ڈیرہ میں 2011-12 میں ضلعی حکومت کیخلاف کیس کا آغاز

ڈیرہ میں 2011-12 میں ضلعی حکومت کیخلاف کیس کا آغاز

ڈیرہ اسماعیل خان (بیورورپورٹ) صوبائی احتساب کمیشن نے سال 2011اور 2012میں ضلعی حکومت ختم ہونے کے باوجود بھی صوبائی حکومت کی جانب سے ملنے والے 5کروڑ 38لاکھ روپے کی گرانٹ کی خرد برد کی تحقیقات کا آغاز کردیا ۔ تفصیلات کے مطابق فروری 2010میں خیبر پختونخواہ میں ضلعی نظام ختم ہوگیا تھا ۔ مگر صوبائی حکومت کی جانب سے یونین کونسلز کو مسلسل فنڈ مل رہا تھا ۔ 2011-12اور جنوری 2013تک پانچ کروڑ 38لاکھ روپے کا فنڈز نکالاگیا ۔ اس وقت کے ڈی سی او خان بخش مروت تھے ۔ صوبائی احتساب کمیشن خیبر پخونخواہ نے اس بارے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کردیا ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ حکومتی ضوابط کوبلائے طاق رکھ کر سرکاری بنکوں کو نظر انداز کرکے الفلاح بنک میں اکاؤنٹ نمبر 1232کھلوایا گیا ۔ اور اس اکاؤنٹ کھلوانے کیکریڈیٹ میں اس وقت کے فنانس آفیسر کے قریبی عزیز کو بھی تعینات کیاگیا ۔ 18مارچ 2013کو ڈی سی او خان بخش مروت تبدیل ہوئے ۔ جبکہ جنوری 2013میں آخری چیک ایک لاکھ 16ہزار روپے کا کرایا گیا تھا ۔ مذکورہ فنڈز کے ہیر پھر کی شکایت پر ڈائریکٹر لوکل آڈٹ خیبر پخونخواہ نے تحقیقات کی ۔ جن کوخوش کرکے رام کرلیا گیا ۔مگر انہوں نے بھی نوٹ میں تحریر کیا کہ دوبارہ آڈٹ کی جائے اور انہوں نے دو آڈٹ پیرا پر بھی اعتراض کیا ۔ صوبائی احتساب کمیشن کے اعلی آفیسر نے ڈی سی ڈیرہ نثار احمد سے اس بارے ملاقات بھی کی ہے اور فنانس آفس سے ریکارڈ بھی طلب کئے ہیں ۔ جو کہ ا ن کے پاس نہیں ہے ۔ ڈسٹرکٹ فنانس آفیسر کے مطابق مذکورہ ریکارڈ متعلقہ فنانس آفیسر کے پاس ہوگا ۔ تاہم ابھی تک ریکارڈ کی فراہمی عمل میں نہیں لائی گئی ہے ۔ صوبائی احتساب کمیشن کے ذرائع کے مطابق ریکارڈ کی عدم موجودگی اس غبنکو تقویت دیتی ہے اورا س سلسلے میں تمام آفیسر زاوراہلکاروں کو گرفتار کیا جائیگا۔آخری اطلاعات تک صوبائی احتساب کو مذکورہ غبنریکارڈ پیش نہیں کیا گیا ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر