لاہور لائیکورٹ کا پنجاب بھر میں مزید علاقائی بینچ نہ بنانے کا فیصلہ ،ججوں کی تعداد بھی60ہی رہے گی

لاہور لائیکورٹ کا پنجاب بھر میں مزید علاقائی بینچ نہ بنانے کا فیصلہ ،ججوں کی ...

لاہور(نامہ نگار خصوصی )چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹرجسٹس سید منصور علی شاہ کی سربراہی میں فل کورٹ اجلاس میں تمام ججز نے عدالت عالیہ کے نئے علاقائی بنچز کے قیام کی تجویز کو مسترد کردیا جبکہ عدالت عالیہ کے ججوں کی اسامیوں کی تعداد 60سے بڑھا کر 100کرنے کا معاملہ مؤخرکردیا گیا ہے ،15جولائی سے 17جولائی2016 ء تک جاری رہنے والے 3روزہ فل کورٹ اجلاس میں تفصیلی غورو خوص کرنے کے بعد مزید علاقائی بنچز نہ بنانے کا فیصلہ کیاگیا ہے، فل کورٹ نے 17جولائی کو اپنا فیصلہ محفوظ کیا تھا جو گزشتہ روز سنا دیا گیا ۔اس ضمن میں گورنر پنجاب کو مراسلہ بھی ارسال کر دیا گیا ہے ۔لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے عدالت عالیہ کے مزید علاقائی بنچز بنانے کا مطالبہ مسترد کرنے کے فیصلے کو تسلیم کر لیاہے، سیکرٹری ہائیکورٹ بار انس غازی کہتے ہیں کہ 47ججز کے فل کورٹ نے آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کیا ہے، پنجاب بھر کے پروفیشنل وکلاء فیصلے کی حمایت کرتے ہیں لاہور ہائیکورٹ کے فل کورٹ کی طرف سے عدالت عالیہ کے مزید علاقائی بنچ بنائے جانے کے مطالبے کو مسترد کرنے کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے سیکرٹری ہائیکورٹ بار انس غازی نے کہا کہ گوجرانوالہ، ساہیوال، سرگودھا، ڈیرہ غازی خان اور فیصل آباد کے وکلاء کا دیرینہ مطالبہ چلا آ رہا تھا کہ ان ڈویژنوں میں ہائیکورٹ کے علاقائی بنچز بنائے جائیں جس کے لئے ان علاقوں کے وکلاء احتجاج کررہے تھے، انہوں نے کہا کہ ان وکلاء کے مطالبے کا جائزہ لینے کے لئے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ کی صدارت میں ہائیکورٹ کے 47ججز کا فل کورٹ اجلاس 3 دن جاری رہا اور اس اجلاس میں تفصیلی غوروخوض کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ لاہورہائیکورٹ کے مزید علاقائی بنچز نہیں بنائے جا سکتے ، سیکرٹری ہائیکورٹ بار نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ بار سمیت پنجاب بھر کے پروفیشنل وکلاء فل کورٹ کے اس فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں، لاہور ہائیکورٹ کی تاریخ میں پہلے کبھی بھی کسی مسئلے پر فل کورٹ کا اجلاس نہیں ہوا، اب فل کورٹ نے آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ دے دیا ہے تو تمام پروفیشنل وکلاء کو اس فیصلے کو ماننا چاہیے، سیکرٹری ہائیکورٹ نے کہا کہ ہائیکورٹ کو چاہیے کہ وہ دور دراز سے آنے والے وکلاء اور سائلین کے جو مسائل تھے ان کو بھی حل کیا جائے۔

مزید : علاقائی