لنڈی کوتل میں 17 سالہ نوجوان کے موت کی تحقیقات کی جائے ،جواد آفریدی

لنڈی کوتل میں 17 سالہ نوجوان کے موت کی تحقیقات کی جائے ،جواد آفریدی

خیبر ایجنسی(بیورورپورٹ) لنڈیکوتل ہسپتال چوک میں 17سالہ نوجوان سجاد خان کی بجلی کرنٹ سے موت میں غفلت برتنے والے ڈاکٹروں کو معطل کیا جائے،ایمرجنسی میں ناتجربہ کار ڈاکٹروں سے مزید قیمتی جانے ضائع ہونے کا خدشہ ہے،اگر ملوث ڈاکٹروں کے خلاف بروقت کارروائی نہیں کی گئی تو آل سیاسی اتحاد کے ساتھ ملکر احتجاج کیلئے لائحہ عمل طے کرینگے،مرحوم کے بھائی جواد آفریدی اور تاج دار آفریدی کی پریس کانفرنس۔لنڈیکوتل پریس کلب میں جواد آفریدی اور تاج دار آفریدی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز ہسپتال چوک لنڈیکوتل میں کرنٹ لگنے سے سترہ سالہ نوجوان سجاد خان کو جب ایمر جنسی پہنچایا تو ان کی حالت ٹھیک تھی تاہم ایمر جنسی میں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر نے نا اہلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کو دوسر ے ڈاکٹروں کے پاس بھیجا اور وہ خود انکے بلڈ پریشر تک چیک نہ کرسکے اور یہ کہتے رہے کہ B.Pسیٹ خراب ہے جو کہ ہسپتال انتظامیہ کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے انہوں نے کہا کہ کوئی ڈاکٹر ایمرجنسی آنے کیلئے تیار نہیں تھا اس طرح ڈاکٹر کی غفلت کی وجہ سے انکے بھائی چل بسا انہوں نے گورنر خیبر پختونخوا،ڈائریکٹر ہیلتھ فاٹا اور پی اے خیبر سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ غفلت برتنے والے ڈاکٹروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے بصورت دیگر وہ آل سیای اتحاد لنڈیکوتل کے ساتھ ملکر آئندہ کے احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان کرینگے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر