موجودہ حکومت نے صوبے کی ترقی و خوشحالی کی سمت متعین کر دی ہے ، پرویز خٹک

موجودہ حکومت نے صوبے کی ترقی و خوشحالی کی سمت متعین کر دی ہے ، پرویز خٹک

پشاور( پاکستان نیوز) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے انکشاف کیا ہے کہ صوبہ کرک میں آئل ریفائنری قائم کر رہا ہے۔ فرنیٹر ورکس آرگنائزیشن کے ساتھ اس سلسلے میں ایک باقاعدہ ایگرمنٹ کیا جا رہا ہے تاہم فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن کے ساتھ کچھ اور معاہدے بھی ہوں گے جو پن بجلی ، ہاوسنگ اور صنعتی شعبے وغیرہ میں بھی مختلف معاہدے ہوں گے جس میں پشاور ماڈل ہاوسنگ سکیم جو ایک لاکھ 20 ہزار کنال پر مشمتل ہے ،کے علاوہ موٹرے وے پر ہماری 80 ہزار کنال اراضی نئی ہاوسنگ سکیم کیلئے استعمال ہو گی جبکہ ہنگو کے مقام پر بھی ایک ہاوسنگ سکیم بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں علاوہ ازیں معدنیات کے شعبے میں ہر ی پور میں سری کوٹ کے مقام پر سمینٹ کا پراجیکٹ جبکہ چترال میں تین اور بالاکوٹ میں ایک پن بجلی کا پراجیکٹ بھی شامل ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبہ سی پیک کے تناظر میں انڈسٹریل حبز اور اکنامک زونز کے قیام کیلئے بھی ذہن بنا چکا ہے یہ اسی سوچ کی عکاسی ہے جو موجودہ حکومت صوبے کو صنعتی میدان میں بڑھوتری دینا چاہتی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے اس تجویز سے اتفاق کیا کہ عمومی طور پر خیبرپختونخوا اور شمالی پنجاب میں ایندھن کی سٹرٹیجک ذخائر میں کمی دیکھنے میں آتی ہے اسلئے ضروری ہے کہ یہ آئل ریفائنری کرک کے مقام پر قائم کی جائے جو نہ صرف نیشنل سیکورٹی کیلئے ناگزیر ہے بلکہ سماجی پس منظر میں بھی اس کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اس سے پورے بیلٹ میں ایندھن ذخیرے میں کمی کے چانسز کم ہو جائیں گے انہوں نے متعلقہ حکام سے کہاکہ وہ تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر تمام انتظامات کو حتمی شکل دیں تاکہ ایف ڈبلیو او کے ساتھ معاہدہ کرنے میں رکاوٹ پیش نہ آئے انہوں نے کہا کہ صوبے کو اس پراجیکٹ سے اپنا حصہ ملے گا۔ پرویز خٹک نے انرجی کے شعبے کے اہلکاروں پر زور دیا کہ وہ پن بجلی کے حوالے سے حصول اراضی سمیت تمام انتظامات کوفوری طور پر حتمی شکل دیں تاکہ اس سلسلے میں بھی ایف ڈبلیو او کے ساتھ معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکے یہ پراجیکٹس تین چترال میں ہیں اور ایک بالا کوٹ میں ہے ان پراجیکٹس سے بھی صوبے کو اپنا حصہ ملے گا ۔سمینٹ کے پراجیکٹ میں وزیراعلیٰ نے ہدایت دی کہ تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر فوری طور پر اس پراجیکٹ کو حتمی شکل دیں یہ پراجیکٹ ہری پور میں سری کوٹ کے مقام پر قائم کیا جائے گا اور اس مہینے کی 30 تاریخ کو ہونے والے مجوزہ اجلاس میں اس کو حتمی شکل دی جائے گی ۔ہاؤسنگ کے شعبے میں وزیراعلیٰ نے ایف ڈبلیو او کو تین پراجیکٹس دینے کا عندیہ دیا جس میں پشاور ماڈل ٹاؤن، موٹروے پر ایک ہاؤسنگ سکیم اور ہنگوٹاؤن شپ شامل ہیں ایف ڈبلیو او نے ان پراجیکٹس پر کام شروع کرنے میں گہری دلچسپی لی اس کے علاوہ صوبہ سی پیک کے تناظر میں صنعتی حب اور اکنامک زونز قائم کرنا چاہتا ہے وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ اس کے تمام پہلوؤں کو طے کریں تاکہ ایف ڈبلیو او کے ساتھ معاہدہ کیا جا سکے صوبے کو ان پراجیکٹس سے حصہ ملے گا ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ موجودہ حکومت نے صوبے کی ترقی و خوشحالی کی سمت متعین کر دی ہے ہم چاہتے ہیں کہ صوبے کوتیز تر قی کی راہ پر ڈالنے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو سرکاری اہلکاروں کو اس کام کیلئے کل وقتی بنیادوں پر اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہو گا ہم اس کے لئے قانون سازی بھی کریں گے کیونکہ یہ صوبے کے لوگوں کے مفاد میں ہے اور یہ صوبے کی ترقی کی ضامن بھی ہے ۔اجلاس میں وزیراعلیٰ کے مشیربرائے سی اینڈ ڈبلیو اکبر ایوب، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے انڈسٹری عبد الکریم، ڈائریکٹر جنرل ایف ڈبلیو او میجر جنرل محمد افضل ، ایس ایم بی آر، انتظامی سیکرٹریوں اور متعلق حکام نے شرکت کی۔

پشاور( پاکستان نیوز)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے صوبائی محکموں میں اثاثہ جات کے لئے انتظامی کمیٹیاں تشکیل دینے اور صوبے میں وسائل کی پیداوار کے عمل کو تیز تر کرنے کی ہدایت کی ہے۔مزید برآں انہوں نے کمرشل اثاثوں کو زیادہ سے زیادہ منافع بخش بنانے کے لئے شفاف طریقہ کار کے ذریعے ان کے بہترین استعمال کویقینی بنانے کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ اس سلسلے میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔وہ پیر کے روز وزیر اعلیٰ ہاؤس میں آمدن کے اضافی وسائل سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔سینئر صوبائی وزیر سکندر حیات شیرپاؤ ،وزیر مال علی امین گنڈا پور،ڈاکٹر حیدر علی،سینئرممبر بورڈ آف ریونیو،متعلقہ محکمو ں کے انتظامی سیکرٹریوں اور چیف ایگزیکٹو ازدمک نے اجلاس میں شرکت کی۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت نے وسائل کی پیداوار کے لئے پہلے سے ہی تمام سرکاری محکموں کے لئے پالیسی کے رہنما اصول واضح کر دئیے ہیں اور اس سلسلے میں تمام مراحل پر ایک مضبوط چیک اینڈ بیلنس کا نظام موجود ہوگا۔انہوں نے کہا کہ متعلقہ محکمہ اپنے اثاثوں کا سٹیک ہولڈر رہے گا اور اپنے اثاثوں کی کمرشلائزیشن کے ذریعے بہترین طریقہ سے وسائل پیدا کرنے کے لئے پلان تشکیل دے گا ۔وزیر اعلیٰ نے سرکاری اراضی پر عمارتیں جدید خطوط پر ڈیزائن کرنے کی ہدایت کی تاکہ انہیں دفاتر،کمرشل اور رہائش کے لئے استعمال کیا جاسکے۔انہوں نے واضح کیا کہ اصل مقصد صوبے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے تاکہ ہمیں اخراجات کے لئے دوسروں کی طرف نہ دیکھنا پڑے ۔پرویز خٹک نے کمزوریوں سے پاک اسٹرکچر اور لائحہ عمل تشکیل دینے کی ہدایت کی تاکہ آمدنی میں اضافے کا عمل مستقبل میں بھی جاری رہے انہوں نے مزید واضح کیا کہ متعلقہ محکمہ اپنے مستقبل کا لائحہ عمل خود تیار کرے گا اور اس کے نفاذ کی حکمت عملی تشکیل دینے میں بھی آزاد ہوگا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مذکورہ اقدام صوبائی حکومت پر بڑھتے ہوئے مالی اخراجات کے بوجھ کو کم کرنے میں مدد گار ہوگا۔وزیر اعلیٰ نے وقت کی کمی کے پیش نظر مزید وقت ضائع نہ کرنے کی ہدایت کی۔انہوں نے آمدنی کے حصوں کے لئے عمارتوں کی تعمیر جیسے منصوبوں کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کو اچھا آئیڈیا قرار دیا ۔انہوں نے کہا کہ تاہم صوبے کی بہتری کے لئے شفافیت اور مستقبل کو کسی سطح پر بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔انہوں نے ہاؤسنگ سکیموں میں پلاٹس نیلام کرنے کی ہدایت کی ۔وزیر اعلیٰ نے مختلف محکموں کی کارکردگی کو مختلف سکیموں میں پراگرس سے مشروط کر دیا۔وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر مختلف منصوبوں کی باضابطہ منظوری کے لئے سمری بھیجنے کی ہدایت کی اسی طرح انہوں نے کہا کہ مختلف محکموں نے جن املاک کو فروخت کرنے یا لیز پر دینے کی منصوبہ بندی کرلی ہے ان کے لئے مناسب طریقہ کار استعمال کیا جائے اور یہ عمل دس دنوں کے اندر اندر مکمل کیا جائے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان،پشاور،ہزارہ اور وسطی اضلاع کی اراضی بھی آمدنی کے حصول کے لئے کمرشل بنیادوں پر ڈیویلپ کی جا سکتی ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت نئے ضلعی کونسل نظام کے لئے پہلے سے ہی 33ارب روپے مختص کر چکی ہے انہوں نے کہا کہ حکومت تمام اقدامات نیک جذبے کے ساتھ عوامی فلاح و بہبود کے لئے اٹھارہی ہے جن کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں آنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ مقصد کے لئے قانون میں ترمیم بھی کی جا سکتی ہے۔وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر سیکرٹری ایڈمنسٹریشن ،سیکرٹری مواصلات و تعمیرات اور ایڈوکیٹ جنرل پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جو نشتر آباد سرکاری فیلٹس میں رہائش پذیر سرکاری افسران کے ساتھ مل کر ان کے لئے متبادل رہائش کا انتظام یقینی بنائے گی تاکہ منصوبے کی تعمیر پر کام شروع کیا جاسکے۔

مزید : کراچی صفحہ اول