متحدہ اپوزیشن کا پانامہ پیپرز کی تحقیقات کیلئے پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں مشترکہ بل لانے کا اعلان

متحدہ اپوزیشن کا پانامہ پیپرز کی تحقیقات کیلئے پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں ...
متحدہ اپوزیشن کا پانامہ پیپرز کی تحقیقات کیلئے پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں مشترکہ بل لانے کا اعلان

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)متحدہ اپوزیشن نے  پانامالیکس کے معاملے پر  حکومت سے مزید مذاکرات نہ کرنے کا اعلان  کرتے ہوئے پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں’’ کرپشن بل ‘‘لانے کا فیصلہ کر لیا ، حکومت نے بل کی حمایئت نہ کی تو  سڑکوں پر آنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہو گا ،اپوزیشن جماعتوں میں فوری طور پر حکومت کے خلاف سڑکوں پر آنے کے فیصلے پر اتفاق نہ ہو سکا ، اجلاس میں مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی مظالم اور ریاستی اداروں کے ذریعے انسانی حقوق کی پامالیوں کی شدیدمذمت کرتے ہوئے9 نکاتی  قرارداد منظورکرلی۔

متحدہ اپوزیشن کااجلاس اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں منعقد ہو ا ، اجلاس میں پانامہ پیپرز سے متعلق حکومت کے ساتھ مذاکرات منقطع ہونے کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل پرتبادلہ خیال کیاگیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ متحدہ اپوزیشن کے ٹی او آرز پرحکومت سے مذاکرات نہیں کئے جائیں گے، پانامہ لیکس کی تحقیقات کیلئے پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں  میں کرپشن  بل لایاجائیگا۔اجلاس کے بعدمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹراعتزاز احسن نے کہاکہ ہم جتنی لچک دکھاسکتے تھے ہم نے وزیراعظم نوازشریف اورن لیگ کو دکھائی، وزیراعظم کاموقف تھا کہ وہ خود کو اوراپنے خاندان کو احتساب کیلئے پیش کرتے ہیں اس کیلئے انہوں نے دودفعہ قوم سے خطاب کیا ،سوات اوربنوں کے جلسوں میں خود کواحتساب کیلئے پیش کیا ،لیکن حکومتی وزراء اوران کی ٹیم کارویہ اس کے برعکس تھا، انہوں نے کوشش کی کہ احتساب کی بات ہی نہ ہو،ان کاموقف تھا کہ پانامہ پیپرز کی بجائے ہرجرم جس میں قرضے معافی،کرپشن، رشوت، اوردیگرجرائم کی انکوائری کیلئے ایک کمیشن بٹھایاجائے اور وہ اس میں پانامہ پیپرز کامعاملہ بھی شامل کیاجائے۔

اعتزا زاحسن نے کہاکہ اس طرح 6 سے 7  لاکھ کیسز بنتے ہیں، 3 جج کیسے اتنے کیسز کو دیکھ سکتے ہیں؟ ہمارا موقف تھا کہ مسلم لیگ ن حکومت میں ہے اورحکومت خود ان معاملات کے حوالے سے ایکشن لے، لیکن وہ لیت ولعل سے کام لے رہے ہیں، جب ہم نے حکومت سے مذاکرات ختم کئے تو اسوقت کوئی فیصلہ نہیں ہوا تھا لہٰذا اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم قومی اسمبلی میں ایک بل پیش کرینگے ،حکومت اس بل کی حمایت کرے اگرحکومت نے مخالفت کی توہمارے پاس عوام کی طرف جانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہوگا۔

سینیٹراعتزاز احسن نے کہاکہ اجلاس میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر بھی تشویش کااظہار کیا گیا ہے ،اس ملک میں قانون کی حکمرانی ہونی چاہیے انسانی حقوق کی پامالی چاہے حکومت یاریاستی اداروں کے ذریعے ہورہی ہواس کی مذمت کرتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں اعتزاز احسن نے کہاکہ ہمیں علم ہے کہ ہمارے پاس پارلیمنٹ میں مطلوبہ تعداد میں ارکان نہیں ہیں لیکن حکومت کو موقع دے رہے ہیں کہ وہ ہمار ے ٹی ا و آرز پرمبنی بل پرقانون سازی کرے قومی اسمبلی سے بل پاس کیاجائے تاکہ اس کے  مطابق تحقیقات شروع ہوجائیں ۔انہوں نے کہاکہ بل کانام پاناماپیپرزانکوائری ایکٹ ہے اوراس بل کو سینیٹ کے موجودہ سیشن میں جمع کرایاجائیگا۔ایک اور سوال پرانہوں نے کہاکہ ہم سینیٹ اجلاس میں ہرروز عوامی ایشو پربات کرتے ہیں لیکن کرپشن کاایشو بھی بہت اہم ہے۔اس موقع پر  تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی  کا کہنا تھا کہ اجلاس میں پانامہ پیپرز اور ٹی او آرز کے معاملے پر دیگر اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لیا ہے ۔ اجلاس میں اعتزاز احسن نے حکومت کے ساتھ ہونے والی آٹھ نشستوں کا خلاصہ اپوزیشن جماعتوں کے سامنے رکھا جس کے بعد ساری اپوزیشن نے اس بات پر اتفاق کیا کہ حکومت کا رویہ مثبت نہیں ۔ حکومت نے ہماری لچک کے جواب میں کوئی پیش رفت نہیں دکھائی اپوزیشن اس بات پر قائل ہے کہ حکومت کی آگے بڑھنے کی نیت نہیں ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ٹی او آرز کے معاملے پر حکومت سے مزید مذاکرات نہیں ہونگے ۔ جن ٹی او آرز پر اپوزیشن متفق ہے ان کی بنیاد پر قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ میں اپوزیشن کی طرف سے مشترکہ بل پیش کیا جائے گا۔ سینیٹ اور اپوزیشن کی اکثریت والی صوبائی اسمبلیوں سے بل منظور کرائیں گے ، قومی اسمبلی میں حکومت کی اکثریت ہے ، حکومت اپوزیشن کا بل پاس کروا کر قانون سازی کرے بصورت دیگر فیصلہ سڑکوں پر ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے ہمارے بل کی راہ میں رکاوٹ پیش کی تو اپوزیشن عوام کی طرف جائے گی ۔ سندھ اسمبلی اور خیبر پختونخوا اسمبلی سمیت سینیٹ کے اجلاسوں میں پانامہ پیپرز کے حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر خصوصی بحث کی جائے گی تاکہ حکومت کو اس کا وعدہ یاد کروایا جاسکے ۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اجلاس میں کشمیریوں کے ساتھ اظہاریکجہتی اوربھارتی مظالم کی مذمت کے حوالے سے قرارداد پیش کی گئی ہے جسے اتفاق رائے سے منظورکیاگیا ہے ، قرارداد میں بھارتی مظالم کی شدید مذمت کی گئی ہے اورموقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت پاکستان بھارتی ہائی کمشنرکو دفترخارجہ طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرائے اوراس معاملے کوعالمی سطح پراٹھائے۔ قرارداد میں کہاگیا کہ حکومت پاکستان مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے متعلق عالمی برادری کو آگاہ کرنے کیلئے اپنے سفارتخانوں کومتحرک کرے ۔اس موقع پرعوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہاکہ سب جماعتوں کو ساتھ لیکرچلناپڑتا ہے تمام جماعتیں متفق ہیں بل قومی اسمبلی میں پیش کیاجائیگا اگر رکاوٹیں ڈالی گئیں تو سڑکوں پرآئیں گے وقت آنے پر تمام اپوزیشن جماعتیں متحرک نظرآئیں گی اورعوام کے ساتھ کھڑی ہونگی۔

مزید : قومی /اہم خبریں