اسحق ڈار کیخلاف قانونی طریقہ سے تحقیقات کرنے کے بعد ریفرنس بند کیا،نیب

اسحق ڈار کیخلاف قانونی طریقہ سے تحقیقات کرنے کے بعد ریفرنس بند کیا،نیب

اسلام آباد (آئی این پی) قومی احتساب بیورو نیب کے ترجمان نے وزیر خزانہ کے خلاف تحقیقات بند کرنے سے متعلق چیئرمین پی ٹی آئی کے بیان پر وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف پندرہ سال سے زیر التواء تحقیقات قانونی طریقہ کار کے مطابق کی گئیں‘ تحقیقاتی ٹیموں اور استغاثہ حکام نے کئی مرتبہ تحقیقات بند کرنے کی سفارش کی‘ لاعلمی اور سیاسی محرکات کی وجہ سے غلط اطلاعات میڈیا میں پھیلائی جارہی ہیں۔ پیر کو اپنے ایک بیان میں ترجمان نیب کا کہنا تھا کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف مذکورہ نوعیت کا کوئی مقدمہ کسی عدالت میں زیر التواء نہیں‘ نیب اپنے قانونی مینڈیٹ کے مطابق تعصب کے بغیر اپنے فرائض سرانجام دے رہا ہے۔ نیب فرائض کی ادائیگی میں کسی شخص ‘ سیاسی جماعت یا کسی ادارے کادباؤ قبول نہیں کرتا۔ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ اجلاس میں طارق شفیع کے خلاف بھی تحقیقات بند کی گئیں۔ سٹیٹ بنک کے مالیاتی مانیٹرنگ یونٹ نے طارق شفیع کے خلاف ریفرنس دائر کیا تھا ۔تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ابراح گروپ دبئی کے عارف نقوی نے پانچ کروڑ ساٹھ لاکھ روپے کے فنڈز وصول کئے ہیں ۔یہ فنڈز تحریک انصاف کو عطیات کے طور پر منتقل کئے گئے۔ ترجمان نیب کا کہنا تھا کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف پندرہ سال سے زیر التواء تحقیقات قانونی طریقہ کار کے مطابق کی گئیں‘ تحقیقاتی ٹیموں اور استغاثہ حکام نے کئی مرتبہ تحقیقات بند کرنے کی سفارش کی‘ لاعلمی اور سیاسی محرکات کی وجہ سے غلط اطلاعات میڈیا میں پھیلائی جارہی ہیں۔ معاملے کی پیشہ وارانہ انداز میں تحقیقات کی گئیں اور ریفرنس بند کردیا گیا۔

نیب

مزید : کراچی صفحہ اول