آم کی ایکسپورٹ کیلئے اہم ممالک کی منڈیوں سے معاہدے کئے ہیں ، سکندر بوسن

آم کی ایکسپورٹ کیلئے اہم ممالک کی منڈیوں سے معاہدے کئے ہیں ، سکندر بوسن

ملتان (خبر نگار) تحفظ خوراک اور ریسرچ کے وفاقی وزیر سکندر حیات بوسن نے کہا ہے کہ حکومت آم کی برآمدت بڑھانے کیلئے بھر پور اقدامات کر رہی ہے اور اسی سلسلے میں نئی منڈیاں تلاش کرتے مختلف ممالک کو آم برآمد کرنے کے معاہدے کیے جا رہے ہیں انہوں نے ان خیالات کا اظہار مینگو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ملتان میں مینگو فیسٹیول کا افتتاح کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال گذشتہ سال کی نسبت آم کی زیادہ ایکسپورٹ ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا آم فروٹ فلائی کے حملے اور بیماریوں ککی وجہ سے ایکسپورٹ نہیں ہو پاتا تھا۔ مگر حکومت نے ان بیماریوں کے خاتمے کیلئے کئی پروگرام شروع کیے ہوئے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت چھوٹے یونٹ رکھنے والے باغبانوں کو بھی آم کی ایکسپورٹ میں شامل کر رہی ہے۔ اور ان کو سہولیات کی فراہمی کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا کے تعاون سے پاکستان کے آم ایکسپورٹ کرنے کیلئے اہم ممالک کی منڈیوں سے معاہدے ہوتے ہیں آسٹریلیا کی طرف سے ایگری کلچر سیکٹر لنکج پروگرام (اے ایس ایل پی) شروع ہونے سے پاکستان کا آم جاپان، جنوبی کوریا اور آسٹریلیا برآمد ہونا شروع ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا سے مشترکہ پروگرام اس وقت شروع کیا گیا۔ جب میں گذشتہ دور میں وزیر زراعت تھا انہوں نے کہا کہ آم کی ایکسپورٹ بڑھانے سے مقامی باغبانوں کو اس کی بھر پور قیمت ملے گی اور آمدنی میں بھی اضافہ ہوگا۔ پاکستان میں آسٹریلیا کی ہائی کمشنر مار گریٹ ایڈمسن نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے آم انتہائی منفرد اور خوش ذائقہ ہیں جکبہ آسٹریلیا کے آم کا ذائقہ اتنا اچھا نہیں ہے۔ جتنا پاکستان کا ہے انہوں نے کہا ہے پاکستان میں آم کی اقسام بھی بہت زیادہ ہیں۔ انہون نے بتایا کہ آسٹریلیا اور پاکستان کے درمیان زراعت کی ترقی کیلئے 12کروڑ ڈالر کا تحقیقی پروگرام شروع ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس خطے کے آم کی اقسام اور ذائقے کو دیکھ کر وہ بہت متاثر ہوئی ہیں۔ ہائی کمشنر نے کہا کہ آسٹریلین سنٹر فار انٹرنیشنل ایگری کلچرل ریسرچ پاکستان میں کئی شعبوں میں تعاون کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو آم بیرونی ممالک کو بھیجنے کیلئے مزید بہتر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ مینگو فیسٹیول میں محکمہ زراعت توسیع، محکمہ زرعی اطلاعات سمیت سرکاری اداروں اور نجی کمپنیوں نے بھی سٹال لگائے تھے۔ 27 سٹالز میں زرعی ادویات کی کمپنیوں کے سٹال بھی شامل ہیں۔ مینگو فیسٹیول میں آم کی دیسی اقسام بھی رکھی گئی تھیں۔ دیسی اقسام کے ساتھ مقامی آم بھی سٹالوں پر موجود رہے آم کی انٹرنیشنل اقسام میں ٹومی، اٹیکن، طل، فلوریڈا (امریکہ) کینسگٹن پرائیڈ آسٹریلیا، پوب ہوائی بھی مینگو فیسٹیول کا حصہ تھے۔

مزید : کراچی صفحہ اول