہ وادی میں بہنے والا ایک ایک خون کا قطرہ ہم پر قرض ہے۔ ہمیں ماننا ہو گا کہ پاکستان کی شہ رگ کی حفاظت کے لئے مقبوضہ وادی میں دی جانیوالی قربانیاں ہم سے ہر لمحہ سوال کر رہی ہیں۔ ہونا تو یہی چاہئے تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بہنے والے تازہ خون پر پاکستان میں پوری قوم کھڑی ہو جاتی ہے ۔ اتنے بڑے بڑے مارچ اور احتجاج ہوتے کہ دنیاکی توجہ مبذول ہو جاتی۔ لیکن یہاں کی خاموشی نے یقین کریں ہمارے سر کشمیریوں کے سامنے شرم سے جھکا دئے ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ حافظ سعید نے لاہور سے اسلام آباد کے لئے کشمیر کاروان کا اعلان کر دیا ہے۔ امید ہے کہ پوری قوم اس کاروان میں شریک ہو گی۔ کم ازکم لاہور سے اسلام آباد تک تو اس کارواں میں ہم سب کو شریک ہونا چاہئے۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ چلو چلو حافظ سعید کے ساتھ چلو۔ چلو چلو حافظ سعید کے ساتھ چلو۔

ہمیں اہل کشمیر پر یہ ثابت کرنا ہے کہ ہمارے دل ان کے ساتھ دھڑکتے ہیں، ہم ان کی قربانیوں کے حقیقی وارث ہیں ۔ مجھے امید ہے کہ ویسے تو حافظ سعید کے اپنے چاہنے والوں کی تعداد کم نہیں ہے، وہ اکیلے ہی جلسوں اور ریلیوں کو بھرنے کی خداد اد صلاحیت رکھتے ہیں۔ لیکن آج ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر ہم حافظ سعید کے کشمیر کاروان میں شریک ہوں۔ اس کے دو فائدے ہو نگے ایک تو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بننے والے نہتے کشمیریوں کے حوصلہ بھی بلند ہو نگے اور کشمیر کا مقدمہ بھی مضبوط ہو گا۔ یہ درست ہے کہ بھارت حافظ سعید کو دہشت گرد کہتا ہے کیونکہ حافظ سعید کشمیر کا وکیل ہی نہیں بلکہ پاکستان کے مقدمہ کشمیر کا محافظ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ بھارت کی جانب سے حافظ سعید کے خلاف کیا جانیوالا پراپیگنڈہ دراصل حافظ سعید کے ماتھے کا جھومر ہے۔ یہ حافظ سعید کی نظریہ پاکستان اور کشمیر بنے گا پاکستان پر حافظ سعید کے کاربند ہونے کا انعام ہے، جس پر حافظ سعید پر جتنا بھی فخر کیا جائے کم ہے۔ آج پاکستان کی سیاسی قیادت کو بھی حافظ سعید کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا چاہئے۔ اگر پاکستان کی سیاسی قیادت کو کشمیر میں جاری اقتدار کی جنگ سے فرصت مل جائے تو اسے اس کشمیر کارواں میں شرکت کرنی چاہئے۔ یہی حب الوطنی کا تقاضا ہے۔ ہم کشمیر پر الگ الگ ڈیڑھ اینٹ کی مساجد بنانے سے اکٹھے ملکر بھارت کو للکارنے کی ضرورت ہے تا کہ وہ وادی میں مظالم بند کر سکے۔

Ba

مزید : کالم