باپ کی شرمناک حرکت کی سزا بیٹی کو، سسرال والوں نے 14 سالہ حاملہ افغان بچی کو مارمار کر قتل کردیا کیونکہ اس کے باپ نے۔۔۔

باپ کی شرمناک حرکت کی سزا بیٹی کو، سسرال والوں نے 14 سالہ حاملہ افغان بچی کو ...
باپ کی شرمناک حرکت کی سزا بیٹی کو، سسرال والوں نے 14 سالہ حاملہ افغان بچی کو مارمار کر قتل کردیا کیونکہ اس کے باپ نے۔۔۔

  

کابل (نیوز ڈیسک) غیرت کے نام پر حیوانیت اور انسانیت سوز جرائم کا ناسور ناصرف ہمارے ہاں ہی نہیں پایا جاتا بلکہ ہمسایہ ملک افغانستان میں بھی یہ لعنت بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔ اس کی ایک بھیانک مثال صوبہ غور میں پیش آنے والا لرزہ خیز جرم ہے جس کا نشانہ ایک 14 سالہ معصوم لڑکی بنی۔

وہ پاکستانی خاتون صحافی جسے بھارتی پولیس نے قتل کے مقدمے کی تفتیش کیلئے بھارت بُلالیا، گھنٹوں پوچھ گچھ، یہ صحافی کون ہے؟ جان کر آپ کو بھی بے حد حیرت ہوگی

اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق کم عمری میں بیاہ دی جانے والی نوعمر لڑکی زارا کو اس کے سسرال والوں نے بہیمانہ تشدد کے بعد جلا کر مارڈالا۔ سفاکانہ انداز میں قتل کی گئی لڑکی حاملہ بھی تھی۔ رپورٹ کے مطابق زارا کے 45 سالہ والد محمد اعظم کی شادی اس کے خاوند کی ایک کزن کے ساتھ طے پائی تھی۔ زارا کے سسرالی رشتہ دار اپنی لڑکی محمد اعظم کو اس سے لئے گئے بھاری قرض کے بدلے دینا چاہ رہے تھے مگر جب انہیں ایک اور شخص نے زیادہ رقم کی پیشکش کردی توانہوں نے محمد اعظم کو لڑکی دینے سے انکار کردیا۔ محمد اعظم کو انکار کردیا گیا تو وہ لڑکی کے ساتھ ساز باز کر کے اپنے ساتھ بھگا لے گیا، لیکن اس کے کئے کا خمیازہ اس کی بیٹی کو بھگتنا پڑ گیا۔

زارا کے خاوند کی کزن کو محمد اعظم بھگالے گیا تو زارا کے سسرالیوں نے اس کا بدلہ اس سے لینے کا فیصلہ کر لیا۔ اسے ظالمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پھر اس پر پٹرول چھڑک کر آگ لگادی گئی۔ مظلوم لڑکی کابل کے ایک ہسپتال میں تڑپ تڑپ کر زندگی کی بازی ہار گئی۔ اس کے والد محمد اعظم نے انصاف کی اپیل کی ہے لیکن افغانستان میںا س نوعیت کے جرائم کی کثرت اور مجرموں کو سزا دینے میں ریاست کی عدم دلچسپی ظاہر کرتی ہے کہ بیگناہ قتل کی جانے والی زارا کو بھی انصاف ملنے کی کوئی امید نہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس