لاہور کے چالاک تاجر

لاہور کے چالاک تاجر
 لاہور کے چالاک تاجر

  

اکیس سالہ نوجوان حریت پسند برہان وانی کی بھارتی افواج کے ہاتھوں شہادت کے بعد مقبوضہ کشمیر میں بھارت سے نفرت کا لاوا ایک مرتبہ پھر پھوٹ پڑا ، فوجیوں نے بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تین سے چار درجن کو شہید اور سینکڑوں کو زخمی کر ڈالا ، پاکستانیوں کے دل بہرحال اپنے کشمیری بھائیوں اوربہنوں کے ساتھ ہی دھڑکتے ہیں ، ان میں درد اور تکلیف بھی محسوس ہوئی مگر ایسے میں لاہور کے تاجروں نے عجب چالاکیوں کی غضب کہانی لکھ ڈالی اور اسے لکھنے کا آغاز ہمارے دوست اور انجمن تاجران پاکستان کے اپنے دھڑے کے جنرل سیکرٹری نعیم میر نے کیا۔ نعیم میر کا پس منظر جماعت اسلامی کا ہے لہٰذا اگر مثبت انداز فکر اپنا یا جائے تو ان کی کشمیر کاز کے ساتھ دلچسپی اور وابستگی کوبنیاد بنا کے انہیں جذباتی ہونے بارے کلین چٹ دی جا سکتی ہے مگر ان کے مخالفین اس دلیل کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔ نعیم میر، جماعت اسلامی کے بعد مسلم لیگ نون اور پھر وہاں سے سیاسی سفرطے کرتے ہوئے تحریک انصاف میں پہنچے جہاں جماعت اسلامی ہی کے پس منظر والے صوبائی صدر اعجاز چودھری نے انہیں اپنا ترجمان بھی مقرر کر دیا مگر ان کی سیاسی وابستگی بارے کنفیوژن اس وقت پیدا ہوئی جب کالے دھن کو سفید کرنے والی سکیم پروہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے ساتھ مل گئے ، عمران خان ایمنسٹی سکیم کو تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے مگرنعیم میر اسے تاجروں کی بہت بڑی فتح قرار دے رہے تھے بہرحال کہا جا رہا ہے کہ اس وقت بھی ان کا تعلق تحریک انصاف سے ہی ہے۔

مثبت اندازفکر کے ساتھ تحریر کروں تو نعیم میر کو کشمیریوں پر ہونے والے مظالم نے جذباتی کردیا ، وہ خود بھی کشمیری ہیں لہٰذا انہوں نے سوچا کہ تاجروں کو ایک بھرپور ہڑتال کرکے اپنے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا چاہئے۔ انہوں نے اپنی انجمن تاجران کے ساتھ ساتھ انارکلی والے اشرف بھٹی صاحب کی انجمن تاجران کے ساتھ مل کر ایک مشاورتی اجلاس طلب کر لیا جس میں انجمن تاجران پاکستان کے ایک اور دھڑے کے صدر خالد پرویز اور مسلم لیگ نون ٹریڈرز ونگ کے عہدیداروں محمد علی میاں اور ناصر سعید سمیت دیگر کو بھی مدعو کر لیا۔ ایک اور دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ نعیم میر کی انجمن تاجران کے سرپرست اور سربراہ بھی مسلم لیگ نون سے ہی تعلق رکھتے تھے۔ اردو بازار میں ڈیرہ جمائے خالد پرویز ، نعیم میر سے بہت زیادہ نالاں ہیں، انہوں نے نہ تو نعیم میر کی فون کال اٹینڈکی اور نہ ہی کسی واٹس ایپ پر وائس میسج کا جواب دیامگرمسلم لیگ نون ٹریڈرز ونگ کے عہدیدار اس اجلاس میں چلے گئے۔نعیم میر اور اشرف بھٹی نے اجلاس کے بعد صحافی دوستوں کو منہ زبانی بتانے کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی اعلان کر دیا کہ کشمیریوں سے اظہار یک جہتی کے لئے ہفتے کے روز شٹر ڈاون ہڑتال کی جائے گی۔ اس اعلان کے ساتھ ہی خالد پرویز نے نہ صرف ہڑتال سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا بلکہ یہ بھی کہا کہ ہڑتال کر کے گھر میں بیٹھ کے گلچھرے اڑانے کی بجائے ہمیں بھارتی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا چاہئے اور اپنے کاروبار کے منافع سے کشمیری بھائیوں کی مددکے لئے فنڈ قائم کرنا چاہئے، نعیم میر نے فنڈ قائم کرنے کی تجویز کوعالمی قوانین کی خلاف ورزی اور دہشت گردی کی حمایت قرار دے دیا۔ دوسری طرف مسلم لیگ نون ٹریڈرز ونگ لاہور کے صدر ناصر سعید نے اپنا مشاورتی اجلاس بلایا تو وہاں بھی اتفاق رائے پایا گیا کہ جب تک وزیر اعظم محمد نواز شریف کال نہیں دیں گے مسلم لیگ نون ٹریڈر ز ونگ کسی دوسرے کی کال کو فالو نہیں کرے گا۔ ناصر سعید نے نعیم میر کے منہ پر کہاکہ انہوں نے مشاورتی اجلاس میں ہڑتال کی بجائے سیا ہ پٹیاں باندھ کر کاروبار کرنے، ریلی نکالنے یا سیمینار منعقد کرنے جیسی تجاویز دی تھیں مگر ان کی تصاویر کے ساتھ ہڑتال کے پوسٹرز بنا دئیے گئے۔ حیرت انگیز طور پر یہ الزام مخالفین نے ہی نہیں بلکہ خود اشرف بھٹی گروپ کے عہدیداروں نے بھی عائد کیا کہ یہ اعلان بغیرکسی مشاورت کے کیا گیا۔ اشرف بھٹی گروپ کے جنرل سیکرٹری اور کینٹ کے صدر نے مخالف گروپ کے صدر خالد پرویز کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کر دیا کہ وہ اشرف بھٹی گروپ کی کال کے ساتھ نہیں ہیں، وہ اپنی دکانیں کھلی رکھیں گے۔ ایسے میں واضح ہوگیا کہ لاہور کے تین چوتھائی سے بھی زائد کاروباری مراکز ہفتے کو ہڑتال نہیں کریں گے۔ اشرف بھٹی نے اپنا دھڑا اس وقت قائم کیا تھا جب حاجی مقصود بٹ انتقال کر گئے تھے اور انجمن تاجران پاکستان کی صدارت پر خالد پرویز اور اشرف بھٹی میں جھگڑا ہو گیا تھا۔ لاہور میں مسلم لیگ نون کی حمایت کے بغیر کسی ایشو پر ہڑتال کی کال کو کامیاب نہیں بنایا جا سکتا سوائے کوئی ایسے ایشو کے جس میں تاجروں کو واقعی کوئی بڑا مالی نقصان ہو رہا ہو۔ تاجروں کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اپنے چھوٹے چھوٹے مسائل کی خاطر حکومتوں کے ساتھ تنازع میں نہیں جاتے۔ اس کی واضح مثال فوجی دور میں قومی تاجر اتحاد کا قیام اور عروج تھا جو اب کافی حد تک اپنی موت آپ مر چکا ہے۔

مثبت انداز فکر کے ساتھ ساتھ اس حیرانی کو بھی اب ایک طرف رکھئے کہ لاہور کے تاجروں نے کشمیر جیسے اہم اورجذباتی موضوع پرہڑتال سے لاتعلقی کا اظہار کیو ں کیا، یہاں مخالفین کا نکتہ نظر بھی اہم منطقی اور دلچسپ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کشمیریوں کے حق میں کسی بھی سرگرمی سے وہ انکار نہیں کر سکتے لیکن اگر وہ نعیم میر کی شروع کی ہوئی تحریک پر ہڑتال کی حمایت کر دیتے تو انہوں نے عمران خان کے سامنے جا کرکہنا تھا، دیکھیں، لاہور کے تمام تاجر میری جیب میں ہیں اور میں جب چاہوں ہڑتال کروا سکتا ہوں، یہ نعیم میر کی اپنے سیاسی فائدے کے لئے ایک سوچی سمجھی چال تھی جس میں وہ چت اور پٹ دونوں اپنی کرنے کے چکر میں تھے۔ اگردوسرے تاجرنمائندے ان کی کال پر لبیک نہ کہتے تو کہا جاتا کہ یہ لوگ کشمیر کاز کے غدار اور مفاد پرست ہیں، جو انہوں نے کہا بھی، لہٰذا اس کال کی حمایت اور مخالفت دونوں ہی تاجروں کے لئے خطرناک تھیں۔ خالد پرویز نے کہا کہ وہ وزیراعظم نواز شریف کی ہر کال پر پوری قوم کے ساتھ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کریں گے مگر وہ ان منافقوں کے ساتھ نہیں جائیں گے جو بھارتی ساڑھیاں منگوا کر لاہور میں بیچتے اور ساتھ ہی بھارت کے خلاف احتجاج کی کال بھی دیتے ہیں۔ نعیم میر ایک وقت میں مال روڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے (اپنے دھڑے کے ) کے صدر ہوا کرتے تھے مگر ان کے مخالفین کہتے تھے کہ ان کی تو اپنی دکان بھی مال روڈ پر نہیں تھی اور نہ ہی ان کے ساتھ مال روڈ کے دکاندار تھے، ہاں، ان کے والدکا احترام کیا جاتا ہے۔

جمعے کی شام نعیم میر نے اعلان کر دیا کہ انہوں نے دوسرے گروپوں کے ردعمل کو دیکھتے ہوئے اپنی ہڑتال کی کال واپس لے لی ہے، وہ کمزور اور ناتواں ہیں اور دوسرے گروپ اس پر کال دیں تو وہ ان کے پیچھے چلنے کے لئے تیار ہیں۔ ایسے میں قومی تاجر اتحاد کے رہنما اور کریانہ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے صد ر راؤ اکرم نے کہا کہ یہ سب حکومتی ٹاوٹ تھے اور انہوں نے کشمیریوں کے ساتھ غداری کی ہے۔ میں نے ان سے پوچھا، راؤ صاحب، کیا آپ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ہڑتال کریں گے تو انہوں نے فوراًپینترا بدل لیا، کہا، جنہوں نے کال دی وہی بھاگ گئے تو ہم کیوں ہڑتال کریں، اگر وہ کھڑے رہتے تو پھر دیکھتے۔ یوں لاہور میں کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف اور ان کے ساتھ اظہاریک جہتی کے لئے دی جانے والی ہڑتال کی ایک کال سیاست کی نذر ہو گئی۔ جہاں میں یہ کہتا ہوں کہ کشمیرکے ایشو پر تمام تاجر تنظیموں کو اپنے سیاسی اور وقتی مفادات سے بالاتر ہو کر قوم کی نمائندگی کرتے ہوئے عالمی برادری کو ایک پیغام دینا چاہیے، یقینی طور پر کشمیر کاز پر اتحاد کا مظاہر ہ نہ کر کے ہمارے تاجروں نے شرمناک روئیے کا مظاہرہ کیا ہے تو مجھے یہ بھی کہنا چاہئے کہ دوسری طرف جب مقبوضہ کشمیر کی جذباتی صورتحال کو کچھ تاجر رہنما اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے تو یہ بھی اتنا ہی شرمناک تھا۔

مزید : کالم