آزاد کشمیر کے انتخابات، آج رات انتخابی مہم ختم، الزام تراشی بھی بند کر دیں

آزاد کشمیر کے انتخابات، آج رات انتخابی مہم ختم، الزام تراشی بھی بند کر دیں

تجزیہ : چودھری خادم حسین

آزاد کشمیر کے عام انتخابات میں صرف دو روز باقی رہ گئے اورآج رات بارہ بجے انتخابی مہم ختم ہو جائے گی، یقین کرنا چاہیے کہ اس کے ساتھ ہی پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے جو کر دار ادا کیا ہے اس کے بعد وہ باقی نہیں رہے گا، اس انتخابی مہم کے دوران تحریک انصاف ،پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) نے ایک دوسرے کے خلاف جو گند اچھالا وہ نامناسب اور آزادی کشمیر کی تحریک کے لئے مناسب نہیں تھا کہ مخالفت اور الزام تراشی کے دوران یہ بھی نہ سوچا گیا کہ کون کس کو کیا کہہ رہا ہے اور اس سے مودی کتنا خوش ہوتا ہوگا، چونکہ انتخابات آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے ہیں اس لئے کشمیر کا ذکر لازمی تھا لیکن بہتر ہوتا کہ یہ ذکر پاکستان کی قومی پالیسی کے مطابق ہوتا لیکن ایسا نہیں ہوا، سب نے خود کو بہتر جانا اور دوسروں کے خلاف الزام تراشی کی بلکہ بہتان باندھے، ہم نے پہلے بھی عرض کیا اوراب پھر کہتے ہیں کہ خارجہ امور اور ملکی معاملات کے حوالے سے بعض امور ایسے ہیں جو پوری قوم کے لئے یکساں حیثیت رکھتے ہیں اور ان کے بارے میں سب کاموقف بھی ایک جیسا ہونا چاہیے، ان میں کشمیر سب سے اہم ہے بد قسمتی سے یہاں یہ بھی لحاظ نہیں رکھا گیا۔

ملکی سیاست کے حوالے سے جو بات ہم نہیں کرنا چاہتے وہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ محترم عمران خان کہاں سے اور کیا بول رہے ہیں ، انہوں نے لندن سے واپس آتے ہی کشمیر(آزاد) میں تقریر کرتے ہوئے واضح طور پر فوجی حکومت کی حمائت کردی جس کا مطلب یہی لیا جارہاہے کہ ان کے اقدامات فوج کو دعوت دینے والے ہیں، ایک قومی راہنما کے لئے جو آئندہ وزیر اعظم کا امیدوار ہے اس طرح کی بات کرنا غیر مناسب ہے، عمران خان خود بنی گالا میں بیٹھ کر سوچیں جب وہ یہ کہیں، فوج آئے گی تو ہم مٹھائی بانٹیں گے، اور فوج آئی تو عوام باہر نہیں آئیں گے بلکہ خوشیاں منائیں گے، تو اس سے کیا مطلب لیا جاسکتا ہے، اس سے پہلے محترم ڈاکٹر طاہر القادری چیف آف آرمی سٹاف سے انصاف مانگتے رہے ہیں، اور اب بھی وہ تحریک کی بات کرتے اور عمران کی طرح کہتے ہیں کہ اس سال محمد نواز شریف اقتدار میں نہیں رہیں گے، اب یہ الگ بات ہے کہ فرزند راولپنڈی اور لال حویلی کے مکین اپنی بات سے پھر گئے بلکہ مکر گئے ہیں، وہ کہتے ہیں، ’’ہم جمہوریت کے مخالف نہیں، ہم حکومت کو غیر آئینی طریقے سے نہیں ہٹانا چاہتے،ان محترم سے دریافت کیا جائے کہ آپ قومی لیڈر بنتے ہیں تو پھر بتا دیں کہ حکومت کی تبدیلی کا آئینی طریقہ کیا ہے، ماسوا اس امر کے کہ قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کیا جائے اگر آپ کے پاس اتنی اکثریت ہے کہ آپ ایسا کرسکتے ہیں تو ضرور کرلیں، پھر آپ یکم اگست سے حکومت کے خلاف کیا تحریک چلا رہے ہیں، افسوس تو یہ ہے کہ تمام قومی راہنما ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کے چکر میں ہیں، کسی کو عوام کے لئے مہنگائی، صحت ،تعلیم اور روزگار کی فکر نہیں ہو، ضرور تحریک چلائیں، لیکن یہ عوامی حقوق کے لئے ہوتا کہ عوام بھی آپ کے ساتھ ہوں، ورنہ آپ کے ساتھ آپ کے ساتھی ہی ہوں گے۔

یہ تو ان قومی راہنماؤں کا عمل اور وطیرہ ہے لکین دوسری طرف خود حکمران اور ان کے خوشامدی کیا کر رہے ہیں وزیر اعظم 39 روز ملک سے باہر رہے اور واپس آ کر جاتی عمرہ میں بیٹھے ہیں۔ وہ بھی ہدایت کے مطابق وہ سارا بوجھ نہیں لے سکتے جو حالات کی وجہ سے درپیش ہے۔ پھر وہ چھٹی کیوں نہیں لے لیتے اور یہ اس لئے مشکل ہے کہ آئین میں صدر کی طرح وزیر اعظم کی غیر حاضری کے حوالے سے قائم مقام کی شق نہیں ہے۔ صدر نہ ہو تو سینٹ کے چیئرمین صدر ہوتے ہیں وہ بھی نہ ہوں تو قومی اسمبلی کے سپیکر صدر بن جاتے ہیں۔ یہ تجربہ ابھی حال میں ہوا ہے کہ صدر پہلے عمرہ کے لئے گئے اور پھر چیئرمین سینٹ بھی چلے گئے تو سپیکر موجود تھے۔ اب وزیر اعظم کی طویل غیر حاضری نے یہ سوال ضرور پیدا کر دیا کہ آئین میں قائم مقام وزیر اعظم کی گنجائش ہونا چاہئے۔ اگر ایسا ہوتاتو پھر وزیر اعظم کو اتنی باتیں نہ سننا پڑتیں یوں بھی جن دنوں وزیر اعظم کا آپریشن ہوا وہ سی سی یو اور پھر کمرے میں زیر علاج اور مکمل آرام میں رہے۔ ان دنوں ملک کا کاروبار کیسے چلا؟ اس کا جواب بھی ملنا چاہئے۔ اس لئے اگر 22 ترامیم ہو سکتی ہیں تو 23 ویں میں کیا حرج ہے؟

دوسری بات یوں کہ حکمران جماعت کی سنجیدگی کا اندازہ الیکشن کمشن کے اراکین کی نامزدگی اور پاناما لیکس کے ٹی۔ او آر طے کرنے میں اختیار کئے گئے موقف اور تاخیری حربوں سے لگایا جا سکتا ہے۔

الیکشن کمشن کے اراکین کی نامزدگی تو اب مجبوری بن گئی کہ میعاد پوری ہونے والی ہے اور سپریم کورٹ نے حد مقرر کر دی ہے اس لئے اب حکومت اور اپوزیشن ایسا کرنے پر مجبور ہوں گے لیکن پاناما لیکس پروپیگنڈے کا ذریعہ بن گئیں۔ سرکاری میڈیا مینجرز یہ خبر چلواتے رہتے ہیں کہ وزیر اعظم نے ہدایت کر دی کہ جلد مسئلہ حل کیا جائے لیکن عملی طور پر ایسا نہیں ہو رہا، ہم ان سطور میں ایک سے زیادہ مرتبہ گزارش کر چکے ہیں کہ اگر نیت صاف ہے تو پھر احتساب بیورو والا بل اتفاق رائے سے منظور کیوں نہیں کرا لیتے۔ سارا مسئلہ ہی ختم ہو اور غیر جانبدارانہ اور سب کا احتساب شروع ہو جائے اگر یہ نہیں کیا جا رہا تو پھر سب کے مقاصد کچھ اور ہیں۔

وفاقی کابینہ نے یوم الحاق کشمیر اور اس سے اگلے روز مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم کے خلاف یوم سیاہ منانے کا فیصلہ کیا۔ اچھا اقدام ہے کل یوم الحاق ہوگا جو مقبوضہ اور آزاد کشمیر کے علاوہ پورے پاکستان اور بیرونی ممالک میں منایا جائے گا اس میں کشمیر کمیٹی بھی حصہ لے گی یہ جو کشمیر کمیٹی ہے۔ کیا یہ بے کار اور بے مصرف نہیں کہ اسے اب سیاسی رشوت ہی کہا جاسکتا ہے جو ماضی میں محترمہ نے نوابزادہ نصراللہ کو پیش کی اور اس بار ہمارے مولانا فضل الرحمن نے بلیک میل کر کے حاصل کی۔ اس کمیٹی نے اب تک کیا کیا۔ حتیٰ کہ کوئی اجلاس نہیں ہوا البتہ مولانا کو وزیر کا درجہ ملا اور وہ کئی ممالک کے سرکاری دورے کر چکے ہیں۔ انہوں نے کشمیر پر تو کوئی کام نہیں کیا البتہ اب وزیر اعظم کی حمایت ضرور کر رہے ہیں۔ ان کو خود کچھ خیال کرنا چاہئے۔

مزید : تجزیہ