’اب جو کفیل غیر ملکی ملازمین کیلئے یہ کام نہیں کرے گا اسے سرے سے کوئی ملازم رکھنے ہی نہ دیں گے‘ سعودی حکومت نے واضح اعلان کردیا، غیر ملکیوں کو خوشخبری سنادی

’اب جو کفیل غیر ملکی ملازمین کیلئے یہ کام نہیں کرے گا اسے سرے سے کوئی ملازم ...
’اب جو کفیل غیر ملکی ملازمین کیلئے یہ کام نہیں کرے گا اسے سرے سے کوئی ملازم رکھنے ہی نہ دیں گے‘ سعودی حکومت نے واضح اعلان کردیا، غیر ملکیوں کو خوشخبری سنادی

  

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی حکومت نے تمام غیر ملکی ملازمین اور ان کے زیر کفالت افراد کو ہیلتھ انشورنس کی فراہمی لازمی قرار دے دی ہے، اور کفیلوں کو خبردار کردیا ہے کہ ملازمین اور ان کے زیر کفالت افراد کو ہیلتھ انشورنس فراہم نہ کرنے کی صورت میں انہیں آئندہ ملازمین رکھنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

سعودی گزٹ کی رپورٹ کے مطابق کونسل آف کوآپریٹو ہیلتھ انشورنس نے وزارت محنت و سماجی ترقی کے ساتھ مل کر ایک انسپکشن کمیٹی بھی قائم کردی ہے جو اس بات کو یقینی بنائے گی کہ تمام ملازمین اور ان کے زیر کفالت افراد کو ہیلتھ انشورنس فراہم کی جائے۔ کونسل کے ترجمان یاسر المارک کا کہنا تھا کہ یہ قانون سعودی اور غیر ملکی تمام ملازمین کے لئے لاگو ہوگا اور اس کی پابندی نہ کرنے والے کفیلوں کو انشورنس کی رقم کے برابر جرمانے اور مستقل پابندی کی سزا دی جائے گی۔ انسپکشن ٹیمیں باقاعدگی سے معائنہ بھی کریں گی تا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جاسکے۔

’اب اگر کسی کفیل نے غیر ملکی ملازم کا پاسپورٹ اپنے پاس رکھا تو۔۔۔‘ سعودی حکومت نے شاندار اعلان کردیا، غیر ملکیوں کے دل کی بات کہہ دی

پرائیویٹ سیکٹر کے ملازمین کے لئے ون کنٹریکٹ ہیلتھ انشورنس پالیسی کے پہلے مرحلے کا آغاز رواں ماہ کے شروع میں ہوچکا ہے۔ اس کا مقصد انشورنس حاصل کرنے والے ملازمین کے حقوق کا تحفظ اور مملکت میں ہیلتھ انشورنس کی خدمات کو بہتر بنانا ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر کے ملازمین اس سہولت سے استفادہ کرنے کے لئے ہیلتھ انشورنس کے ایک معاہدے پر دستخط کریں گے، جو کہ ان کے لئے اور ان کے زیر کفالت افراد کے لئے بیک وقت کار آمد ہوگا۔ تمام ملازمین کو ہیلتھ انشورنس فراہم کرنے کا منصوبہ چار مراحل میں مکمل کیا جائے گا۔ ہر مرحلہ تین ماہ پر مشتمل ہوگا۔

مزید : عرب دنیا